گور پیا کوئی ہور

معروف ماہر قانون، انسانی حقوق کی کارکن، لبرل اقدار کی بے باک علمبردار برین ہیمرج کا شکار ہوکر انتقال کرگئیں۔ان کی حیات جتنی ہنگامہ پرور تھی، ان کی موت بھی حشر سامانیوں کے ساتھ وارد ہوئی۔اس وقت سوشل میڈیا میں ان کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑا ہے ۔ان کی حمایت میں پاکستان کی لبرل خیالات کی مالک سیاسی و سماجی کمیونٹی ہی نہیں بلکہ بائیں بازو کے مارکس وادی بھی اپنے تمام تر تحفظات کے باوجود ان کی سماجی و سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے میں آگے آگے ہیں۔عاصمہ جہانگیر کی مخالفت میں اس وقت سب سے زیادہ وہ لوگ سرگرم ہیں جن کو عاصمہ جہانگیر کی جانب سے عدالتی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پہ تنقید کا نشانہ بنائے جانے پہ سخت غصہ اور تکلیف ہے ۔اس وقت سوشل میڈیا پہ عاصمہ جہانگیر کے ایمان اور کفر، حب الوطنی اور غداری کے بارے میں فتوے جیسی فیس بک پوسٹیں اور ٹوئٹر پہ تھریڈز ایسے لوگوں کے ہیں جن کو پاکستان کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ پہ عاصمہ جہانگیر کی تنقید کبھی پسند نہیں آئی۔عاصمہ جہانگیر پہ قدامت پرستوں کے اندر تکفیری اور مذہبی جنونیت کے حامل ایک بڑے سیکشن کی تنقید کا سبب ان کے بھٹو اور جنرل ضیا الحق کے دور میں مذہب کے نام سے بنائے جانے والے قوانین کے نفاذ پہ تنقید ہے ، جن کا استعمال عورتوں، مذہبی و نسلی اقلیتوں کے خلاف بار بار کیا گیا اور عاصمہ جہانگیر مظلوم خواتین اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کے ان قوانین سے متاثر ہونے والوں کی وکیل بن کر پیش ہوتی رہیں اور انہوں نے ان مظلوموں کے لئے مہم بھی چلائی۔عاصمہ جہانگیر سے پاکستان کی غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ کی ناراضی کا سبب سب کو معلوم ہے ۔ایک تو انہوں نے ہندوستان اور افغانستان کے معاملے پہ ڈیپ سٹیٹ، تزویراتی گہرائی اور اس کے ذیل میں آنے والی جہادی پراکسیز کو کبھی سپورٹ نہیں کیا اور اس کی ہمیشہ مخالفت کی، بلکہ وہ پاکستان کی سیاسی، سماجی خراب صورت حال کا سب سے بڑا ذمہ دار انہی پالیسیوں کو سمجھتی تھیں۔وہ جمہوری لبرل اقدار کی بالادستی کی دل و جان سے قائل تھیں۔انھوں نے انسانی حقوق، شہری آزادیوں کے حق میں اور ریاست کے مطلق العنان اقدامات کے خلاف سفر 18 سال کی عمر میں 1971ء میں شروع کردیا تھا۔وہ قانون کی طالبہ تھیں جب ان کے والد ملک غلام جیلانی کو پاکستان ڈیفنس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور پھر ان کی گرفتاری کے حکم کو مارشل لاء کے ضابطے سے بدل دیا گیا تھا۔ان پہ اس وقت کی حکومت نے شیخ مجیب الرحمان، مکتی باہنی اور بھارت سے روابط اور اندرا گاندھی کو خطوط لکھ کر پاکستان پہ حملہ کرنے کی دعوت دینے کے الزامات عائد کیے تھے ۔ان کے والد کے خلاف دائیں بازو کی سیاسی مذہبی جماعتوں کے حامی پریس نے پروپیگنڈا شروع کیا اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان جو صدر کا عہدہ سنبھالے ہوئے تھے ، کی اجازت سے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر زون سی نے ملک کے خلاف غداری کا الزام لگا کر نظر بند کردیا تھا۔اس زمانے میں ہفت روزہ میگزین ‘زندگی’ لاہور میں ملک غلام جیلانی مرحوم سے منسوب اندرا گاندھی کے نام جعلی خطوط بھی شائع کیے گئے ۔عاصمہ جہانگیر نے اپنے والد کی نظربندی کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کرنے کے لیے جب وکلا برادری سے رابطہ کیا تو کوئی قابل وکیل ان کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے کو تیار نہ ہوا۔اس پہ عاصمہ جہانگیر نے اصالتاً پیش ہونے کی استدعا کی جسے سپریم کورٹ نے منظور کرلیا اور یہ کیس 1971ء میں 22 جنوری کو دائر ہوا اور 1972ء میں اس کا فیصلہ عاصمہ جہانگیر کے حق میں آیا۔اس کیس میں سپریم کورٹ نے نہ صرف ملک غلام جیلانی کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیا بلکہ یحییٰ خان کے مارشل لا کو بھی غیر قانونی قرار دے ڈالا۔



زندہ رہی اور ڈٹ کے زندہ رہی

یہ کیس عاصمہ جیلانی بنام وفاق پاکستان کیس کے نام سے جانا جاتا ہے ۔عاصمہ 1974ء میں قانون کی ڈگری لینے کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاہور میں نوجوان وکیل کے طور پہ پریکٹس کرنے لگیں۔اس دوران وہ لامحالہ اپنے والد کے سیاسی نظریات کی اسیر تھیں۔ان کے والد کو ہم لبرل ڈیموکریٹ کہہ سکتے ہیں جو پہلے حسین شہید سہروردی کی عوامی لیگ سے وابستہ رہے ۔ان کے بارے میں یہ بہت واضح ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں سے نالاں تھے ۔ان کی بھٹو کی مخالفت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے جب بھٹو صاحب کے خلاف پاکستان نیشنل الائنس بنا تو وہ لاہور میں اس کے سرکردہ رہنماؤں میں شامل تھے ،لیکن پانچ جولائی 1977ء میں جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پہ قبضہ کرلیا اور پھر سیاسی و شہریوں آزادیوں پہ پابندیاں لگنا شروع ہوئیں اور جنرل ضیاء نے مذہب کے نام پہ خواتین و اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے آرڈیننس نافذ کرنا شروع کیے تو عاصمہ جہانگیر بہت کھل کر جنرل ضیاالحق کے خلاف میدان میں اترگئیں۔اس زمانے میں انھوں نے پاکستان کی بالعموم اور لاہور کی بالخصوص ایسی خواتین سماجی ایکٹوسٹ کے ساتھ مل کر ویمن ایکشن فورم کی بنیاد رکھی اور عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین کے نفاذ کے خلاف مال روڈ پہ ایک جلوس میں شرکت ان کو جنرل ضیاء کے خلاف چلنے والی سماجی کارکنوں کی تحریک میں مین سٹریم میں لانے کا سبب بن گئی۔جنرل ضیاالحق کے زمانے میں ہی انھوں نے ترقی پسند، روشن خیال وکلا اور سماجی کارکنوں کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کی تشکیل میں اہم ترین کردار ادا کیا۔اس کمیشن نے پاکستان بھر میں عورتوں، بچوں، مذہبی اقلیتوں، بانڈڈ لیبر، مزارعوں، کسانوں، سیاسی قیدیوں وغیرہ کے حقوق کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔عاصمہ جہانگیر اپنی آخری سانس تک ان سب افتادگان خاک کے لیے لڑتی رہیں۔ان کے دائیں بازو، مذہبی جنونیوں اور رجعت پرستوں سے اختلافات کے رجحانات تو بہت واضح تھے لیکن ان کے کچھ ایسے اقدامات تھے جن کو لیفٹ کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی زندگی کے آخری چند سالوں میں یہ تنقید کافی زیادہ سامنے آئی۔عاصمہ جہانگیر پاکستان کے ان لبرل دانشوروں میں شامل تھیں، جو میاں نواز شریف کے خلاف پاناما سے لے کر احتساب عدالتوں کی کارروائی کو ایک سازش خیال کرتے ہیں۔انھوں نے پاناما کیس میں نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف بیانات دیے اور ٹی وی ٹاک شوز میں انھوں نے اپنے موقف کا دفاع کیا۔اب جب سپریم کورٹ نے جب نواز شریف کی نااہلی کی معیاد کا تعین کرنے اور پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات کے بل کی ایک شق چیلنچ کیے جانے والی درخواست کی سماعت شروع کی تو وہ نواز شریف کے وکیل کی حیثیت سے سپریم کورٹ میں بھی پیش ہوگئیں۔ان کے ناقدین کا کہنا تھا کہ نواز شریف بدعنوان،آمریتوں کا ساتھی، شخصی اقتدار کا بھوکا، سعودی نواز، کالعدم تنظیموں کا سرپرست ہے اور وہ صرف اپنے شخصی اقتدار اور کنٹرول کو بحال کرانے کی جنگ لڑرہا ہے ۔ اس کی لڑائی پارلیمنٹ کی بالادستی کی لڑائی نہیں ہے ۔عاصمہ جہانگیر کو شاید پہلی مرتبہ علانیہ اس معاملے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور بقول آصف علی زرداری کے انھوں نے نواز شریف کے معاملے پہ عاصمہ جہانگیر کی جانب سے ثالثی کی کوشش کو بھی مسترد کردیا تھا۔عاصمہ جہانگیر کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کچھ سیکشن کی جانب سے بھی ان کی ترجیحات پہ تنقید کا نشانہ ان کے آخری دنوں میں منایا گیا۔شیعہ نسل کشی اور شیعہ کمیونٹی کو ان کی شناخت پہ نشانہ بنائے جانے پہ مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف رائے عامہ بیدار کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کا الزام تھا کہ وہ شیعہ نسل کشی کے خلاف اس طرح سے سرگرم نہیں ہوتیں جس طرح سے
وہ کرسچن اور احمدی کمیونٹی کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ بلند آہنگ سے سرگرم ہوتی ہیں۔ان پہ صوفی سنّی کمیونٹی کی جانب سے مزارات، عرس، میلوں اور میلاد النبی کے جلوسوں پہ ہونے والے حملوں اور صوفی سنّی کمیونٹی کو سعودی فنڈڈ تکفیری عسکریت پسندی کی جانب سے کمتر بنائے جانے کے پروسس پہ خاموشی کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے ۔
میں نہیں سمجھتا کہ عاصمہ ان ایشوز پہ کسی مصلحت اور خوف کے سبب خاموش تھیں بلکہ شاید ان کے خیال میں ان ایشوز کو غیرجمہوری قوتیں جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کے لیے استعمال کررہی تھیں، اس لیے وہ اس پہ محتاط ردعمل دے رہی تھیں اور حقیقت بھی یہی تھی۔
عاصمہ جہانگیر پہ ان دو اطراف کی تنقید کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے نظریات اور احساسات کو بیان کرنے میں کسی دوست و دشمن کی ناراضی یا خوشی کی پروا نہیں کرتی تھیں۔
میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ سچے دل سے نواز شریف کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی سازش کے تصور کو ٹھیک خیال کررہی تھیں اور ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔ حامد میر کے بقول نواز شریف نے ایک وفاقی وزیر کو ملٹری کے افسروں سے مذاکرات کرنے کو کہا تھا، عاصمہ جہانگیر کو نواز شریف کی اس حرکت کا پتاچلتا تو یقینی بات ہے ان کو سخت افسوس ہوتا۔عاصمہ جہانگیر نے جتنی جدوجہد کی وہ کمال تھی اور اس نے پاکستانی سماج میں بہت سے مظلوموں کو جینے کا حوصلہ دیا۔اس پہ وہ خراج عقیدت کی مستحق ہیں۔
ان کی ذات کا جہاں بھی تذکرہ ہوگا، ان کو اچھے الفاظ میں ہی یاد کیا جائے گا۔سندھ کے چیف منسٹر مراد علی شاہ نے عاصمہ جہانگیر کی تدفین کو ریاستی سطح پہ سرانجام دینے کے لیے پرائم منسٹر کو خط لکھا ہے لیکن جس صوبے میں ان کی وفات ہوئی، اس صوبے کے چیف منسٹر شہباز شریف نے اب تک ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔اول تو شاہد خاقان عباسی کو خود سے یہ اعلان کردینا چاہیے تھا۔کہیں مسلم لیگ نواز کے ارباب اختیار ‘بوائز’ کی ناراضی کے خطرے کے پیش نظر عاصمہ جہانگیر کے جنازے کو ریاستی اعزاز کے ساتھ دفنانے سے گریز تو نہیں کررہے ؟

Summary
Review Date
Reviewed Item
گور پیا کوئی ہور
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں