مرد معاشرہ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ۔اماں حوا کو بابا آدم کی پسلی سے پیدا فرما کر اللہ نے حضرت انسان کا نہ صرف جوڑا پیدا فرمایا بلکہ اسی لمحے مرد کو تا قیامت عورت کا کفیل اور اس سے برتر بھی کر دیا۔ عورت کا وجود ،مرد کے لئے تسکین کا باعث ٹھہرا،تو مرد کے لئے بھی یہ لازم قرار دے دیا گیا کہ عورت پر نہ تو بلاوجہ ظلم و ستم کرے اور نہ ہی اس کا کسی بھی حوالے سے استحصال کرے۔ عورت ہر رشتے میں مرد کے لئے قابل تکریم و تحسین ٹھہری تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیاکہ مرد کی پیروی اور تعمیل حکم کو بھی لازم ہے۔نیک عورت کا ساتھ دنیا میں جنت ملنے کے برابر قرار دیا گیاکہ ایسی عورت جو اپنے مرد کی غیر موجودگی میں اس کے بستر کی حفاظت کرتی ہے،کو جنت کی ضمانت دی گئی ہے۔ مرد کی مردانگی یہ ہے کہ وہ کسی بھی رشتے میں زیر کفالت عورت کی ہر جائز ضرورت کو پورا کرے،اور فرمان ہے کہ جس نے دو بچیوں کی پرورش کی،اس کے لئے جنت لازم ہے لیکن کیا زیر کفالت بچی،لڑکی یا عورت کی ضروریات فقط جنت کے حصول میں پوری کی جانی چاہئیں یا یہ مرد کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت خواتین کی ضروریات کو پورا کرے؟فی زمانہ جب آسائشیں بنیادی ضروریات کا درجہ اختیار کر چکی ہوں اور وسائل دن بدن سکڑتے جا رہے ہوں،اس پس منظر میں بالعموم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک کنبے میں فقط کمانے والا ایک ہاتھ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے،تب ایک نوجوان لڑکی /خاتون کو میدان عمل میں نکلنا پڑتا ہے تا کہ وہ اپنے کنبے کی ضروریات پوری کرنے میں اپنا کردار نبھائے۔ یاکوئی ناگہانی صورتحال،کسی عورت کو ذریعہ معاش کی ذمہ داری اٹھانے کی خاطر میدان کارزار میں قدم رکھنے پر مجبور کرتی ہے کہ گھر کا اکلوتا کمانے والا دنیا میں نہ رہا ہو اور دوسرا مرد ابھی اس قابل نہ ہو یا گھر میں کوئی دوسرا مرد ہی موجود نہ ہو،تب ایک گھریلو خاتون کو مردوں کی اس منڈی میں باہر نکلنا پڑتا ہے۔ بنیادی طور پر ایک فلاحی معاشرے میں (زیادہ بہتر الفاظ میں ایک اسلامی فلاحی معاشرےٍ میں)یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے خاندانوں کی کفالت کرے مگر افسوس ایسی کسی بھی اسلامی فلاحی ریاست کا وجود فی الوقت کرہ ارض پر موجود نہیں،لہذا کئی ایسی خواتین کو بہ امر مجبوری پیٹ کا ایندھن بھرنے کی خاطر گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھنا پڑتا ہے۔



گور پیا کوئی ہور

گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھتے ہی ،بیمار ذہن معاشرے کے ’’بیمارمرد‘‘ جن کے نزدیک عورت صرف ایک کھلونا ہے،اس کی طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں اور حیلے بہانے،چرب زبانی،سبزباغ دکھاتے اس کھلونے سے کھیلنے کی کوششوں میں جت جاتے ہیں۔ ان بیمار ذہنوں میں ایسے بھی ہیں،جو فقط ہوس زدہ نظروں سے دیکھتے ہیں ،کچھ ذومعنی فقرے چست کرتے ہیں،کچھ براہ راست مطلب کی بات پر آتے ہیں۔ گھٹن زدہ معاشرے کے گھٹن زدہ باسیوں کی طرح،ندیدے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں،اپنی مالی حیثیت سے کسی مجبور و بے کس کا استحصال کرتے ہیں اور جنسی تسکین کو ہی مطمح نظر گردانتے ہیں،ان ندیدوں کے نزدیک مغربی سرمایہ دارانہ معاشرے کی طرز پر ’’کوئی بھی کھانہ مفت نہیں ملتا‘‘اور قیمت کے عوض ایک مجبور عورت کو جنس بازار بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ مغرب زدہ یہ سرمایہ کار بھول جاتے ہیں کہ مغرب میں قانون کس طرح بروئے کار آتا ہے وہاں یہی دیسی سرمایہ کار کسی خاتون کا اس طرح استحصال کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ وہاں کے قوانین ان کو نانی یاد کروا دیتے ہیں ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی دفتری امر میں کوئی بھی سرمایہ کار اپنی کسی خاتون ساتھی کو جنسی طور پر ہراساں کر سکے ،کہ ثابت ہونے پر لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری طرف مشرقی معاشرے کی دم توڑتی ،مگر ابھی بھی کسی قدرموجود روایات، کسی عورت کو سر بازار لٹ جانے کے باوجود دہائی دینے سے روکتی ہیں،قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے سے منع کرتی ہیں کہ ایسا کرنے سے ایک اور اذیت ناک دور کا سامنا کرنا پڑتا ہے،بہتری اسی میں سمجھی جاتی ہے کہ خاموش رہا جائے۔ در حقیقت خاموشی کے پیچھے ،حالات اور معاشرے کا جبر پنہاں ہیں کہ اس تعفن زدہ اور سنی سنائی پر یقین
کرنے والے معاشرے میں،یکطرفہ طور پر فیصلہ سنانے والے یہی فیصلہ سناتے نظر آتے ہیں کہ سارا قصور ہی عورت کا ہے،ایک خاتون کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ لٹنے کے باوجود خود کو بے قصور ثابت کرسکے،قوانین کے مطابق اپنے مقدمے میں ایسے ایسے ننگے سوالات کا سامنا کر سکے ،جو اس کی رہی سہی ’’عزت نفس ‘‘ کا جنازہ بھرے بازار نکال دیں۔
حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب عورتوں کے حقوق کی نمائندگان کے ساتھ بھی ایسی گھٹیا حرکات ہوتی ہیں،کون نہیں جانتا کہ مسلم ممالک اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کے بارے میں کیسے کیسے نازیبا کلمات ان کے مخالفین کہا کرتے تھے،نجی محفلیں ہوتی یا عوامی اجتماع،پارلیمنٹ کا ایوان ہوتا یا پریس کانفرنسیں، ایسے ایسے رکیک اور گندے جملے کسے جاتے کہ الامان الحفیظ۔نامور خواتین کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا،ان کی اجتماعی عصمت دری کی گئی،انہیں قانون کے سامنے کس طرح رگیدا گیا(میں کسی کا نام بھی یہاں لکھنا مناسب نہیں سمجھتا کہ ایسے مقدمات ’’بیمار ذہنوں میں ہمیشہ تازہ رہتے ہیں‘‘)،کس ملزم کو سزا ہوئی؟البتہ یہ ضرور ہوا کہ اپنے وقت کی نامور خواتین اس ملک کو ہی چھوڑ گئی۔ آج بھی جبرو دھونس کی مکمل آزادی نظر آتی ہے کہ ایک فنکارہ اگر پرفارم کرنے سے انکار کردے تو اس کو گھر میں گھس کر قتل کر دو،کون پوچھنے والا ہے؟پارلیمنٹ میں آج بھی خواتین اراکین کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے ،وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ،مخالفت میں کسی بھی حد تک گذر جانے سے گریز نہیں کیا جاتا،انتہائی نا مناسب الفاظ ،پارلیمنٹ کے فلور پر،خواتین ممبرز کے متعلق کہے جاتے ہیں،انہیں کمتر سمجھا جاتا ہے،مردانگی کی دلیل رعب و دبدبہ میں ڈھونڈی جاتی ہے۔ یہاں ایک قصہ/کہاوت برمحل ہے جو مردانگی کا مطلب سمجھانے کی خاطر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک شخص کسی حکیم کے پاس اپنے علاج کی خاطر گیا اور بیان کیا کہ میری بیوی مجھے اکثر ’’نامرد‘‘ کہتی ہے براہ کرم میرا علاج کریں۔ حکیم نے اسے چند پڑیاں استعمال کرنے کے لئے دی،چند ہفتوں بعد وہی شخص دوبارہ حکیم کے پاس آیا اور اپنی شکایت دہرائی،حکیم نے اسے دوبارہ چند پڑیاں استعمال کرنے کے لئے دی مگر چند دنوں بعد وہ شخص پھر ’’علاج‘‘ کی خاطر حکیم کے پاس حاضر ہو گیا۔ حکیم خود صورتحال سے پریشان ہو گیا اور اپنے مریض سے کہا کہ اگلی مرتبہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ لائے،اگلی مرتبہ دونوں میاں بیوی حکیم کے پاس حاضر ہوئے تو حکیم کے پوچھنے پر خاتون نے نہ صرف اپنے خاوند بلکہ حکیم کو بھی اچھی خاصی سنا دیں اور حکیم کو بھی ’’نامرد‘‘ کا خطاب دیدیا کہ خاتون کا استدلال تھا کہ اپنے میکے میں اس نے کبھی بھی اپنے والد یا بھائیوں کے منہ سے خواتین کو گندی گالیاں دیتے نہیں سنا تھا جبکہ اس کا خاوند اسے ،بچوں کے سامنے،انتہائی نازیبا الفاظ میں پکارتا ہے۔
خاتون کا یہ کہنا تھا کہ اس کے خاوند کا سر شرم سے جھک گیا اور حکیم کا اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ حقیقت یہی ہے کہ عورت جس کی زیر کفالت ہے ،اس سے تعظیم و تکریم چاہتی ہے،عورت کے نزدیک مرد کی ’’مردانگی‘‘ یہی ہے کہ اس کے ساتھ کسی بھی رشتے میں موجود مرد اس کی عزت کرے،اس کو اس کا صحیح مقام دے، بدقسمتی سے محترم جناب چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اپنی ایک حالیہ تقریر میں برطانوی وزیر اعظم کے ایسے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا،جو نہ صرف انہیں کسی صورت زیب نہیں دیتے بلکہ ان کے مقام و مرتبے کے بھی خلاف ہیں۔ قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ عورت کو ٹیڑھی پسلی سے بنایا گیا ہے،اس کے ساتھ معاملات میں اعتدال برتو نہ زیادہ سخت ہو کہ وہ ٹوٹ جائے اور نہ زیادہ نرم کہ وہ تم پر حاوی ہو جائے (مفہوم) لیکن ہمارے’’مرد معاشرے‘‘ کے مرد اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
مرد معاشرہ
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں