پاکستان کی شہ رگ پربھارتی قبضہ

ریاست جموں وکشمیر میں بھارتی قابض فوج کے ظلم وبربریت کے خلاف جمعہ کے روزپاکستان وآزاد کشمیر کے تمام شہروں میں ،مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی منایاگیا اوریوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر شہرشہرنکلنے والی ریلیوں اورمختلف تنظیموں کے زیراہتمام ہونے والے جلسوں کودیکھ کرپاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی غیرمتزلزل حمایت کااعادہ سامنے آیا۔اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام ،لاہور میں پاکستان تحریک انصاف ،کراچی میں پیپلزپارٹی اورایم کیوایم کے لیڈروں نے احتجاجی ریلیوں کی قیادت کی ۔کشمیرکوقائداعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کی شہ رگ قراردیاتھا اوراگر1947ء میں انگریزوں نے برصغیر کوآزاد کرتے ہوئے باؤنڈری لائن کو پنڈت جواہرلعل نہرو کے ساتھ سازباز سے تبدیل نہ کردیا ہوتااوربھارت کامسلم اکثریت کی ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ زمینی راستہ نداردہوجاتاتووادی کے حالات بہت مختلف ہوتے ۔باؤنڈری کمیشن نے دونوں ممالک کی سرحد طے کرتے وقت مسلم اکثریت کے دواضلاع ،گورداسپوراورہوشیار پورکو پاکستان سے کاٹ کر بھار ت میں شامل کردیااوراس طرح ایک توان دونوں اضلاع کے اچانک بھارت کاحصہ بن جانے سے ان اضلاع کے مسلمانوں کوانتہائی ہنگامی اوراچانک طورپرنقل مکانی کے لیے گھربارچھوڑنے پڑے اورچونکہ ہندواورسکھ ہجرت کرنیوالے مسلمانوں سے لوٹ مارکرنے اوران کی قتل وغارت میں مصروف ہوگئے تھے لہٰذا ایک توہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کوخون کادریاپارکرکے پاکستان آناپڑااوردوسرے بھارت نے زمینی راستہ میسرآجانے سے اپنی افواج وادی میں داخل کردیں اوربھارت کی افواج نے نہایت تیزی کے ساتھ ریاست کے طول وعرض پرقبضہ کرلیا۔بھارتیوں کوکشمیر پر قبضہ کرتے دیکھ کر پاکستان نے جہادی تنظیموں کی مدد سے ریاست کا اچھاخاصا حصہ آزاد کروالیالیکن پاکستانی ملیشیااورجہادی عناصر کی یلغارسے پریشان ہوکربھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہرو نے مجاہدین کی یلغارروکنے کے لیے اقوام متحدہ کادروازہ کھٹکادیا۔اقوام متحدہ نے پاکستان کے حکام پردباؤ ڈال کردونوں ممالک کے مابین سیزفائر کروادیااوراس امرکی قرارداد منظور کردی کہ ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کافیصلہ کشمیریوں کے حق خودارادیت سے ہوگا۔یہ قر ارداد پہلے1948ء میں منظورہوئی اوردوسری مرتبہ1951ء میں، اس قراردادکی منظوری کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے مابین فائربندی کروادی گئی۔ان قراردادوں کے حوالے سے بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہرو پاکستانی حکام کوایوب خان کے دورتک یہ یقین دلاتے رہے کہ معاملہ بہت جلد کشمیریوں کے حق خودارادیت سے حل کرلیاجائے گالیکن فی الحقیقت ،بھارت کی یہ پالیسی تھی کہ اس معاملے کوجتناٹالا جاسکتاہے ٹالاجائے اوربعدازاں تنازعہ کشمیر پرڈھٹائی اوربھارتی فوج کشی سے بھارت کاقبضہ کروالیاجائے ۔1961ء میں جب بھارت اورچین کے درمیان جنگ ہوئی اس وقت جنرل ایوب خاں کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ فوج کو سری نگر میں داخل کرکے بھارتی فوج کے چین کے محاذپرمصروف ہونے کافائدہ اٹھالیتے لیکن انہوں نے پنڈت جواہرلعل نہرو کی اس یقین دہانی پریقین کرلیاکہ وہ چین کے ساتھ بھارت کاتنازعہ ختم ہوتے ہی ریاست جموں وکشمیر میں حق خودارادیت کے لیے ریفرنڈم کروادیں گے۔یہ ریفرنڈم توکبھی نہ ہواالبتہ 6ستمبر1965ء کوبھارت نے پاکستان کے دل لاہور پرحملہ کردیا۔ یہ حملہ پسپاکردیاگیااور17دن کی زمینی اورفضائی جنگ میں پاکستان نے بھارت کویہ باورکروادیا کہ پاکستان رقبے اورآبادی میں ضرورچھوٹاہے لیکن بھارت کی ہرجارحیت کامنہ توڑجواب دے سکتاہے۔یہ جنگ سوویت یونین کے شہرتاشقند میں دونوں ممالک کے سربراہوں کے مابین ہونے والے مذاکرات میں جس میں ثالثی کاکردارسوویت یونین نے اداکیاتھاایک مرتبہ پھراس وعدے اوریقین دہانی پرختم کی گئی کہ دونوں ممالک کے مابین تنازعہ کی جڑمسئلہ کشمیر کوحق خودارادیت سے حل کروادیاجائے گا۔بعدازاں بھارت کی آنجہانی وزیراعظم اندراگاندھی نے مشرقی پاکستان کے بعض سیاسی عناصر کوپاکستان سے علیحدگی اختیارکرنے اوراس سلسلہ میں بھارت سے فوجی مدد کایقین دلاکر1971ء کی جنگ شروع کردی۔دسمبر1971ء میں سقوط ڈھاکہ ہوااورمشرقی پا کستان الگ ہوکربنگلہ دیش بن گیااوراس طرح تنازعہ کشمیر کاحل مزیدمشکل ہوگیا۔پاکستان کے مشرقی پاکستان سے گرفتار ہونے والے90ہزارافراد جن میں فوجی اورسویلین سب شامل تھے انہیں پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے شملہ معاہدہ کی روسے آزاد کروادیا لیکن بھارتی نیتاؤں نے اس معاہدہ میں تنازعہ کشمیر کواقوام متحدہ کے ذریعے حل کروانے کے بجائے دونوں ممالک کے مابین باہمی مذاکرات سے حل کرنے وکروانے کافیصلہ منظورکرلیااوراس طرح ریاست جموں وکشمیر کے تنازعہ کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے متعدد مرتبہ نہتے کشمیریوں پرہونے والے مظالم کانوٹس لیتے ہوئے اس مسئلہ کوحل کروانے کی کوشش کی ہے لیکن بھارت شملہ معاہدہ کودرمیان میں لاکراقوام متحدہ کی مداخلت قبول کرنے سے انکارکردیتاہے۔ریاست جموں وکشمیر پاکستان کوسیراب کرنے والے دریاؤں کامنبع ہے اوربھارت نے اپنے قبضہ کافائدہ اٹھاتے ہوئے دریائے راوی ،ستلج ،چناب اورجہلم سب کے دہانوں پرڈیم بناکرپاکستان کے پانیوں کارخ بھارت کی طرف موڑلیاہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم کشمیر کو قائداعظم کے پاکستان کاادھوراایجنڈہ سمجھتے ہیں ہم نے کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے آدھاپاکستان گنوادیاہے۔میاں نوازشریف کے دوسرے دورِاقتدار میں اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے سری نگر میں پاکستانی افواج داخل کرنے کی سعی کروالی تھی اوراس طرح دونوں ممالک کے مابین تیسری جنگ یعنی کارگل کی جنگ بھی لڑی گئی تھی ۔اس موقع پر بھارت اورپاکستان دونوں ایٹمی طاقت بن چکے تھے اوردونوں کی قیادت نے اس جنگ کے دوران ہوش سے کام لیااورکارگل کی جنگ دونوں ممالک نے محض روائتی اسلحہ سے لڑی تھی۔کارگل کی جنگ امریکہ کے صدر بل کلنٹن کی مداخلت سے ختم ہوگئی لیکن تنازعہ کشمیر جوں کاتوں رہااورکشمیریوں کی جدوجہد آزادی ختم نہ ہوسکی،کشمیریوں کواپنی آزادی کی جنگ لڑتے اورخود کوپاکستان میں شامل کروانے کی کوششوں میں 70سال گزرگئے ۔یہ تمام ماہ وسال بھارتی درندگی کے ماہ و سال بن کرگزرے ہیں لیکن آج بھی کشمیریوں کانعرہ یہی ہے کہ وہ کشمیرکوپاکستان میں شامل کرواکررہیں گے۔بھارتی مظالم اورکشمیر ی نوجوانوں کی شہادت پروفاقی کابینہ نے 6اپریل کوکشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے دن کے طورپرمنانے کافیصلہ کیاتھااورجمعہ کے روزپوری قوم نے نہایت زوروشور کے ساتھ یہ دن منایاہے ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری نے ایک مرتبہ پھردونوں ممالک کے مابین یہ دیرینہ تنازعہ حل کروانے کے لیے ثالثی کاکرداراداکرنے کی پیش کش کی ہے ،لیکن بھارت اب اقوام متحدہ کے کردارکوتسلیم کرنے سے مسلسل انکار کررہاہے۔امرواقع یہ ہے کہ کشمیرمیں بھارت کی بربریت پوری دنیا کے سامنے ہے ،لیکن عالمی اداروں کااس پرکوئی متحرک کردارسامنے نہیں آرہا۔بھارت نہ ہی کسی عالمی وفد کومقبوضہ کشمیر کارخ کرنے دیتاہے اورنہ ہی سیزفائر
لائن جسے شملہ معاہدہ میں کنٹرول لائن کانا م دے دیاگیاتھا پرآئے روز کی فائرنگ سے بازآرہاہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اورموبائل سروس بھی بندکررکھی ہے تاکہ ذرائع ابلاغ سے اس کامکروہ چہرہ دنیا کے سامنے نہ آسکے۔مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت نے کنٹرول لائن پربھی محاذکھول رکھاہے اورآئے روز پاکستان کے سرحدی علاقوں ،بالخصوص ،آزاد کشمیر کے علاقوں پر فائرنگ کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔بھارتی خارجہ پالیسی کاسب سے مرکزی مقصد ہی یہ ہے کہ کشمیر یوں کی جدوجہد آزادی سے یکسرانکا ر کیاجائے ۔ایک طرف کنٹرول لائن مسلسل لہولہان بنائی جاتی ہے اوردوسری طرف وادی کے اندربھارت کی قابض افواج نے نہتے کشمیریوں کی زندگیاں حرام کررکھی ہیں۔یہ سب ظلم وستم اپنی جگہ مگریہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو کچل نہیں سکااوراس وقت بھارتی افواج نے سری نگرسمیت وادی کے تمام شہروں میں کشمیریوں پرظلم وستم کی انتہا کررکھی ہے۔نہ صرف نہتے کشمیریوں کے خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے بلکہ آزادی کی اس جنگ میں ہر سال سینکڑوں ،ہزاروں باعصمت خواتین کی عزت وعفت لوٹ کربھارتی درندے،مکروہ جنسی عزائم کی تکمیل بھی کرتے ہیں۔کشمیرپاکستان کی طرف دیکھ رہاہے اورپاکستان میں آج تک کوئی ایسا لیڈرسامنے نہیں آسکاجس سے یہ توقع کی جاسکے کہ وہ کوئی مثبت کرداراداکرسکے گا۔اس تنازعہ کاحل صرف طاقت میں ہے اوراگردونوں ممالک میں ایک دوسرے کے خلاف عسکریت کے محاذ کھولے گئے توخطے میں ایٹمی جنگ شروع ہوسکتی ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی عالمی جنگ کو خودپرمسلط کر رکھاہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اب اقوام متحدہ اورعالمی طاقوں کونہتے کشمیریوں پرہونے والے ظلم وستم کانوٹس لے لیناچاہیے ورنہ یہ بات اب پوری دنیا پرآشکارہے کہ جنوبی ایشیا میں کسی وقت بھی ایٹمی جنگ کاآغازہوسکتاہے۔
پیپلزپارٹی ڈپٹی چیئرمین سینٹ پررحم کرے!
گزشتہ ماہ سینٹ کے 52نئے ارکان سمیت نئے چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین کاچناؤ عمل میں آیا۔بلوچستان سے کامیاب ہونے والے5سینیٹروں پرمشتمل آزاد گروپ نے پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کے تعاون سے ایوان بالا کے چیئرمین کے لیے صادق سنجرانی جبکہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے اپنے امیدوار سلیم مانڈوی والاکوکامیاب کروالیا۔وفاق میں حکمران اوربلوچستان اسمبلی میں 12نشستیں رکھنے والی مسلم لیگ (ن) نہ صرف راجہ ظفرالحق کوکامیاب کروانے میں ناکام رہی بلکہ بلوچستان میں اپنے ارکان صوبائی اسمبلی سمیت اتحادیوں پر موثرکنٹرول رکھنے سے بھی قاصر رہی ۔بدقسمتی کے ساتھ12مارچ سے لے کرآج تک چیئرمین سینیٹ اورڈپٹی چیئرمین کے عہدے تیز وتندہواؤں کے علاوہ الزام تراشیوں اورطعنوں کی زد میں ہیں۔اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہوناچاہیے کہ نوازشریف دشمنی میں عمران خان اورآصف زرداری نے چندآزادارکان کوساتھ ملاکرصادق سنجرانی کوکامیاب کروالیاجبکہ پینل میں شامل سلیم مانڈوی والا 54ووٹوں کے ساتھ ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔پیپلزپارٹی اس انتخاب کو اپنی کامیاب سیاسی حکمت عملی جبکہ تحریک انصاف اپنے موقف کی فتح قراردینے میں مصروف ہے توحکمران مسلم لیگ (ن) چیئرمین سینیٹ پر مسلسل پیسے کے زورپرکامیاب ہونے کے الزامات لگارہی ہے۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اورسابق وزیراعظم نوازشریف اب تک صادق سنجرانی کے انتخاب کوجن نظروں سے دیکھ رہے ہیں وہ افسوسناک جبکہ بلاول بھٹو ،سیدخورشیدشاہ،مولابخش چانڈیو سمیت پیپلزپارٹی کے لیے بھی سیاسی آداب کے خلاف ہے۔104رکنی ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے53ووٹ کی ضرورت تھی جبکہ پیپلزپارٹی 20اورپی ٹی آئی 31ممبران کے ساتھ ایوان بالا میں موجود تھیں۔حکمران لیگ کوشکست دلوانے کاکریڈٹ لینے کے ساتھ بلاول بھٹو بارباراسے زرداری فیکٹر کی کامیابی قراردے کرکیاحاصل کرناچاہتے ہیں ،اس کی وضاحت تووہ خودکرسکتے ہیں لیکن تین چارروزقبل انہوں نے عمران خان کوکہاکہ ابھی توان کے انگوٹھے سے سلیم مانڈوی والاکودئیے جانے والے ووٹ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی مگروہ پیپلزپارٹی کی مخالفت کرنے لگے ہیں مگرآئندہ سیاست میں بھی پیپلزپارٹی کی حمایت کرنے پرمجبور ہوں گے۔مختلف نیوزچینلز پرہونیو الے ٹاک شوز میں بھی پی پی پی کے حامی عمران خان پرسلیم مانڈوی والاکوووٹ دینے کاباربار’’قصوروار‘‘قراردے کرعارضی مفاہمت یاسیاسی ضرورت کوخوامخواہ دھندلانے کی کوشش کررہے ہیں جس کاردّعمل ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں بھی نکل سکتاہے۔ عام ساآدمی بھی یہ بات سمجھتاہے کہ مسلم لیگ (ن)کے امیدوار کوشکست دینے کی طاقت نہ پیپلزپارٹی کے پاس تھی نہ تحریک انصاف اس پوزیشن میں تھی یہی وہ نقطہ تھا جس پردونوں جماعتیں ایک ہوگئیں ۔صادق سنجرانی کاتعلق بظاہرکسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں مگر ماضی میں ان کی سیاسی وابستگی مسلم لیگ(ن)اورپیپلزپارٹی کے ساتھ رہی ہے۔1998ء میں وزیراعظم نوازشریف کے مشیرمقررہوئے جبکہ2008ء سے2012ء تک وہ وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے مشیربھی رہ چکے ہیں۔تحریک انصاف نے استحکام جمہوریت کی بجائے حکومت کونیچادکھانے کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی جھولی میں اپنی حمایت ڈال دی اورصادق سنجرانی کوکامیاب کروانے کے لیے سلیم مانڈوی والا کوبھی ووٹ دینے کی کڑوی گولی نگل لی۔قمرالزمان کائرہ ،نبیل گبول اورشہلارضا سمیت پیپلزپارٹی کے متعدد دیگر راہنمابھی باربارتحریک انصاف کواپنے امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کاطعنہ دے کر حاصل کیاکرناچاہتے ہیں اوران کی تنقید کاانجام کیاہوگا؟ اگرکل کلاں تحریک انصاف سلیم مانڈوی والاکے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پرمجبور ہوگئی تواس کی ذمہ داری کس پرہوگی؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب پیپلزپارٹی کی قیادت اوراس کے راہنماؤں کوسمجھناچاہیے ،لیکن ایسے لگتاہے پیپلزپارٹی والے خود سلیم مانڈوی والاکوڈپٹی چیئرمین سینٹ نہیں دیکھناچاہتے ہیں۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی چھ اپریل کوجس ٹیکس ایمنسٹی سکیم کااعلان کرچکے ہیں،اسے آرڈیننس کے ذریعے نافذ کردیاگیا توپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اس کی منظوری مشکل ہوجائے گی لیکن مسلم لیگ ن کے پاس اس کا حل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکرمنظوری لینے کی صورت میں موجود ہے لیکن اگرڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی توپیپلزپارٹی کے لیے مشکل صورتحال پیداہوسکتی ہے۔6ستمبر کوموجودہ صدرممنون حسین اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکے ریٹائر ہورہے ہیں جس کے بعدصادق سنجرانی قائمقام صدربن گئے توحکمران مسلم لیگ (ن) خود کہاں کھڑی ہوگی؟اوراگرسلیم مانڈوی والاکے خلاف تحریک عدم اعتماد آتی ہے توان کے لیے سینیٹ اجلاسوں کی کارروائی چلاناشاید ممکن نہ رہے۔یہی نقطہ پیپلزپارٹی کو سمجھناچاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں