مدارس میں اصلاحات کے سوال پر مزاحمت کیوں؟

تحریر:رشاد بخاری

مدارس کے نظام اور نصاب تعلیم میں اصلاحات پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر کے مسلم معاشروں میں ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے ۔ برصغیر پاک و ہند کی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کو، جسے مولانا محمد قاسم نانوتوی نے 1867 ء میں شاہ ولی اللہ دہلوی کی علمی وراثت کے تسلسل میں قائم کیا تھا، جدید مسلم دنیا میں قدیم اور روایتی دینی علمی روایت کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے ۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضلین نے دنیا بھر میں خاص طور پر ہندستان، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں بے شمار مدارس قائم کیے ۔ دیوبند کے مخصوص فکری رجحان اور دینی تعبیرات نے رفتہ رفتہ اسلام کے حوالے سے موجود مختلف فکری دھاروں میں ایک مذہبی مکتب فکر کے طورپر اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ 
جنوری2011 ء میں مولانا غلام محمد وستانوی کو جب دارالعلوم کا نیا مہتمم مقرر کیا گیا تو ان کی تعیناتی کو دارالعلوم کی طرف سے اپنے نصاب میں وسیع البنیاد اصلاحات پر آمادگی کا ایک اشارہ سمجھا گیا۔ مولانا وستانوی اس سے قبل ہندوستان کی ریاستوں گجرات اور مہاراشٹر کے متعدد مدارس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ کالج کی سطح تک جدید علوم بھی متعارف کرا چکے تھے اور دینی و دنیوی تعلیم کے امتزاج کا ایک کامیاب ماڈل پیش کر چکے تھے ۔ وہ دیوبند سے فتوؤں کے اجرا کو بھی ریگولیٹ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ پاک و ہند کے مدارس کی اکثریت میں دارالعلوم دیوبند کے اثر و رسوخ کو مدنظر رکھا جائے تو یہ فیصلہ مدارس میں تعلیم اور طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے ممکنہ طور پر نہایت دور رس اثرات کا حامل تھا، مگر بدقسمتی سے صرف سات ماہ کے قلیل عرصے میں مولانا وستانوی کو دارالعلوم دیوبند کی قیادت کے منصب سے برخاست کر دیا گیا۔ 
دارالعلوم کی تاریخ میں یہ پہلی مثال تھی جب کسی مہتمم کو مجلس شوریٰ نے اس طرح فارغ کیا ہو۔ (ان سے قبل مولانا مرغوب الرحمان تقریباْ تین عشروں تک دارالعلوم کے مہتمم رہے تھے اور2010 ء میں ان کی وفات کے بعد یہ عہدہ خالی ہوا تھا۔) سات ماہ کی یہ مختصر مدت بھی مولانا وستانوی نے اپنے منصب کی بقا کی جدوجہد میں گزاری۔ ہوا یوں کہ اپنی تعیناتی کی شام کو ہی ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانا وستانوی نے 2003 ء میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان میں اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ (اور موجودہ ہندستانی وزیر اعظم) نریندرا مودی کے ملوث ہونے کے حوالے سے سوالات کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں میں مظلومانہ ذہنیت پیدا ہو۔ 
ان کے جواب کو ان کی طرف سے نریندرا مودی کی حمایت پر محمول کیا گیا اور مسلمانوں اور خاص طور پر دارالعلوم کے طلبا کے گروہوں کی طرف سے ان کی شدید مخالفت شروع کر دی گئی۔ احتجاج ہوئے اور بالآخر مجلس شوریٰ کی طرف سے دو تہائی ووٹوں کی اکثریت سے انہیں ان کے عہدے سے معزول کر دیا گیا۔ ایک حلقے کی طرف سے مولانا وستانوی کی معزولی کو مدارس میں بے حد ضروری اصلاحات کا ایک سنہری موقع گنوا دینے کے مترادف سمجھا گیا تو دوسری طرف اس بات کی خوشی منائی گئی کہ دارالعلوم کے تقویٰ، طہارت اور خالصتاًدینی ماحول اور روایت کو جدت کی ممکنہ آلائش سے بچا لیا گیا ہے ۔ 
۷اس واقعہ سے اگرچہ بہت سے سبق نکالے جا سکتے ہیں تاہم اس سے مدارس میں موجود دو فکری دھاروں کی نشاندہی واضح طور پر ہوتی ہے ۔ سادہ سے الفاظ میں ایک وہ ہیں جو مدارس میں قدیم کے ساتھ جدید اور دینی کے ساتھ دنیوی علوم کے بھی خواہاں ہیں اور عصری علوم کی تدریس کو خاص طور پر یہاں کے طالب علموں کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ اور دوسرے وہ ہیں جو جدت کی کسی آلائش کے بغیر قدیم اور مرکزی اسلامی علوم (قرآن و سنت اور متعلقہ علوم و فنون) کی حفاظت اور ترویج کو ہی واحد مقصد قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس مقصد سے ذرا سا انحراف بھی خود مدارس کے وجود کا جواز ختم کر دیتا ہے ۔ بظاہر دونوں نقطہ ہائے نظر اپنی اپنی جگہ اخلاص پر مبنی نظر آتے ہیں اور مکمل طور پر قابل فہم ہیں۔ (گہرائی میں جائیں تو اور کئی ظاہر و پوشیدہ اسباب و عوامل کا جائزہ لیا جا سکتا ہے جسے کسی اور وقت کے لیے اٹھا 
رکھتے ہیں)۔تعلیم و تعلم میں تبدیلی اور اختراع، اسلامی قدامت پسندی کی تاریخ میں ہمیشہ ایک نازک اور حساس موضوع رہا ہے ۔ دارالعلوم دیوبند کے ایک سابق طالب علم ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ جن کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے اور جو اس وقت مشہور مغربی جامعہ ،یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم، امریکہ میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں، اپنی تازہ ترین انگریزی کتاب (مدرسہ کیا ہے ؟) میں لکھتے ہیں: 
“اسلامی دنیا میں صدیوں سے تعلیم کے حوالے سے دو نقطہ ہائے نظر یا رجحانات میں کشمکش رہی ہے ۔ ایک نقطہ نظر کے مطابق علم کی جڑیں اس انسانی سماجیات میں ہیں جو نیکی کے تصور سے جڑی ہیں۔ دنیا [اور دنیا داری سے علمی سطح پر] اس کا گہرا ربط ہے ۔ 
لیکن یہ دنیا داری وہ ہے جس میں اخروی نجات کا تصور بدرجہ اتم موجود ہے ۔ درحقیقت علم کی اس دنیوی روایت کو اسلامی تاریخ میں بلند رتبہ حاصل رہا ہے ۔ 
یہ علم ان لوگوں میں بھی تفہیم کے در وا کرتا ہے جو غیر مذہبی انداز میں اسے سمجھنا چاہتے ہیں۔ اس میں زیادہ مقبولیت ادب، شاعری، کلام کو حاصل ہوئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے فلسفے ، تاریخ اور ادبیات، لسانیات (فلالوجی ۔تاریخی متون کی تفہیم و تعبیر) کو بھی نہایت سنجیدگی سے لیا ہے ، تاہم اس نقطہ نظر کی واضح مقبولیت اور فائدہ مندی کے باوجود، علم کی اس دنیوی روایت کو اسلامی دنیا میں ہمیشہ، خاص طوپر جدید دور میں، ایک دوسرے [خا لصتاٌاخروی نجات کے ] رجحان سے مسابقت پیش آئی۔ اگرچہ دونوں رجحانات میں مشترکات موجود ہیں لیکن اخرویت کا دوسرا رجحان خانقاہی تصور کے مطابق ایسے علم کے حصول پر زور دیتا ہے جس سے اخروی نجات حاصل ہو۔ [چنانچہ] تفسیر، حدیث، سیرت اور فقہی علوم کے حصول سے ہی نیکی کا تصور وابستہ کر دیا گیا۔ 
ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کے اس طویل اقتباس سے علوم کی مفروضہ دینی اور دنیوی کروں میں تقسیم اور مدارس میں تعلیم کی ترجیحات کے حوالے سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں،لیکن کسی علمی بحث میں پڑے بغیر ایک سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اخروی نجات دنیا کو مکمل طور پر نظر انداز یا رد کرنے کی ہماری (بظاہر نا قابل عمل) خواہش میں ہے یا انسانوں کو نفع پہنچانے والے علوم میں ہمارا حصہ (کنٹری بیوشن) بھی ہمارے لیے نجات کا باعث بن سکتا ہے ؟ 
بظاہر اس پر استفسار کی گنجائش موجود ہے کہ دین اور دنیا میں تقسیم اور علیحدگی کا تصور سیکولرازم کے دعویداروں نے پیش کیا ہے یا خود مذہب کے علمبرداروں نے ؟ زندگی کو خانوں میں بانٹنے اور تقسیم در تقسیم کے عمل سے دوچار کردینے کی روایت ہمارے علمی ورثے سے نکلی ہے یا ہماری مسلکی فکر سے ؟ 
کیا یہ ممکن ہے کہ عملی سیاست بھی کی جائے ، سیاسی تحریکیں بھی چلائی جائیں، حکومت کرنے کی خواہش اور یہ حق رکھنے کا دعویٰ بھی کیا جائے اور اپنے اداروں میں سیاسی اور تاریخی فلسفہ و نظریات کی تدریس سے بے اعتنائی بھی برتی جائے ۔ انسانوں کی اصلاح اور سماجی برائیوں کے خاتمے کی خواہش اور کوشش بھی کی جائے ، اور ان لوگوں پر جن سے آپ دعوت و تبلیغ کی توقع کرتے ہیں، سماجیات، نفسیات اور لسانیات جیسے علوم کے دروازے بھی بند کیے جائیں۔ دنیا میں اپنی فضیلت کا دعویٰ بھی کیا جائے اور سائنسی اکتشافات اور علوم و فنون سے نظریں بھی چرائی جائیں، دنیا اور اس کی ترغیبات سے بچنے کی تلقین بھی کی جائے اور تعیشات دنیا کی خواہش بھی کی جائے ؟ اپنے اساتذہ اور طلبہ سے زہدوتقویٰ، دنیا سے بے اعتنائی، مال و اسباب سے بے نیازی کی توقع بھی کی جائے اور خود دینی علوم کے تحفظ کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے کاروبار چلائے جائیں اور تمام آسائشوں اور پروٹوکول پر اپنا حق سمجھا جائے ؟یہ اتنی سامنے کی بات ہے کہ اسے سمجھنا شاید کسی کے لیے بھی زیادہ مشکل نہیں اور سچ کہوں تو شاید اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں ہے ۔ جی ہاں اتنا بڑا نہیں۔ 
اصل مسئلہ شائد کچھ اور ہے ، اس کی جڑیں ہمیں اپنے ہاں کی طبقاتی تقسیم میں ڈھونڈنی ہوں گی۔ ہمارے ہاں کے مذہبی طبقات بھی اشرافیہ، درمیانہ اور عامیہ میں تقسیم ہیں۔ اصل مسئلہ یہاں بھی شاید ملکیت کا ہے ، مفاد کا ہے ، کنٹرول کا ہے ۔ 
کہیں ایسا تو نہیں کہ مدرسوں کے یہ بچے اگر جدید علوم و فنون سے واقف ہو گئے ، دنیا کی مارکیٹ میں دوسرے تعلیم یافتہ افراد کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو گئے ، ان کے پاس مسجد کی امامت اور مدرسے میں تدریس سے بڑھ کر کچھ آپشن آگئے ، اگر وہ معاشی اور فکری طور پر آزاد ہو گئے تو کچھ مقتدر طبقات کے مفادات پر زد پڑ سکتی ہے ؟ 
نجانے کیوں مجھے ان جاگیرداروں کی کہانی یاد آنے لگی ہے جو اپنے علاقوں میں اس لیے سکول نہیں بننے دیتے کہ اگر یہ بچے پڑھ لکھ گئے تو پھر ان کی زمینوں کی دیکھ بھال اور ان کی چاکری کون کرے گا؟کیا اسی لئے مدارس کے نظام و نصاب میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی ضرورت کا سوال جب بھی اٹھتا ہے اسے عام طور پر بیرونی عناصر کی سازش سے تعبیر کیا جاتا ہے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں