رینگنےوالےجانوروں کےذریعےایران کی جاسوسی ہورہی ہے

ایران کے مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے عسکری مشیر جنرل حسن فیروز آبادی کا کہنا ہے کہ ’’ماحولیات کے شعبے میں کام کرنے والے بعض کارکنان جاسوس ہو سکتے ہیں اور ان کو اس کا علم بھی نہیں‘‘۔ 
فیروز آبادی نے یہ بات ماحولیات کے شبعے سے تعلق رکھنے والے کئی کارکنان کی گرفتاری اور ان میں ایک کارکن ’’کاوؤس سید امامی‘‘کی جیل میں ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔منگل کے روز اِلنا خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے فیروز آبادی نے دعوی کیا کہ ’’مغربی ممالک ماحولیات کے بعض کارکنان کے ذریعے ایران کی جاسوسی کر رہے ہیں اور اس واسطے رینگنے والے جانوروں کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔

مزید پڑھیں :اسرائیلی فوجی کوتھپڑمارنےوالی عہد تمیمی عدالت میں پیش

اس طرح ایرانی جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے ‘‘۔انہوں بتایا کہ ’’فلسطین کے لیے امداد جمع کرنے کے عنوان سے ایران آنے والے کئی کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔ سفر مکمل کرنے کے بعد یہ لوگ جب تہران پہنچے تو ملک سے کوچ کرنے سے قبل ان کے پاس سے مقامی طور پر خریدے گئے بعض رینگنے والے جانور برآمد ہوئے جن میں گوہ، چھپکلی اور گرگٹ شامل ہیں۔ ہم نے یہ دیکھا کہ ان جانوروں کی کھال نے جوہری لہروں کو جذب کر رکھا ہے ۔ لہذا اس ان جاسوسوں نے اس طرح سے یورینیئم کی کانوں اور جوہری سرگرمیوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا‘‘۔ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کاوؤس سید امامی کی میت کو اس کے حوالے کرے ۔ امامی اپنی گرفتاری کے چند روز بعد تہران کی ایفین جیل میں پراسرار طور پر فوت ہو گئے تھے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایرانی حکام سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر امامی کی وفات کی آزاد تحقیقات کرائی جائیں۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ حکام امامی پر تشدد اور پھر ان کی ہلاکت کے امکان کے حوالے سے شواہد کو چھپا رہے ہیں۔ تنظیم نے مذکورہ محقق اور ماحولیات کے کارکن کی جیل میں خود کشی سے متعلق ایرانی حکومت کی کہانی کو مشکوک قرار دیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق رپورٹوں سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایرانی عہدے داران نے امامی کی میت ان کے گھر والوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور سکیورٹی ادارے بنا پوسٹ مارٹم امامی کی جلد تدفین چاہتے ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
رینگنےوالےجانوروں کےذریعےایران کی جاسوسی ہورہی ہے
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں