بھنبھری کے پروں پربیکٹیریا کےزندہ نہ رہنےکا راز دریافت

کوئنز لینڈ:ماہرین ایک عرصے سے جانتے ہیں کہ بارشوں کے بعد گھروں اور درختوں پر منڈلاتی ہوئی بھنبھری (ڈریگن فلائی) کے پروں میں کوئی بیکٹیریا نہیں آسکتا لیکن ماہرین نے ایک عرصے بعد اس کا اصل راز دریافت کرلیا۔اس سے قبل اس کیڑے کے پروں کے متعلق جو بھی تحقیق ہوئی وہ ناکام اس لیے ہوئی کہ بھنبھری کے پر بہت نازک ہوتے ہیں اور خردبین کی تیز روشنی سے تباہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے لیے کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (کیویوٹی) کے ماہرین نے ایک خاص ٹیکنالوجی کے ذریعے ان پروں کی تصاویر لی ہیں۔

مزید پڑھیں :پوری نیند اورمناسب پانی سے جھریوں کا بہترین علاج

اس سے ظاہر ہوا ہے کہ بھنبھری کے پروں پر 10 ارب باریک ترین ابھار ہوتے ہیں جو بیکٹیریا کو تہس نہس کردیتے ہیں۔سائنس دانوں نے اسکیننگ ہیلیئم آئن مائیکرو اسکوپ ( ایچ آئی ایم) کے ذریعے ڈریگن فلائی کے پر کی حیرت انگیز تصاویر لی ہیں جن میں اس کے پروں پر موجود نینو خدوخال بھی نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک پر کے اوپر لگ بھگ 10 ارب کے قریب باریک ابھار ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان بیکٹیریا پھنس کر رہ جاتے ہیں اور جب وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
بھنبھری کے پروں پربیکٹیریا کےزندہ نہ رہنےکا راز دریافت
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں