ریاست یرغمال ہے ؟

پاکستانی سیاست دان دست و گریبان ، ادارے برسر پیکار اور لوگ حیران و پریشان ہیں۔ اقوام متحدہ نے دہشتگردوں کی نئی فہرست جاری کرتے ہوئے دنیا کو یاددہانی کروائی ہے کہ پاکستان ایک ایسا ‘ناقابل اعتبار ’ ملک ہے کہ اس کے 139 افراد یا تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث اور عالمی سطح پر مطلوب ہیں۔ ان میں القاعدہ کے ایمن الظواہری کے علاوہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید اور بھارت سے تعلق رکھنے والا بدنام زمانہ مجرم ابرہیم داؤد بھی شامل ہے ۔ اصولی طور پر تو جب عالمی ادارہ کسی ملک کے بعض شہریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں تو یہ اس ملک کو خبردار کرنے کا طریقہ ہونا چاہئے تاکہ اس کے حکام اور عوام یکساں طور سے چوکنے ہوجائیں اور جان لیں کہ کون لوگ ان کے مفادات کے دشمن ہیں، لیکن ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے طویل تجربہ کے بعد سیکھ لیا ہے کہ دشمن ہر جگہ گھات لگائے ہمارا منتظر ہے اور وار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔ یہ دشمن اگر دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں فیصلہ سازوں کو پاکستانی مفادات کے خلاف فیصلے کرنے پر مائل کرتا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اقوام متحدہ اس کی دسترس سے دور ہو۔ لہذا اس قسم کی چتاونی کو ہم بطور قوم ایک کان سے سنتے دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ البتہ یہ یاد رکھتے ہیں کہ دشمن ہمیشہ دوسرے کے گھر میں تلاش کیا جائے اور غلطی سے بھی اپنی صفوں پر نظر نہ دوڑا لی جائے کہ کہیں اس نے ہمارے بیچ ہی مورچہ نہ سنبھالا ہؤا ہو۔ اس لئے حافظ سعید ہو ، ملا عبدالعزیز ہو یا ایمن الظواہری، ہمارا دل ان کی محبت میں دھڑکنے لگتا ہے لیکن اگر ملالہ للکار کر فائرنگ کے حملہ سے جاں بر ہونے کے چھ برس بعد چار روز کے لئے وطن کا دورہ کرلے اور جذبات سے بھری آواز میں اس ارض مقدس سے اپنی محبت کا ‘افسانہ’ سنائے تو ہم فوراً چوکنا ہوجاتے ہیں کہ یہ ضرور دشمن کی سازش ہوگی۔
وطن سے محبت میں دشمن کی سازش پکڑنے بلکہ بھانپنے کے معاملہ میں ہم اس قدر چوکس و ہوشیار ہیں کہ دن رات اسی کام میں جتے رہتے ہیں لیکن دشمن ہے کہ بار بار ‘وار’ خالی جانے کے باوجود حوصلہ نہیں ہارتا بلکہ ہر پل ہماری قومی حمیت پر حملہ کرنے کے تانے بانے بنتا رہتا ہے ۔ یوں ہم دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کے علاوہ کچھ نہ کچھ ایسا نیا ضرور کرتے رہتے ہیں جو ہمیں مصروف رکھے ۔ ایسے میں ہم ایک دوسرے سے آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ ذولفقار علی بھٹو کی انتالیسویں برسی کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے شہید لیڈر کی خوبیاں بتانے اور عوام کی بہبود کے لئے ان کے وعدوں اور نظریہ کو بیان کرنے اور ان کی تکمیل کے لئے کوئی لائحہ عمل دینے کی بجائے ، یہ مناسب اور ضروری سمجھا کہ یہ بتا دیا جائے کہ ان کی قیادت میں پیپلز پارٹی جمہوری اقدار کے ساتھ وہی سلوک کرے گی جس کا مظاہرہ اکھاڑے میں خاک چاٹنے کے بعد کوئی پہلوان باہر نکلتے ہی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ‘اگلی بار دیکھ لوں گا’ کا ورد کرتے ہوئے خونخوار نظروں سے مد مقابل کو دیکھتے ہوئے کرتا ہے ۔ آصف زرداری نے اعلان کیا ہے کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے نواز شریف سے مفاہمت نہیں ہوگی بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ ‘سینیٹ’ فتح کرنے کے بعد اب وہ پنجاب فتح کرنے کے مشن پر گامزن ہیں تاکہ نواز شریف سیاست سے توبہ کرکے اپنی عمر کے تقاضے کے مطابق اللہ اللہ کیا کرے ۔ ہوسکتا ہے کہ طے شدہ منصوبہ کے مطابق اس اللہ اللہ کا بند وبست اڈیالہ جیل میں کیا جاچکا ہو کیوں کہ سپریم کورٹ کے ایک جج یہ واضح کرچکے ہیں کہ اس جیل میں بہت جگہ خالی پڑی ہے ۔
پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین فتح و کامیابی کے جھنڈے گاڑنے اور سیاست کا ماہر ہونے یعنی ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرہ کے سحر میں کچھ یوں مبتلا ہیں کہ وہ اپنی ہی پارٹی کے وفاداروں کی طرف سے اٹھنے والی آوازوں کو سننے سے بھی قاصر ہوچکے ہیں ۔ زرداری نے 2013 میں بدترین سیاسی شکست میں پیپلز پارٹی کی قیادت کرنے کے بعد یہ تو تسلیم نہیں کیا کہ ان سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے البتہ یہ عزم ضرور برقرار رکھا ہے کہ وہ بہر صورت دوبارہ اقتدار میں واپس آکر رہیں گے خواہ اس کے لئے انہیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔ اب وہ یہ قیمت جمہوریت پر وار کرنے ولی قوتوں کا آلہ کار بن کر ادا کررہے ہیں اور اسے بڑے فخر سے اپنی کاریگری قرار دیتے ہیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر شہید لیڈر کے ساتھی اور جاں نثار یہ سوچ کر ہلکان اور پریشان ہو رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اپنی روح سے محروم اور بھٹو کے راستے سے جدا ہو گئی ہے ۔ ایسی پارٹی کے نام پر آصف زرداری اگر اقتدار کے ٹکڑوں میں سے بھیک میں ملنے والے چند لقمے چننے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو بھی عوام کے ان خوابوں کو تعبیر کے لئے کون کام کرے گا جو بھٹو کے روٹی کپڑا مکان اور عوامی حکمرانی کے وعدے نے ان کی آنکھوں میں سجا دیئے تھے ۔ بھٹو کے ماننے والوں کے دل اداس اور آنکھیں نمناک ہیں لیکن آصف زردای کی آواز میں جوش اور لہجے میں جیت کی تمکنت ہے کہ انہوں نے سینیٹ میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود نواز شریف کی پارٹی کو شکست فاش دی۔ وہ تقدیر کی دیوار پر لکھا یہ پیغام پڑھنے سے قاصر ہیں کہ ‘یہ تمہاری شکست نہیں بلکہ ناکامی کی حکایت ہے ’ ۔ یہ کامیابی ان قوتوں کی فتح ہے جو بھٹو کی جان لینے کے بعد مطمئن و مسرور تھیں کہ اب ان انہیں للکارنے والا کوئی نہیں۔ پھر جب بے نظیر نے باپ کی روایت کو زندہ رکھا اور شکست خوردہ بکھری ہوئی پارٹی کو دوبارہ منظم کرکے ایک نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ جمہور کی سرفرازی کے نئے سفر کا آغاز کیا توبھٹو کی بے چین روح کو بھی سکون ملا ہوگا۔ اب وہ بیٹی اپنے باپ کے پہلو میں محو آرام ہے اور اس کی وراثت کا دعوے دار سینیٹ کے ایوان میں جیتی ہوئی بازی، ہار کر اپنی فتح کا اعلان کرکے محظوظ ہو رہا ہے ۔
پارلیمنٹ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر فیض آباد کے مقام پر چھ ماہ پہلے ریاستی اختیار اور عوامی اقتدار کے جس مردے کو دھوم دھام سے دفن کرنے کی کوشش کی گئی تھی اب وہ مردہ قبر سے سر نکال کر داتا دربار کے باہر سے ایک بار پھر پژمردہ اور نڈھال ریاست کو للکار رہا ہے ۔ ایک کے بعد دوسری ڈیڈ لائن دی جارہی ہے ۔ متنبہ کیا جارہا ہے کہ اگر اس معاہدہ پر عمل نہ ہؤا جو 27 نومبر2017 کو ایک حاضر سروس جرنیل کی ضمانت پر طے پایا تھا تو ملک بھر میں حکومت کا ناطقہ بند کردیا جائے گا۔ وجہ تسمیہ اس یاد دہانی کی یہ ہے کہ معاہدہ کی شرائط کے تحت لبیک تحریک کے علامہ خادم رضوی سمیت اس کے متعدد لیڈروں کے خلاف توڑ پھوڑ اور شرانگیزی کے مقدمات واپس لینے کا وعدہ پورا نہیں ہوسکا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاہدہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اب دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے لبیک تحریک کے شرپسندوں کو مفرور قرار دے کر ان ‘معزز’ رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ اسلام آباد پولیس نے دارالحکومت کی دیواروں پر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لئے اشتہار تو چسپاں کردیئے لیکن وہ ان کی گرفتاری کے لئے پنجاب حکومت کی محتاج ہے ۔
اس عدالتی حکم نامہ کی تکمیل کے بارے میں اپنی ‘انکساری’ کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’یہ کام ذرا مشکل ہے ’ ۔ پنجاب حکومت کے بزرجمہروں نے سن رکھا ہوگا کہ ایک سچا انکار بار بار کے جھوٹے اقرار سے بہتر ہے ، اس لئے حیلے بہانے کرنے کی بجائے واضح کردینا بہتر ہے کہ عدالت کا حکم سر آنکھوں پر لیکن یہ کام ہمارے بس سے باہر ہے ۔ از راہ ترحم تحریک لبیک کے لیڈروں نے پنجاب حکومت کی بے بسی پر مسکرا کر ترس کھاتے ہوئے مطالبات تسلیم کرنے کی مدت میں جمعہ تک توسیع کردی ہے تاآنکہ کسی جرنیل بہادر کی ثالثی سے پھر ایک بحران پر قابو پایا جاسکے ۔
ایسے میں مملکت پاکستان کے نام سے موسوم ریاست یرغمال ہو چکی ہے ۔ اس کی یرغمالی کے لئے درخواست درج کروانا مطلوب ہے ، لیکن یہ خبر نہیں ہے کہ یہ درخواست کس کے پاس جمع کروائی جاوے ۔
ریلوے گالف کلب اراضی کا ریفرنس احتساب عدالت میں 
قومی احتساب بیورو نے بالآخر پاکستان ریلوے کی لاہور میں واقع 140ایکڑ قیمتی اراضی غیر قانونی طور پر 49سالہ کمرشل لیز پر دینے کا ریفرنس راولپنڈی کی احتساب عدالت میں دائر کر دیا جس میں تین سابق جر نیلوں سمیت 9کو نامزد کیا گیا ہے ۔ حقائق پر نظر ڈالی جائے تو2001ء میں اس وقت کے چیئر مین ریلوے بورڈ لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی ‘ سابق سیکرٹری ریلوے بورڈ لیفٹیننٹ جنرل(ر) سعید الظفر اور سابق جنرل منیجر ریلوے (ایم اینڈ ایس) میجر جنرل (ر) حامد حسن بٹ نے اپنے عہدوں اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے نہر کنارے واقع ریلوے پام کلب کی103ایکڑ اراضی کھلی بولی کی بجائے اپنی منظور نظر پارٹی مین لینڈ حسنین پاکستان لمٹیڈ کو 33سالہ لیز پر دیدی۔ معاملہ یہیں تک ہی محدود نہ رہا بلکہ لیز کا عرصہ باہمی ملی بھگت سے بڑھا کر 49برس جبکہ ریلوے اراضی پر قائم ریلوے کالونی کا رقبہ بھی شامل کر کے 140ایکڑ اراضی فراہم کر دی جس سے محکمے کو 122ارب 20کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ اس سکینڈل میں معاونت کرنیوالے چھ دیگر افراد کو بھی ملزموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔جن میں سابق جنرل منیجر آپریشنز اقبال صمد خان ‘ سابق ممبر فنانس ریلوے خورشید احمد خان ‘ ڈائریکٹوریٹ آف پراپرٹی اینڈ لینڈ ریلویز بریگیڈئر (ر) اختر علی بیگ‘ رائل پام ‘ گالف کلب کے سپانسرز رمضان شیخ ‘ پرویز قریشی اور دیگر شامل ہیں۔ جہاں تک اس غیر قانونی ڈیل یا ’’ کرم نوازی ‘‘ کا تعلق ہے تو پاکستان کے مختلف محکموں کے ذمہ داروں کا اصل کام تو اپنے زیر کنٹرول محکمہ جات اور اثاثوں کی دیکھ بھال ‘ اپنے اداروں کا بہترین انداز میں انتظام و انصرام اور اسے مفاد پرستوں ‘ چڑھتے سورج کے پجاریوں اور چند سکوں کے عوض اصولوں کو فراموش کر دینے والے طالع آزماؤں کی دست بردسے بچانا ہوتا ہے مگر بد قسمتی سے گزشتہ 30/35برس سے بر سر اقتدار افراد ‘ انچارجوں اور ذمہ داروں نے اپنے دائرہ اختیار کو مال پانی بنانے اور محکمانہ مفادات کے تحفظ کی بجائے انہیں کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دینا ہی اپنا حق سمجھ رکھا ہے۔ انگریز نے محکمہ آبپاشی ‘ محکمہ انہار ‘محکمہ ریلوے کی آئندہ ہزار سالہ ضروریات کے تحت منصوبہ بندی کر کے اراضی ‘ اثاثے اور قیمتی وسائل و آلات فراہم کئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت میں آنیوالی شخصیات کے گرد مفاد پرستوں ‘ چاپلوسوں نے قیمتی وسائل کو اپنے منظور نظر افراد کے حوالے کرنا اپنا وطیرہ بنالیا۔ ایوب خان کے زمانے میں شہریوں کو سستی و معیاری ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کیلئے روڈ ٹرانسپورٹ اور شہروں میں اربن ٹرانسپورٹ کے نام پر اومنی بس سروس شروع کی۔ پنجاب ‘ خیبر پختونخواہ ‘ سندھ اور کسی حد تک بلوچستان میں گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس ( جی ٹی ایس) کے نام پر انٹر سٹی انٹر ڈسٹرکٹ اور انٹر پراونس بسیں چلائی گئیں۔ حکومت کے زیر کنٹرول شہر شہر جی ٹی ایس کے اڈے ‘ ورکشاپیں اور بس سٹینڈ بنائے گئے مگر یہاں ملازمت کرنے والے ہزاروں لاکھوں لالچی اور مفاد پرست عناصر نے اس سستی اور عوامی سہولت کو لوٹ مار کا ذریعہ بنا لیا۔ موقع پر ستوں نے سرکاری ملازمین ‘ا فسروں اور انتظامی سر براہوں کو لالچ ‘ ترغیب ‘ تحریص اور دیگر ذرائع سے اپنا ہمنوا بنا کر ملکی وسائل اپنی ملکیت بنانے یا لیز اور ٹھیکوں پر حاصل کر کے اربوں کھربوں کی پر اپریٹز اور اثاثوں پر قبضہ کر لیا ۔ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کی بسوں کے ٹائر ٹیوب ‘ انجن ‘ باڈیاں ‘ ورکشاپوں کے آالات غائب کرنے شروع کردئیے۔ بسوں میں استعمال ہونیوالا ڈیزل ‘ پیٹرول اور موبل آئل تک بیچ دیا جاتا رہا جس کا نتیجہ جی ٹی ایس جیسے منافع بخش کاروبار کی تباہی کی صورت میں نکلا۔ ایسی ہی صورتحال محکمہ ریلوے میں بھی آئی جب ریلوے ٹریکوں کیلئے استعمال ہونیوالی پٹڑیاں ‘ لکڑی ‘ کوئلہ اور بعد ازاں ڈیزل فروخت کیا جانے لگا۔ریلوے کے ٹکٹ چیکر‘ گارڈ اور دیگر عملے نے اس محکمے کو بھی نچوڑ نچوڑ کر تباہ کر ڈالا۔ ریلوے کی شہروں میں اراضی پر ناجائز قبضے کئے گئے۔ بے ٹکٹ مسافروں کو جرمانے کر کے رقمیں خزانے میں جمع کرانے کی بجائے افسروں اور ملازمین کی جیبوں میں جانے لگیں جسکا نتیجہ ریلوے کی تباہی اور بالآخر بندش پر متنج ہوا یہی حال قومی ائیر لائن ( پی آئی اے) اور سٹیل ملز کراچی کا ہوا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی ‘جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں وزیر ریلوے بننے سے پہلے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔ اتنی ذمہ دار پوسٹوں پر کام کرنیوالے شخص کو تو قومی وسائل کا محافظ ہونا چاہیے تھا مگر دوست نوازی یا مالی مفادات کے باعث ریلوے بھی اپنے اثاثوں سے محروم ہو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں بھی رائل پام کلب کا معاملہ منظر عام پر آیا مگر اسے دبا دیا گیا۔ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) نے حکومت سنبھالی تو خواجہ سعد رفیق نے یہ قیمتی اراضی واپس لینے کی کوششیں کیں مگر معاملہ دفن کرنے میں ناکامی کے بعد مین حسنین پاکستان لمیٹڈ عدالت میں چلی گئی اورعدالتی حکم امتناعی لے لیا گیا۔ اب جبکہ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے معاملے کو اٹھاہی لیا ہے تو امید کرنی چاہیے یہ قیمتی اراضی مفاد پرستوں سے واپس لینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائیگی اور احتساب عدالت اگر معاملے میں غیر قانونی ڈیل دیکھے تو با اثر یا سابق جرنیل ہونیکا لحاظ کئے بغیر ملزموں کو کیفر کردار تک بھی پہنچایا جائے ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں