کراچی کا ووٹر 2018ء میں کدھر جائے گا

تحریر:شیخ خالدزاید

پاکستان کی سیاست ،سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے مرہون منت ہوتی ہے ، اس سیاست میں نہ تو سیاسی جماعتوں کا عمل دخل ہوتا ہے اور نہ ہی ان جماعتوں کے منشورکا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جماعت کا سربراہ ہی منشور ہوتا ہے اور جماعت اسی سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوجاتی ہے ۔ پاکستانیوں نے یہ بات سمجھنے میں دیر کردی ، ہمیں اسی وقت سمجھ آجانا چاہئے تھا جب پاکستان مسلم لیگ قائدِ اعظم کے ساتھ ہی دفن کردی گئی تھی۔ جب سے پاکستان بنا ہے کوئی بھی فرد ایک سیاسی جماعت بنا لیتا ہے اور کچھ نامعلوم ارباب اختیار اس کو اپنے کسی خاص مقصد کیلئے ایک وقت تک استعمال کرتے ہیں پھر یا تو اس جماعت کا سربراہ نہیں رہتا یا پھر وہ جماعت نہیں رہتی۔ اور جماعت سے کچھ وابستہ لوگ اس میں سے نکل کر نئی جماعت بنالیتے ہیں۔ حقیقتاً سیاسی مقاصد سوائے کاروبار کے اور کچھ بھی نہیں ہیں اگر ہوتے تو پاکستان اور پاکستان کے عوام کی یہ حالت نہ ہوتی۔ کسی بھی جماعت سے وابستہ افراد کی ترجیحات میں تبدیلی ، جماعت میں شگاف ڈالنے کا بنیادی عنصر ہوتا ہے ۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتیں کچھ بنیادی اصول اور اقدار پر استوار ہوتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں چھوٹے چھوٹے اختلافات کی بنیاد پر برسوں کے تعلقات بھینٹ چڑھا دئیے جاتے ہیں۔ اسی جمہوری طرز کی وجہ سے پاکستانی سیاست میں ایک معتبر نام مشاہد حسین سید نے مسلم لیگ (ق) سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی۔ اب وہ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کریں گے ۔ سید صاحب کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے جمہوریت کیلئے بہت کچھ کیا ہے ۔یہ لکھنا تکلیف کا باعث ہے کہ کوئی بھی جماعت اپنی تقسیم کی بدولت انجام کو پہنچنا شروع ہو جاتی ہے ۔ ایم کیوایم سندھ میں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کو سندھ میں کمزور کرنے کیلئے بنائی گئی تھی۔ ایم کیو ایم بن تو گئی لیکن پہلے دن سے ہی عدم تحفظ کی آب و ہوا میں پلتی اور بڑھتی چلی گئی ۔ ایم کیو ایم کا وجود جامعہ کراچی میں تشکیل پایا تھا۔ اسے بنانے والا کراچی کا اعلی تعلیم یافتہ طبقہ تھا۔ ایم کیوایم کا مسئلہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے مختلف دکھائی دیتا ہے ۔ ایم کیو ایم والوں کو کیا کچھ نہیں کہا گیا اور کہا جاتا ہے مگر یہ جماعت اپنے قائد کی طبعی غیر موجود گی کے باوجود بھی منظم طریقے سے چلتی رہی ۔ اس جماعت کو بارہا دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ، طرح طرح کے الزامات بھی لگائے گئے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان الزامات کے غلط ثابت کرنے والے بھی منظر عام پر آتے رہے ۔ یہ جماعت ایک منظم تنظیم ہونے کے باعث اپنی بقاء کی جنگ لڑتی ہوئی یہاں تک تو پہنچ گئی ہے، مگر اس ایم کیوایم کو بنانے والا تعلیم یافتہ طبقہ کہیں بہت پیچھے رہے گیا اور تعلیم کو بیکار اور وقت ضائع کرنے والی شے سمجھنے والے اس تنظیم میں اکثریت کی صورت میں جمع ہوگئے ۔ انہوں نے جیسے قیادت کو اپنے نرغے میں لے لیا۔ 
ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والا ہر شخص مشکوک ہوتا چلا گیا۔ کراچی روشنیوں کا شہر مانا جاتا تھا اور علم و شعور کا مرکز بھی تھا ۔ ایم کیوایم پر اس سے بڑا کوئی الزام نہیں ہوسکتا کہ انہوں نے تعلیم کو اہمیت نہیں دی اوراس پر بالکل دھیان نہیں دیا کہ تنظیم سازی و رکنیت سازی میں تعلیم کا کوئی معیار رکھا جاتا ۔ شائستگی اور ادب جو کراچی کی تہذیب تھی آج کہیں دروازوں کے پیچھے بیٹھی سسکیاں لیتی ہے اور ان سسکیوں کی صدائیں سارے شہر میں سنی جاتی ہیں۔ کراچی کے قبرستانوں میں جتنی نوجوانوں کی قبریں ہیں اتنی عمر رسیدہ لوگوں کی نہیں ہیں۔ کراچی والوں نے ایم کیوایم پر ایسا بھروسا کیا جو شاید ہی اس ملک کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت پر اس کے چاہنے والوں نے کیا ہوگا۔ یہ کراچی والوں کا ہی حوصلہ اور ہمت ہے کہ اتنے مصائب کے ساتھ جی رہے ہیں لیکن ابھی تک اف نہیں کررہے ۔ ایم کیوایم بھی صورت حال کو بدلنے کے لئے کچھ نہ کرسکی۔ ایم کیوایم کا ووٹر بد ظن ہوتا چلا گیا۔ درحقیقت ایم کیوایم کے کاندھوں پر نسلوں کا بوجھ ہے اور یہ ایسا بوجھ ہے جسے کہیں پھینکا نہیں جاسکتا اور نہ ہی منتقل کیا جاسکتا ہے ،لیکن ایم کیو ایم کو مختلف ادوار میں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی کراچی کی تباہی کی ذمہ دار ہیں ۔ 
اس وقت تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان مقبولیت کی معراج پر ہیں اور ملک کو ہرقسم کی تقسیم سے نجات دلانے کا عزم لئے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح مصطفی کمال کی سربراہی میں پاک سرزمین پارٹی نے جنم لیا ہے ۔ اس جماعت کے سربراہ بھی عمران خان کی سیاسی بصیرت سے متاثر نظر آتے ہیں اور انہی کی طرز کا منشور اپنائے ہوئے ہیں۔ پی ایس پی کا وجود میں آنا اس بات کی دلیل سمجھی جاسکتی ہے کہ اب ایم کیو ایم کو سیاسی داؤ پیچ سے پس پشت دھکیلنے کی کوشش کی جائے گی ۔ پاکستان کی سیاسی تبدیلیوں میں کوئی طاقت اس سارے عمل کے پیچھے موجود ہوتی ہے ، جو قدرت کے بعد ہمیشہ ہی رہتی ہے اور انتہائی منظم بھی ہے ۔ ایم کیوایم سے دیرینہ مائنس ون کا تقاضا تھا ، وہ پورا ہوگیا۔ ایم کیوایم کے قائد پر پابندی لگائی گئی اور انہیں منظر سے ہٹا دیا گیا ۔ ایم کیوایم نے اپنے نام کے ساتھ پاکستان لگا لیا۔ اب ایم کیوایم کی پھر تقسیم ہوئی اور پاکستان اور لندن کے لاحقے لگا دیئے گئے ۔ پھر ایم کیوایم پاکستان میں حالیہ تقسیم کی خبریں گردش کر رہی ہیں جن کے ساتھ ایم کیوایم پاکستان (پی آئی بی) اور (بہادرآباد) لکھا جا رہا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1992 میں ایم کیوایم (حقیقی) سے شروع ہونے والا سلسلہ 2018 میں ایم کیوایم پاکستان (پی آئی بی) اور (بہادرآباد) تک پہنچ چکا ہے ۔ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کیا قیادتیں تقسیم ہوئی ہیں یا کارکنان بھی تقسیم ہوچکے ہیں ۔ 
ہم کسی کے جلسے کی بنیاد پر اس کے ووٹر ز کا اندازہ نہیں لگا سکتے ۔ تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ مسائل پر سیاست نہ کریں بلکہ مسائل کے حل کیلئے سیاست کریں۔ پوائنٹ اسکورنگ چھوڑدیں۔ اب عوام بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے ۔ ملک کے اداروں کو تعظیم و تکریم دی جائے ۔ نئی نسل آپ کو دیکھ کر آگے بڑھے گی۔ اب وقت آچکا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ کوئی سیاسی ضابطہ اخلاق مرتب دیں جس میں سیاست کو تقویت دینے پر زور دیا جائے ۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کئے بغیر کام کریں اور ایک دوسرے کی عزت و احترام یقینی بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں