اشفاق سلیم مرزا کا فلسفہ تاریخ(2)

تحریر:شاداب مرتضیٰ

اشفاق سلیم مرزا دو متحارب طبقوں کے متضاد فلسفوں کی کشتیوں میں ایک ساتھ سفر کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف وہ تاریخی مادیت کے سائنسی نظریے کی مخالفت میں قدیم غٖیر طبقاتی سماج کے وجود سے انکار کرتے ہیں لیکن دوسری جانب وہ تاریخی مادیت کے نظریہ دان، فریڈرک اینگلز کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ اس نے اپنی تصنیف خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز میں نجی ملکیت کے ارتقاء کا بہت عمدگی سے تجزیہ کیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب میں اینگلز غیر طبقاتی سماج کے تجزیے کا خلاصہ کرتے ہوئے تیسرے باب میں لکھتا ہے کہ ۔۔۔ یہ تھا انسان اور انسانی سماج طبقاتی تقسیم سے پہلے . 
سماجی تحقیقات کی بنیاد پر اینگلز نے انسانی سماج کے ارتقاء کا جو تجزیہ کیا تھا اس کا محور انسانی سماج کے غیرطبقاتی سماج سے طبقاتی سماج میں ارتقاء کی سائنسی وضاحت کرنا تھا اور تاریخی شواہد کے ساتھ یہ دکھانا تھا کہ ہم انسانوں کاابتدائی معاشرہ غیرطبقاتی تھا اورجب یہ طبقاتی معاشرے میں بدلا تو اس میں پرانے غیر طبقاتی سماج کے سماجی ادارے ختم ہوگئے اور نئے سماجی ادارے وجود میں آئے جو نئے طبقاتی سماج کی مناسبت سے طبقاتی ادارے تھے جن میں نجی ملکیت، طبقات اورریاست شامل ہیں۔ 
ریاست کے مارکسی تصور پر اپنی تنقید سے ہمارے علم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اشفاق سلیم 
مرزا کہتے ہیں کہ ریاست کے بارے میں جدلیاتی مادیت کی تان ریاست کے آہستہ آہستہ تحلیل ہوجانے پر آکر ٹوٹتی ہے ۔ جس طرح انہیں یہ یقین ہے کہ سماج میں طبقوں کی موجودگی اور نجی ملکیت ضروری ہے اسی طرح وہ یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ ریاست بھی سماج کے لیے ضروری ہے ۔ 
دنیا کے اکثر ملکوں کی طرح پاکستانی معاشرہ بھی اسی طبقاتی معاشرے کی ایک مثال ہے جسے اشفاق سلیم مرزا انسانی تاریخ کا مقدر اور اس کے تاریخی ارتقاء کی آخری منزل سمجھتے ہیں۔ اشفاق سلیم مرزا کے فلسفہِ تاریخ کے مطابق، مثال کے طور پر، ہمیں موجودہ تباہ حال پاکستانی معاشرے کو، طبقاتی تقسیم اور سماجی استحصال سے لت پت پاکستان کو، اسی طرح قبول کر لینا چاہیے کیونکہ طبقاتی معاشرہ ہی انسان کا مقدر ہے ۔ اس لیے پاکستانی معاشرے کو بہتر بنانے کی، اسے عوام دوست بنانے کی، اس میں سے طبقاتی تقسیم کے خاتمے کی کوشش بیکار ہے ۔ اس ارتقائی نظریے کی رو سے زیادہ سے زیادہ بس یہ ممکن ہے کہ انسانی معاشرے میں نجی ملکیت کی وجہ سے پیدا ہونے والی سماجی برائیاں اپنی شکل تبدیل کرتی رہیں۔ سماجی برائیوں کی قسموں اورشکلوں کی تبدیلی ہی اشفا ق سلیم مرزا کے نزدیک تاریخ کا، انسانی سماج کا ارتقاء یعنی اس کا مقدر اورمستقبل ہے ۔ 
اشفاق سلیم مرزا کے فلسفہِ تاریخ کا نظریہ ان مقولوں پر قائم ہے : انسانی سماج ہمیشہ سے طبقاتی سماج رہا ہے ۔ نجی ملکیت، طبقات اور ریاست کا وجود انسانی سماج کے لیے لازم ہے ۔ (اس لیے ) غیر طبقاتی سماج کا قیام تاریخی طور پرنا ممکن ہے ۔ تاریخی ارتقاء کا مقدرطے کرتا یہ نظریہ ایک جامد نظریہ ہے ۔ اس نظریے کے مطابق تاریخ (انسانی تاریخ، انسانی سماج کی تاریخ) خود کوطبقاتی سماج کے ظلم، جبراوراستحصال کی غلام گردشوں میں ہمیشہ ایک دائرے کی صورت میں دوہراتی رہتی ہے ۔ تاریخی جبرکے اس دائرے کو توڑکرآگے بڑھنا انسان کے لیے ناممکن ہے حالانکہ انسان کی تاریخ اس کے اپنے عمل کا نتیجہ ہے ۔ 
سیاسی سطح پروہ اسیکنڈے نیویا کی فلاحی ریاستوں کو سماجی بہتری کی مثال کے طورپر پیش کرتے ہیں جہاں نجی ملکیت اورعوامی فلاح میں مثبت توازن قائم کیا گیا ہے ۔ انہیں خبر ہونی چاہیے کہ اسکینڈے نیویا کی فلاحی ریاستوں میں سرمایہ دارانہ نجی ملکیت پر استوار بین الاقوامی معاشی نظام میں آنے والے گزشتہ بحران کے سبب مقروض سویڈن دیوالیہ ہوگیا تھا جبکہ دیگرریاستوں میں نجی ملکیت کے ۷تحفظ کے لیے سرمایہ داروں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے اورسماجی تحفظ اورعوامی سہولیات میں تخفیف کرنے کی وجہ سے وہاں عوام کا معیارِ زندگی گرگیا ہے اورسماجی نابرابی میں اضافہ ہوا ہے ۔ 
ظاہر ہے ، سرمایہ دارانہ نظام کے مبلغ، اشفاق سلیم مرزا سے ہم یہ توقع نہیں کرسکتے کہ وہ کیوبا اورشمالی کوریا جیسے اشتراکی ملکوں کو بہترمعاشرے کی مثال کے طورپرپیش کریں کیوں کہ انہوں نے اپنے تئیں، ہیگل کی جدلیات کی سری طاقت سے ، یہ مفروضہ قائم کررکھا ہے کہ کیوبا اور شمالی کوریا جیسے ممالک اس لیے بہتر نہیں کیوں کہ ان میں نجی ملکیت اورطبقات موجود نہیں جنہیں وہ انسانی سماج کے ازلی و ابدی سماجی ادارے سمجھتے ہیں باوجود اس تاریخی حیقت کے کہ مختلف وقتوں میں دنیا کے متعدد ملکوں سے ان ازلی و ابدی سماجی اداروں کو ختم کیا جا چکا ہے اوردنیا بھرکے استحصال زدہ محنت کش عوام ان کے خاتمے کے لیے مختلف سطحوں اوردائروں میں کوشاں ہیں۔ اشفاق سلیم مرزا کے خیال میں یہ لوگ مارکس جیسے رومانیت پسند کے بہکاوے میں آکر تاریخ کے 
دیوتا ہیگل کی حکم عدولی کے مرتکب ہورہیں۔ 
پاکستان کے نوجوانوں اور طالب علموں کی بدنصیبی ہے کہ ان کو صرف دائیں بازو سے نہیں بلکہ بائیں بازو سے بھی ایسے دانش ور اور تنقیدی مفکر میسر ہیں جو مارکسزم جیسی انقلابی اور سائنسی فکر کا نقاب اوڑھ کر تاریخ، سماج، اور انسان کے مستقبل کے بارے میں تقدیر پرستی کے ایسے مڈل کلاس، منافقانہ، قدامتی، دقیانوسی اور شکست خوردہ فلسفے موٹی موٹی کتابیں لکھ کر فروخت کر رہے ہیں اور انسان و سماج دشمن سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال کے دفاع کے لیے اس کے نظریاتی وکیل بن کر محنت کش عوام کو اعتدال پسندی، نظریاتی منافقت، اورطبقاتی مصالحت کی تبلیغ کررہے ہیں۔ 
تاریخی مادیت پراشفاق سلیم مرزا کا انتقاد، ان کا ہیگیلی فلسفہِ تاریخ کس قدر دقیانوسی ہے اس کا اندازہ جدلیاتی و تاریخی مادیت کے نظریہ دانوں، مارکس اور اینگلز، کی پہلی مشترکہ تصنیف مقدس خاندان میں ہیگیلی عینیت پسندوں کے ایک جرمن گروہ، برونوبائیر اینڈ کمپنی، کے تنقیدی انتقاد پراس رائے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ 
انتقاد سوائے اس کے کچھ اور نہیں کرتا کہ جو موجود ہے یہ اس کی اقسام سے فارمولے گھڑتا ہے ، یعنی موجودہ ہیگیلی فلسفے سے اورموجودہ سماجی تمناؤں سے ۔ فارمولے ، کچھ اورنہیں بس فارمولے ۔ اورعقیدہ پرستی پراپنی دشنام طرازیوں کے باوجود یہ خود کو عقیدہ پرستی کے آگے ڈال دیتا ہے ، حتی کہ نسوانی عقیدہ پرستی کے ۔ یہ ایک بوڑھی عورت ہے ، مرجھائی ہوئی، بیوہ ہیگیلی فلسفہ، جو بناؤسنگھار کرکے ، خود کوانتہائی کراہت انگیزتجرید میں لپیٹ کرپورے جرمنی میں کسی عاشق کی تلاش میں نگاہِ شوق لٹاتی پھرتی ہے ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں