فلسطینی زمین پر یہودیوں کا حق تسلیم کرنے کا معاملہ

سعودی عرب کے ولی عہد اور قومی معاملات میں ‘اسٹرانگ مین’ کی حیثیت رکھنے والے شہزادہ محمد بن سلمان نے فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کے بطور قوم آباد رہنے کے حق کو تسلیم کرنے کی بات کرکے ایک گنجلک اور مشکل بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ امریکہ کے تین ہفتے کے دورہ کے دورا ن ایک جریدے ‘اٹلانٹک’ کے ایڈیٹر جیفری گولڈ برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ‘ میرے خیال میں دنیا میں کہیں بھی لوگوں کو پرامن قوم کے طور پر زندہ رہنے کا حق حاصل ہے ۔ ہمیں بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے مذہبی تشویش ہے اور ہم فلسطینی عوام کے حقوق کے بارے میں متفکر ہیں۔ اس اصول سے قطع نظر ہمیں کسی قوم کے خلاف کوئی اعتراض نہیں ہے ’۔ سعودی ولی عہد کے اس بیان کو اسرائیل کے بارے میں سعودی عرب کے بدلتے ہوئے رویے کی تصدیق کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ مبصر اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ سعودی عرب نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے جو مسلمہ سعودی پالیسی کے برعکس بیان ہے ۔ شہزادہ محمد چونکہ شاہ سلمان کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ بنیں گے اور خادم حرمین شریفین بھی ہوں گے ، اس لئے اس بیان کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے ۔سعودی عرب ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور 2002 ء سے سعودی حکام نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ کو ختم کروانے کے لئے دو ریاستی اصول کو منوانے کے لئے کام کیا ہے ۔ لیکن بنجیمن نیتن یاہو کی حکومت خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتی ہے اور تسلسل سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بسانے کا کام کیا جارہا ہے ۔ اس طرح ہر آنے والے دن کے ساتھ فلسطینیوں سے ان کے علاقے چھینے جارہے ہیں اور انہیں بنیاد ی حقوق سے محروم کرنے کے لئے جبر اور استحصال کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ متعدد قراردادوں کے ذریعے یہودی بستیاں بسانے کے اقدام کو غیر قانونی اور فلسطینی لوگوں کے بنیادی حقوق اور عالمی ادارے کی قراردادوں کے علاوہ بنیادی انسانی اصولوں سے متصادم قرار دیتی ہے ۔ دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی غزہ کے علاقے میں محصور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیوں کہ اسرائیل نے اس علاقے کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع کر رکھا ہے ۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے میں حماس کی مقبولیت کی وجہ سے اسے اپنی سیکورٹی کے لئے یہ اقدام کرنا پڑتا ہے حالانکہ کسی ایک تنظیم یا گروہ کی پالیسی کی سزا اس علاقے میں آباد سب لوگوں کو دینا بنیادی انسانی اصولوں کے خلاف ہے ۔ 
اسرائیل برسوں سے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کی کسی بڑی کوشش کا حصہ بننے سے بھی گریز کرتا رہا ہے ۔ گزشتہ دو امریکی صدور کے سولہ سالہ دور میں فلسطینیوں کے لئے سہولت حاصل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی ہے ۔ اسرائیل یہودی بستیوں کی آبادکاری کی پالیسی تبدیل کرنے اور دو ریاستی بنیاد پر مسئلہ طے کرنے کے بارے میں امریکہ کا مشورہ ماننے سے بھی انکار کرتا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ مضبوط یہودی لابی کی وجہ سے اسرائیل پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ واشنگٹن کی طرف سے ہمیشہ اسرائیل کی حفاظت کو عذر بنا کر اسرائیلی حکومت کی ہر بے اعتدالی کا تحفظ کیا جاتا ہے، حالانکہ اسرائیل نے نہ صرف فلسطینیوں کا جینا حرام کررکھا ہے اور انہیں بنیادی شہری حقوق دینے سے انکار کرتا ہے بلکہ وہ ہمسایہ عرب ملکوں کے لئے بھی مسلسل خطرہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ گزشتہ 50 برس کے دوران اسرائیل عسکری لحاظ سے اس قدر طاقت ور ہوچکا ہے کہ کوئی عرب ملک اس کے لئے فوجی خطرہ بننے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود اسرائیل کی سیکورٹی کا نعرہ لگا کر فلسطینی عوام کو مسلسل محروم کیا جارہا ہے ۔ بیشتر ہمسایہ عرب ممالک میں امریکہ نواز حکومتیں قائم ہیں اور وہ اپنی کمزوری اور امریکہ سے وابستگی کی بنا پر اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ ان میں کسی حکومت میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ کمزور لفظوں میں اسرائیل کے اقدامات پر ‘ناراضگی’ کا اظہار کرنے کے علاوہ کوئی ٹھوس قدم اٹھا سکیں۔ایران نے اپنے علاقائی مفادات کے تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں اپنی طاقت تسلیم کروانے کے لئے فلسطینیوں کے حق کے لئے ضرور آواز اٹھائی ہے لیکن امریکہ اور سعودی عرب کی طرف سے ایران کو مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا گڑھ قرار دینے کی وجہ سے اس کا اثر و رسوخ محدود ہے اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ۔ ان حالات میں سعودی عرب ایک ایسا طاقت ور ملک ہے جو سیاسی، سفارتی اور معاشی لحاظ سے مستحکم ہے اور حرمین شریفین کی وجہ سے اسے بیشتر اسلامی ملکوں میں رہنما کی حیثیت بھی حاصل رہی ہے ۔ تاہم یکے بعد دیگرے سعودی بادشاہ فلسطین کے مسئلہ کو حل کروانے کے لئے مؤثر اقدام کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ صدر ٹرمپ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے بعد امریکہ کے سب سے قابل اعتماد حلیف کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے ۔ ٹرمپ سابق صدر باراک اوباما کے برعکس ایران کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی کو مسترد کرتا ہے ۔ یہی رویہ سعودی عرب اور اسرائیل کا بھی ہے ۔ یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود اسرائیل اور سعودی عرب میں تعاون کے لئے پیش رفت ہوئی ہے ۔ اس کا مظاہرہ صدر ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کے بعد مسلمان ملکوں کے سخت رد عمل کے مقابلے میں سعودی قیادت کے متوازن اور معتدل طرز عمل سے بھی ہؤا تھا۔ اس فیصلہ پر احتجاج کرنے کے لئے جب ترکی کے صدرطیب اردوآن نے اسلامی سربراہ کانفرنس بلوائی تو سعودی شاہ نے خود یا اپنے کسی معتمد کو اس کانفرنس میں بھیجنے کی بجائے کم تر سطح کے سرکاری اہلکاروں پر نمائیندگی کی تھی تاکہ یہ نہ کہا جاسکے کہ سعودی عرب نے عالم اسلام کے امریکی فیصلہ کے خلاف احتجاج کا ساتھ نہیں دیا، لیکن عملی طور پر وہ اس احتجاج کا حصہ نہیں رہا۔سعودی عرب اپنی حیثیت اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر فلسطین کا مسئلہ بہتر طریقے سے حل کروانے کی پوزیشن میں رہا ہے ۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اسرائیل کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور معاشی مفادات میں اضافہ کی بنیاد پر وہ اسرائیل کو بھی کسی قابل قبول حل پر آمادہ کرنے کی پوزیشن میں رہا ہے ۔ اگر سعودی قیادت تہہ دل سے اس مسئلہ پر کام کرتی تو اس بات کا امکان تھا کہ اسرائیل کو اپنی سلامتی کی ضمانت ملنے پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکتا تھا۔ لیکن سعودی عرب نے اس قسم کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی۔ اس کی وجہ فلسطینی قیادت کے بارے میں سعودی عرب کے تحفظات ہیں۔ سعودی رہنما سمجھتے ہیں کہ فلسطینی لیڈر خود مختاری ملنے کے بعد ان کے مفادات کی حفاظت کرنے کی بجائے اخوان یا ایران کے اثر کو زیادہ قبول کریں گے ۔ اسی الجھن کی وجہ سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے لئے سعودی عرب نے چشم پوشی کو ہی بہتر پالیسی سمجھا ہے ۔ اب وہ ایران کو کمزور کرنے کے لئے امریکہ کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ بھی ہر قسم کا تعاون 
کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے ۔ شہزادہ محمد کا بیان اسی سعودی پالیسی کا اشارہ ہے ۔فلسطین کی سرزمین کے بارے میں فیصلہ کا حق صرف فلسطینی عوام کو ہے ۔ سعودی ولی عہد اسرائیل سے کوئی رعایت حاصل کئے بغیر یک طرفہ طور پر اسرائیل کے حقوق کو تسلیم کرنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ زیر نظر بیان میں بظاہر شہزادہ محمد بن سلمان نے فلسطینیوں کے حق کی بات کی ہے لیکن وہ اس حق کے لئے اس جذبہ سے بھی بات نہیں کرسکے جس کے ساتھ اسی انٹرویو میں انہوں نے سعودی عرب میں مطلق العنان بادشاہت برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسرائیل محفوظ ہے اور کوئی ملک یا محروم فلسطینی لوگ اسے نقصان پہنچانے کے قابل نہیں ہیں۔ اس کے برعکس فلسطینی نسل در نسل پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ یا اپنے ہی گھروں میں مجبور شہریوں کی زندگی گزارتے ہیں۔ بیت المقدس پر ان کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جارہا ہے اور اب امریکہ نے دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ سعودی عرب اس فیصلہ کو رکوانے یا اس کے بدلے فلسطینیوں کو کوئی رعایت لے کر دینے میں ناکام رہا ہے ۔سعودی عرب کو فلسطینی عوام کا نمائیندہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے بادشاہ خادم حرمین شریفین کے طور اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گزشتہ ستر برس میں فلسطینی بے وطنی کا عذاب جھیل رہے ہیں اور اپنے ہی علاقوں میں زندہ رہنے کے حق کی جد و جہد میں انہوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ سعودی ولی عہد ایران دشمن ایجنڈے کی تکمیل کے لئے فلسطینیوں کے اس بنیادی حق کی بات کرنے کی بجائے اسرائیل کے وجود اور یہودیو ں کے فلسطین پر حق کو تسلیم کرکے فلسطینیوں کا مقدمہ کمزور کرنے کا سبب بنے ہیں۔ 
نگران وزیراعظم کے لیے موزوں ناموں پرغور 
وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی طرف سے27اپریل کوآئندہ وفاقی بجٹ پیش کرنے اورجولائی کوپولنگ کامہینہ قراردینے کے بعد یہ با ت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلم لیگ(ن)کی حکومت کی مدّت کے اختتام الٹی گنتی شروع ہوچکی ۔3جون2013ء کواقتدار سنبھالنے والی جماعت کے پاس31مئی2018ء سے آگے کامینڈیٹ ہی نہیں جبکہ ملک کے اندر خدانخواستہ ایسی صورتحال بھی نہیں کہ انتخابی عمل کوٹالاجاسکے۔آئینی پابندی کے تحت وزیراعظم اورقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تومل کرعبوری عرصے کے لیے نگران وزیراعظم کے لیے کسی غیرجانبداراورتقریباََ تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے قابل قبول شخص کاانتخاب عمل میں لاناہے ۔اس مقصد کے لیے قائدحزب اختلاف خورشیدشاہ متعدد مرتبہ حکومت کے ساتھ رابطے جبکہ ایک مرتبہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کے ساتھ ملاقات بھی کرچکے ہیں۔مروجہ طریقہ کار کے مطابق حکومت اوراپوزیشن تین تین نام سامنے لاتی ہیں جن پرباہمی مشاورت سے نام شارٹ لسٹ کرلئے جاتے ہیں جن میں سے کسی ایک نام پراتفاق رائے کے بعد وہ شخص 90روز کے لیے عنان حکومت سنبھال لیتاہے یاپھرمعاملہ پارلیمنٹ میں لے جاتاہے اگروہاں کسی نام پراتفا ق رائے ہوسکے توٹھیک وگرنہ نگران وزیراعظم کے لیے ناموں کی فہرست الیکشن کمیشن کے پاس بھجوادی جاتی ہے جوبہترین آپشن کے تحت حتمی نام کااعلان کردیتاہے۔اب تک کی پیشرفت کاجائزہ لیاجائے تویہ بات کھل کرسامنے آتی ہے کہ نگران وزیراعظم کے لیے نام میاں نوازشریف کی رضامندی یاچوائس سے سامنے آئے گالیکن انتخابی سرگرمیوں ،احتساب عدالت میں پیشیوں اورمسلم لیگ(ن) میں تیزی سے سراٹھاتی گروپ بندیوں کے باعث سابق وزیراعظم ابھی کسی حتمی نتیجے پرنہیں پہنچ سکے۔اس کے ساتھ ہی پارٹی کے سربراہ شہبازشریف کی مشاورت بھی ضروری ہے جبکہ وہ تیرہ دن بعد پاکستان واپس آئے ہیں۔اب تک کی مشاورت کے بعد سامنے آنے والے چارناموں میں سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی،سابق سپیکر حامد ناصر چٹھہ اورسیدفخرامام کے علاوہ بیوروکریٹس میں سے سابق گورنرسٹیٹ بنک ڈاکٹرعشرت حسین کے نام نمایاں تھے ۔میاں نوازشریف نے گزشتہ دنوں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کوخورشیدشاہ کے ساتھ مشاورت سے روکتے ہوئے واضح کیاتھا کہ نگران وزیراعظم کے لیے نام وہ خوددیں گے۔آئینی ترمیم کے باعث یہ بات طے ہے کہ تنہاحکومت کے تجویزکردہ نام کی کوئی اہمیت نہیں جبکہ اپوزیشن پارٹیاں بھی نگران وزیراعظم کے لیے اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کوکوئی نام نہیں دے پائی ہیں۔پارلیمانی جمہوریت کے تقاضوں میں صبروتحمل،برداشت اور مشاورت ضروری ہوتی ہے ۔حکومت اوراپوزیشن گاڑی کے دوپہیّے سمجھے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں بھی اعتماد کابدترین فقدان پیداہوچکاہے۔یہ بات طے ہے کہ نگران وزیراعظم تومحض کیئرٹیکر ہوتاہے ۔اسے کوئی پالیسی یااہم فیصلے کرنے کاکوئی اختیارنہیں ہوتا مگرخودکوسٹیٹسمین سمجھنے والے ابھی تک ایک دوسرے پربھروسہ کرنے کے لیے تیارہیں نہ عارضی سیٹ اپ کے لیے 21کروڑ عوام میں سے کسی ایک فرد پر اتفاق کررہے ہیں ۔تحریک انصاف اپنی الگ ڈگڈگی بجا رہی ہے ۔خودکوملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت قراردینے والے عمران خان اپنی مرضی کانگران وزیراعظم چاہتے ہیں جبکہ جماعت اسلام کے سینیٹرسراج الحق بھی عبوری حکومت کے لیے اپنامعیار پیش کررہے ہیں۔چیئرمین نیب کاانتخاب ہویاکسی دیگرآئینی ادارے کے سربراہ کاتقرر،بدقسمتی سے اختلافات یامعیار کی ایسی ایسی صورتحال سامنے لائی جاتی ہے کہ قوم اپنے قائدین کی سوچ پردنگ رہ جاتی ہے۔امریکہ ،برطانیہ ،بھارت ،جاپان ،سری لنکا،کینیڈا جیسے ملکوں میں جنہیں کافریا ملحدسمیت پتہ نہیں کیاکیا خطاب دئیے جاتے ہیں، نئے الیکشن کااعلان ہوتے ہی اقتدار میں بیٹھے افراد رضاکارانہ طورپربے اختیار ہوجاتے ہیں اورالیکشن کمیشن شفاف وغیرجانبدارانہ الیکشن کروادیتاہے۔اعتماد کے اس شرمناک فقدان کاعلاج شایدکہیں بھی نہیں۔اگرحکومت اوراپوزیشن کی جماعتوں میں کسی نام پراتفاق نہیں ہوسکتا توزیرغور ناموں کی فہرست پارلیمنٹ میں پیش کرکے کسی نام پراتفاق رائے کرلیاجائے ۔کسی ریٹائرڈجج یابیوروکریٹ پربھی اتفاق کیاجاسکتاہے۔مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق میاں نوازشریف کسی ایسے شخص کونگران وزیراعظم دیکھناچاہتے ہیں جسے ورلڈ بنک ،آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی گروپوں کی حمایت حاصل ہوتاکہ الیکشن جیتنے کی صورت میں مسلم لیگ ن کے لیے موجودہ بیرونی قرضوں کی ری ایڈ جسٹمنٹ سمیت مزید نئے قرضے لیناآسان ہواوراگراپوزیشن کسی ایسے شخص کی مخالفت کرے توالیکشن میں کامیابی کی صورت میں ان کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اوربڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات استوارکرنے میں مشکلات پیداہو سکتی ہیں۔اس سلسلے میں میاں نوازشریف کسی معین احمد طرز کے امپورٹڈ نگران وزیراعظم کانام بھی سامنے لاسکتے ہیں۔اگرچہ مسلم لیگ ن سے ایسی سوچ کی توقع تونہیں لیکن اگرمیاں نوازشریف ایساچاہتے تویہ افسوسناک رویہ ہوگا۔ پاکستانی قوم آئندہ کسی امپورٹڈ نگران وزیراعظم کوقبول کرے گی نہ برداشت کرے گی کیونکہ یہ ملکی آزادی وخودمختاری کے لیے درست نہیں ہوگا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں