نیاوفاقی بجٹ پیش کرنے کاتکلف

لاہورمیں ایک پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیربرائے ریونیو ہارون اختر نے بتایاکہ’’ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے خدوخال واضح کئے جارہے ہیں ۔بجٹ میں کوئی نیاٹیکس نہیں لگایاجائے گامگر نان فائیلرز کے لیے’فائیلررہنامشکل ہوجائے گا۔‘‘حکومت کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گی لیکن ٹیکس چوری کوبرداشت نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کاروباری طبقے کی نفسیات کے بارے میں کہاکہ بحیثیت قوم ہم ٹیکس دینے کے لیے تیار نہیں جبکہ ہمارے ہاں رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کارحجان بھی کم ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی بزنس کمیونٹی کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے لیکن وہ ظاہر کم کرتے ہیں ۔ہارون اخترنے اعتراف کیاکہ پاکستان کے سوا دنیاکے کسی بھی ملک میں ٹیکسوں کارضاکارانہ نظام رائج نہیں بلکہ ٹیکس نافذ کیاجاتاہے۔بدقسمتی سے یہاں جس شخص کوایف بی آر کی طرف سے ٹیکس کانوٹس ملتاہے ،وہ اسے ڈرانے دھمکانے اورہراساں کرنے کاذریعہ سمجھ لیتاہے حالانکہ قابل اداٹیکس والے شخص یاکسی سرمایہ دارکونوٹس دیناہراسگی ہے نہ غیراخلاقی طرز عمل۔ہارون اختر کی طرف سے ایمنسٹی سکیم کے بارے میں اداکئے جانے والے الفاظ بھی اپنے اندرغوروفکر اورمعاشی واقتصادی ماہرین کے لیے لمحہ فکریہ ہیں ۔مشیرریونیو کایہ کہنا کہ دنیاکاکوئی بھی ملک ایسی سکیموں یاترغیبات کے ذریعے آج تک ملک سے باہرپڑا ہواسرمایہ واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوسکا،ایسی سکیمیں محض ترغیب ہوتی ہیں کیونکہ پیسے والے لوگ ٹیکس سے بچنے یافیڈرل بورڈ آف ر یونیو ،قومی احتساب بیورویاایف آئی اے کے خوف سے اپناسرمایہ باہررکھتے ہیں۔انہوں نے تسلیم کیاکہ اگرایف بی آر کو اچھی قیادت مل جائے تویہ بہترین انداز میں کام کرسکتاہے۔انہوں نے حاضرین کوبتایاکہ حکومت دفاعی اخراجات ،ترقیاتی پروگراموں اوربجلی کی پیداوار بڑھانے سمیت دیگراقدامات کے لیے فنڈز میں کمی نہیں کرسکتی۔ڈالر کی قیمت میں دوہفتے قبل ہونے والے زبردست اضافے کوبے اثر کرنے کے لیے موثراقدامات کرنے کی بجائے ہارون اختر نے کہا’’حقیقت یہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کرکے حکومت نے بہت فائدہ اٹھایاتاہم یہ مستقل حل نہیں ہمیں پیداواری شعبوں کی ترقی پرخصوصی توجہ دینی پڑے گی۔‘‘صرف یہی نہیں بلکہ اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اورتجارتی خسارہ کم نہ ہوسکاتو جی ڈی پی کوسات فیصد تک لے جانے کاہدف بھی پورانہیں ہوسکے گا۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مختلف ملکوں کے ساتھ آزاد انہ تجارتی معاہدے کرنے سے برآمدات ضروربڑھ رہی ہیں مگر مقامی صنعت پراس کے منفی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔وزیرمملکت برائے خزانہ راناافضل خاں نے کہاکہ معیشت پرذمہ دارانہ سوچ کے ساتھ سیاست ہونی چاہیے معاشی واقتصادی نظام کوجاری رکھنے کے لیے حکومت پاکستان کومزیدبیرونی قرضے لینے پڑیں گے تاکہ آنے والی حکومت کے لیے ہم زرمبادلہ کے کافی ذخائر چھوڑکر جائیں۔انہوں نے نئے قرضوں کی افادیت کے بارے میں واضح کیا کہ جاری منصوبوں کے لیے اگرمالی وسائل میسرنہ آئے تویہ15فیصد مزید مہنگے ہوجائیں گے۔راناافضل نے بھی تسلیم کیاکہ ہرسال ہمیں بجٹ اخراجات پورے کرنے کے لیے5ارب ڈالرحاصل کرنے پڑتے ہیں جوخسارہ پوراکرنے کے لیے ناگزیرمعاملہ ہے ۔وزیرتجارت پرویز ملک نے رواں مالی سال کے دوران برآمدات 24ارب ڈالر تک لے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ چین ،ترکی اوردیگرملکوں کے ساتھ پاکستانی برآمدات کوسازگاربنانے کے لیے بات چیت جاری ہے جبکہ چین کے ساتھ انڈرانوائسنگ کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ایران میں بھی عنقریب پاکستانی بنک کام کرناشروع کردے گا۔بجٹ سیمینار سے سرمایہ کاری بورڈکے چیئرمین نعیم زمیندار،پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل کے سربراہ ڈاکٹریوسف ظفر،انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے کونسل ممبر اورچیئرمین ٹیکسیشن کمیٹی اشفاق تولہ،پاکستانی انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹراسدزمان،سابق چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹرارشاد،اسلام آباد چیمبرآف کامرس کے صدرعامروحیدشیخ ،سابق سیکرٹری خزانہ وقارمسعود ،چیف اکانومسٹ آف پاکستان ڈاکٹر ندیم جاوید ،ایف بی آر کے سابق ممبرشاہدحسین اسد اورورلڈبنک کے سابق ایڈوائزر ڈاکٹر عابدحسن کی شرکت اورپاکستانی اکانومی پراظہارخیال سے حکومتی پالیسیوں ،کامیابیوں ،ناکامیوں اورخامیوں کی جس طرح نشاندہی کی گئی وہ مشیرخزانہ مفتاح اسمعیل اورمشیرریونیو ہارون اختر کے لیے گہرے غوروفکر کامقام ہے ۔ڈاکٹر عابدحسین نے ہرسال 20سے30فیصد تک پی ایس ڈی پی ضائع ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکومتی منصوبہ سازوں پرزوردیاکہ پی ایس ڈی پی 600ارب تک لے جائے بغیرکوئی چارہ کارنہیں جبکہ فائیلرز کو چھوڑ کرایف بی آرنان فائیلرز پرتوجہ بڑھائے۔سبسڈیز کے بارے میں بھی مقررین نے مشورہ دیاکہ وفاق کی بجائے ،رعائتیں دینے کافیصلہ صوبوں پرچھوڑدیناچاہیے۔سیمینار میں ہونیو الے بحث ومباحثے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ملکی معیشت اس وقت بدترین صورتحال سے دوچارہے ۔محترم وقارمسعود اورڈاکٹرعابدحسن نے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی پرزوردیاکہ آئندہ سال کابجٹ پیش کرنے پراصرار درست نہیں بلکہ اسے آنے والی حکومت پرچھوڑدیاجائے ۔یہ بات بھی واضح ہے کہ جون میں اقتدار سنبھالنے والی نگران حکومتیں چارماہ کے اخراجات کی منظوری دے سکتی ہیں ۔سابق سیکرٹری خزانہ کایہ کہنا کہ اقتصادی شعبے میں ملکی صورتحال تشویشناک ہوتی جارہی ہے ایسے حالات میں حکومت کوبجٹ پیش کرنے پراصرارنہیں کرناچاہیے۔ان کے خیال میں وقت سے پہلے بجٹ پیش کرنے سے اس کے تمام لوازمات پورے نہیں ہوسکیں گے۔اکنامک سروے،گروتھ ریٹ سمیت مختلف شعبوں کی مکمل کارکردگی سامنے نہیں آسکے گی اس لیے نامکمل اعدادوشمار کی روشنی میں نئے ٹارگٹ مقررکرنا غلط ا قدام ہوگا۔ڈاکٹر وقارمسعود کایہ کہنا بھی انتہائی وزن رکھتاہے کہ موجودہ حکومت کے لیے بجٹ پیش کرناآئینی پابندی بھی نہیں ۔صرف یہی نہیں بلکہ موجودہ یاآنے والی حکومت کی اپنی اپنی ترجیحات ہوں گی ۔نئے ٹیکسوں کے بارے میں پالیسی وضع کرناالیکشن کے نتیجے میں برسراقتدارآنے والی حکومت کادردسرہوگا۔مسلم لیگ (ن)کیونکہ الیکشن میں حصہ لینے جارہی ہے،اس لیے وہ کمزوریامشکل معاملات میں ہاتھ ڈالنے سے گریز کرے گی جس کا خمیازہ آنے والی حکومت کوبھگتنا پڑے گا۔نئے ٹیکس نہ لگاکر اورسرکاری ملازمین کی تنخواہوں ،مراعات میں اضافہ کرنے کامقصدصرف اپناووٹ بنک بڑھانا ہوگا۔ایسی سہولتیں ،مراعات یاآسانیاں دینے کیافائدہ جوقومی وسائل پرنیابوجھ بن جائے ۔ماضی میں برسراقتدار حکومتیں ضمنی بجٹ کرتی رہی ہیں۔ ا گرالیکشن کے باعث جون میں بجٹ پیش کرناممکن نہ بھی ہوتو نگران حکومت جاری اخراجات کے لیے ادائیگیاں کرنے کے لیے بااختیار ہوگی۔محترم وزیراعظم کومعلوم ہوگاکہ 27اپریل کونیاوفاقی بجٹ پیش کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی ذخیرہ اندوز،منافع خوراوربڑے بڑے پیداواری اداروں نے اپنی پیداوارمیں کمی یاتیارشدہ مال کی مکمل سپلائی روک دی جس سے کھلی مارکیٹ میں متعدد اشیاء جن میں خوردنی ،الیکٹرانک اوردیگرخام یاتیارمال شامل ہے،مارکیٹ سے غائب ہونے لگاہے۔نگران حکومت کیونکہ بجٹ پیش نہیں کرسکتی اورآنے والی حکومت موجودہ حکمرانوں کے کسی وعدے وعید کی پابند نہیں ہوگی اس لیے بہترہے ،موجودہ حکومت محض معاشی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے ساتھ روپے کی قدرپھربحال کرنے اورامریکی ڈالر کوبے لگام ہونے سے روکے۔نیابجٹ پیش کرنے کافائدہ صرف مسلم لیگ ن کوہوگاالبتہ اس کے مضراثرات پورے ملک اورمعاشی نظام پر مرتب ہوسکتے ہیں۔امیدہے شاہدخاقان عباسی بجٹ پیش کرنے کامعاملہ ملتوی کردیں گے۔
چیف جسٹس کا خبروں میں رہنا ہرگز ضروری نہیں
سپریم کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس ثاقب نثار ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔ وہ اس عہدہ تک شعبہ قانون میں اپنے طویل تجربہ اور محنت کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ انہیں اپنی سینارٹی اور اہلیت کی بنا پر ملک میں مروج طریقہ کار کے مطابق یہ عہدہ تفویض ہؤا ہے اور اس سال کے آخر میں یہ مدت پوری ہونے کے بعد وہ بخیر و خوبی ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے لگیں گے ۔ پھر کسی میڈیا ہاؤس یا صحافی کی نگاہ اور کان اس بات پر مرکوز نہیں ہوں گے کہ ثاقب نثار کیا کہتے ہیں اور کیا سوچتے ہیں۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ چیف جسٹس کو مسلسل خبروں میں رہنے کی ضرورت ہے ۔ وہ ریمارکس یا تقاریر کے حوالے سے کوئی نہ کوئی ایسی بات کہتے ہیں جنہیں شہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر نمایاں کیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ انہوں نے گزشتہ روز ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ وہ عہدہ تو چھوڑ سکتے ہیں لیکن کسی قسم کے مارشل لا کی توثیق نہیں کرسکتے ۔ انہیں یہ یقین دہانی کروانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اگر وہ اس بات کی وضاحت کرسکیں تو اس ملک کے عوام جمہوریت کے تسلسل اور آئین کی بالادستی کے معاملہ پر زیادہ مطمئن ہو سکیں گے ۔
جج کا فیصلہ اور فیصلوں میں اس کے قلم کی طاقت اور قانون پر اس کی دسترس ہی دراصل اس کی قوت ہوتی ہے ۔ اسی کے ذریعے وہ یہ یقین دلاتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بنائے گئے قوانین ہی معاشرہ میں رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کام تقریریں کرنے یا یقین دہانیاں کروانے سے نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس یا ان کے ماتحت عدالتی کام کرنے والے دیگر منصفین اپنے فیصلوں یا ارادوں کے بارے میں اپنے ضمیر کے علاوہ کسی کو جوابدہ نہیں ہو سکتے ، لیکن جب ملک کا چیف جسٹس بھی کسی سیاست دان یا منتخب عہدیدار کی طرح بار بار یہ یقین دہانی کروانا ضروری سمجھتا ہو کہ آئین بالادست ہے اور وہ ذاتی طور پر اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ انتخابات بروقت منعقد ہوں گے یا منصفانہ ہوں گے تو منطقی طور سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ چیف جسٹس آخر کس کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں۔ ایک ہی بات کو بلاوجہ بار بار دہرانے والے کے بارے میں یہ سمجھا جائے گا کہ اسے خود اپنی کہی ہوئی بات پر کامل یقین نہیں ہے ۔ چیف جسٹس کا طرز عمل پبلک ریلیشننگ کے میکنزم کے علاوہ غیر یقینی کی کیفیت کو مزید راسخ کرنے کا سبب بھی بنتا ہے ۔ جسٹس ثاقب نثار جتنی تندہی سے آئین کے تحفظ اور جمہوریت کے تسلسل کا مقدمہ پیش کریں گے ، یہ بے یقینی اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔اس قومی مزاج کی دو ٹھوس وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس ملک میں جمہویت کے حوالے سے غیر منتخب اداروں کا ماضی داغدار ہے ۔ اگرچہ فوج نے بار بار آئین کو توڑا اور خود مصلح قوم بن کر ایسا نظام استوار کرنے کی کوشش کی جو اس کے خیال میں سب مسائل کا حل ہوسکتا تھا لیکن چار بار یہ تجربہ کرنے کے باوجود کوئی فوجی لیڈر اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ فوج کی ان کارروائیوں کو چونکہ ہر بار اعلیٰ عدالتوں نے توثیق کی تھی اور سپریم کورٹ کے بیشتر ججوں نے مارشل لا نافذ کرنے والے کسی فوجی جنرل کے سامنے کھڑے ہونے اور سپریم کورٹ کو آئین کے پاسبان ادارے کے طور پر تسلیم کروانے کی کوشش نہیں کی۔ اس لئے آج فوج کی غلط کاریوں کا ذکر اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ملک کی سپریم کورٹ کی کوتاہ نظری اور آئین دشمن وضاحتوں کا بھی ذکر نہ کیا جائے ۔ آئین کے حوالے سے سپریم کورٹ کی بد اعتدالی کسی فوجی جنرل کے اقدام سے بھی زیادہ مہلک اور افسوسناک کہی بھی جا سکتی ہے اور اس کا عملی مظاہرہ ہم اپنے تاریخی تناظر میں کر بھی سکتے ہیں۔ کیوں کہ کوئی فوجی افسر آئین و قانون کا ماہر نہیں ہوتا،لیکن عدالتوں کے جج ماہرین قانون ہوتے ہیں اسی لئے جب وہ کسی فوجی کے جبر و دہشت کے سامنے آئین کا تحفظ کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ زیادہ بڑے مجرم قرار دیئے جانے چاہئیں۔ اس ملک میں اگر فوج کے چار سربراہان نے آئین توڑنے کا حوصلہ کیا تو ہر بار سپریم کورٹ نے اس کی توثیق کرکے زیادہ بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔ اس کے باوجود جمہوریت بحالی تحریک کے حوالے سے فوج پر تو تنقید کی جاتی ہے لیکن عدالتیں اپنے داغدار ماضی کے باوجود اس احتساب سے محفوظ رہتی ہیں کیوں کہ انہیں نظام میں اعلیٰ احترام کا مقام حاصل ہے ۔ تاہم اس مرتبہ کو برقرار رکھنے کے لئے عدالتوں کو زبانی یقین دہانیوں کی بجائے عملی طور سے ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے جو یہ واضح کرسکیں کہ اب ان کا رجحان کسی آئین شکن کا ساتھ دینے کی بجائے آئین کی روح کے مطابق عوامی حکمرانی کے طریقہ کی حفاظت کے لئے کھڑے ہونے کی طرف ہے ۔ماضی کے اس منظر نامہ کو بدلنے کے لئے ایک طریقہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی پر مکمل یقین رکھنے ولا کوئی چیف جسٹس ماضی میں ہونے والی غلطیوں کا عدالتی جائزہ لینے کے لئے کوئی اعلیٰ عدالتی انتظام کرے جو یہ طے کرسکے کہ ماضی میں کب اور کس کس جج نے ٹھوکر کھائی اور آئین کا تحفظ کرنے اور اس طرح اپنے عہدے کے حلف کی پاسبانی کرنے میں ناکام رہے ۔ دریں حالات اس قسم کا انقلابی اقدام کسی چیف جسٹس سے متوقع نہیں ہے، اس لئے جب بھی آئین کے تحفظ کے لئے ہر قربانی دینے پر اصرار کیا جائے گا تو شبہات سر اٹھانے لگیں گے ۔
عدالتوں یا فوج کے حوالے سے پیدا ہونے والے شبہات کی دوسری بڑی وجہ ملک میں گزشتہ دو جمہوری ادوار میں سامنے آنے والے حالات بھی ہیں۔ 2008 کے بعد سے برسر اقتدار آنے والی دونوں حکومتوں کو کسی نہ کسی بہانے سے عاجز کیا گیا، سیاست دانوں کی کردار کشی کی گئی۔ غیر ضروری اور بے بنیاد معاملات کو بنیاد بنا کر منتخب حکومتوں کو دفاعی پوزیشنختیار کرنے اور اس ایجنڈے پر عمل کرنے پر مجبور کیا گیا جو بالادست طبقات نے طے کیا ہؤا تھا ۔ اس کا واضح مظاہرہ پیپلز پارٹی کے دور میں میمو گیٹ کیس اور نواز شریف کے دور میں ڈان لیکس کیس میں دیکھنے میں آیا۔ جو عدالت آج ہسپتالوں کا انتظام درست کرنے اور صاف پانی کی فراہمی کے لئے غیر ضروری طور سے عوام دوستی اور مستعدی کا مظاہرہ کررہی ہے ، اس نے فوج کی طرف سے سول حکومت پر دباؤ کم کروانے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔
ملک کے چیف جسٹس کو جمہوریت کا یقین دلاتے ہوئے یہ سمجھنا ہوگا کہ انہیں کیوں بار بار اس بات کا اعلان کرنا پڑتا ہے کہ نہ عدالتی مارشل لا نافذ ہوگا اور نہ ہی انتخابات میں تاخیر ہوگی۔ اس وقت اگرچہ ملک کی سیاسی حکومت کمزور اور کسی حد تک بے بس ہے لیکن اس کے باوجود یہ تاثر عام ہے کہ انتخابات بہر صورت بر وقت ہوں گے ، البتہ اس کے ساتھ ہی یہ باتیں بھی برسر عام کہی جاتی ہیں کہ البتہ ان انتخابات کو مینیج کرنے کی کوشش کی جائے گیتاکہ مستقبل کی پارلیمنٹ میں کوئی ایک پارٹی اور خاص طور سے مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل نہ ہو سکے ۔ اس کا عملی مظاہرہ بلوچستان میں اقلیتی وزیر اعلیٰ کے انتخاب اور پھر سینیٹ اور اس کے چیئرمین کے انتخابات کے دوران دیکھنے میں آچکا ہے ۔
ملک کے وزیر اعظم سینیٹ چیئر مین کے انتخاب کو خرید و فروخت کا کھیل قرار دیتے ہیں لیکن آئین کی حفاظت کرنے کے کا دعویٰ کرنے والے چیف جسٹس نے اس بارے میں کوئی ‘سو موٹو’ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کے برعکس وہ سیاست دانوں کو ‘ننگا’ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ سمجھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ ملک میں جمہوریت ایک دوسرے کو ننگا کرنے سے مستحکم نہیں ہوگی بلکہ قانون و آئین کا احترام عام کرنے سے ہی یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے لئے چیف جسٹس کا خبروں میں رہنا ہرگز ضروری نہیں ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں