امریکی ملٹری اتاشی اورسفارتخانے کا تضحیک آمیز روّیہ

تین روزقبل دارالحکومت اسلام آباد کی ایک شاہراہ پرغفلت ولاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنیو الے ا مریکی اتاشی کرنل جوزف ایمنوئیل کی گاڑی سے ٹکراکرہلاک ہونے والے ایک نوجوان اوراس کے ساتھی کے شدیدزخمی ہونے کاحکومت پاکستان نے سخت نوٹس لیتے ہوئے امریکی سفیرڈیوڈ ہیل کو نہ صرف وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج کیابلکہ مقامی پولیس سے ضابطے کی کارروائی نہ کرنے پرجواب بھی طلب کرلیا۔سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ ایکسیڈنٹ کی وجہ جوزف ایمنوئیل کی طرف سے ٹر یفک سگنل کی خلاف ورزی تھی صرف یہی نہیں بلکہ اس وقت امریکی ملٹری اتاشی نشے کی حالت میں تھا ۔ڈیوڈہیل نے پاکستانی شہری کی ہلاکت پرافسوس کااظہار اورمعاملے کی تحقیقات میں تھانہ کوہسارپولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی ضرورکروائی مگرحادثے کے ذمے دار امریکی سفارتکار کوپیش کرنے سے انکارکردیا ۔وزارت خارجہ نے اس حوالے سے پاکستانی قوانین اورویاناکنونشن کی روشنی میں انصاف یقینی بنانے کاعندیہ دیتے ہوئے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے ملزم کوچھوڑنے کی وجوہات بھی طلب کرلیں۔قانون کے مطابق ملزم اوراس کی گاڑی کوتھانہ کوہسارپولیس تھانے لے کرآئی اورکارروائی شروع کی تواسی دوران امریکی سفارتخانے کے متعدد اہلکار بھی وہاں پہنچ گئے اورکرنل جوزف کے سفارتی استثنیٰ کاحوالہ دیتے ہوئے اسے چھڑاکرلے گئے ۔بعدازاں جب ملزم کوتفتیش کے لیے طلب کیاگیاتوامریکی سفارتخانے کی طرف سے ایساکرنے سے انکارکرتے ہوئے واضح کیاکہ پاکستانی وزارت خارجہ کے احکامات کے بغیرایساممکن نہیں ۔سب سے تکلیف دہ امریہ ہے کہ پاکستانی ٹریفک سارجنٹ نے میڈیکل کروانے کاکہا تاکہ اس بات کایقین کیاجاسکے کہ حادثے کے وقت ملزم ہوش میں تھایانہیں ۔گزشتہ36گھنٹے کے دوران سامنے آنے والے حقائق سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ کرنل جوزف اس سانحے کاذمہ دارہے۔پاکستان سمیت دنیابھر میں سفارتکاروں کے لیے جس استثنیٰ اوراحترام کوتسلیم کیاجاتاہے،وہ کسی بھی دوسرے ملک کے سفارتی عملے کی مشکوک ،قابل اعتراض سرگرمیوںیااپنی حدود سے تجاوزکرنے کے بارے میں ہے مگرمتعلقہ ملک کے قوانین کی خلاف ورزی عمداََقانون شکنی پرضابطے کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ دنیاکی واحدسپرپاور اورپاکستان کاقریبی اتحادی ہوناالگ چیز ہے جبکہ قوانین کی پاسداری الگ معاملہ ۔یہ بات اب واضح ہوچکی ہے کہ کرنل جوزف اگرٹریفک سگنل کااحترام کرتے ہوئے ریڈلائٹ پرگاڑی روکتے تویہ حادثہ نہ ہوتا۔بدقسمتی سے ماضی میں بھی2010ء اور2013ء کے دوران امریکی سفارتکاروں کی طرف سے لاپرواہی سے ڈرائیونگ کے دوسنگین واقعات رونماہوچکے ہیں مگرپاکستانی پولیس سمیت متعلقہ حکام کے مصالحانہ روئیے کے باعث قانونی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی ۔چندروزقبل پاکستان کے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی امریکہ کے نجی دورہ پرگئے توواشنگٹن ائرپورٹ پر نہ صرف ان کی تلاشی لی گئی بلکہ انہیں تمام مروجہ قانونی مراحل سے بھی گزرناپڑاتھا۔اس سے ظاہرہوگیا کہ کوئی شخص چاہے کتنا ہی بااثراوراعلیٰ عہدے پرمتمکن کیوں نہ ہو،قانون پرعملدرآمد اس کی ذمہ داری ہے۔بدقسمتی سے سات برس پہلے امریکی باشندے ریمنڈڈیوس نے لاہورکے مزنگ چوک میں نہ صرف اپنی گاڑی ہجوم پرچڑھائی تھی بلکہ فائرنگ کرکے دوبے گناہ پاکستانی شہریوں کو موت کی نیند سلا دیاتھااگرچہ اس وقت ملزم کوگرفتار اوراس کے خلاف مقدمہ درج کرکے عدالتی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی بلکہ وہ کچھ روزجیل میں بھی رہا مگراس وقت کے صدرآصف زرداری ،وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اوروزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اورمتاثرہ خاندانوں کے افراد نے قانونی کارروائی منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کو صلح اوردیت کے باعث پاکستان سے فرار ہونے دیاحالانکہ اس نے قتل دانستہ اوربقائمی حواس کئے تھے ۔یہ بات بھی کھل کرسامنے آئی کہ اس کاتعلق امریکی تنظیم بلیک واٹرسے تھامگرامریکہ کی پوری ریاست اورصدرباراک اوبامہ ملزم کی پشت پرکھڑے ہوگئے اور دھونس،دھاندلی،جبر،سفارتی دباؤ اورتحریص کے ذریعے اس کی رہائی تک لمحہ بہ لمحہ حکومت پاکستان کے ساتھ رابطے میں رہے۔واقفان حال یہ بھی جانتے ہوں گے کہ اس کی رہائی کے لیے لاہور ائرپورٹ پر ایک چارٹرڈ طیارہ خصوصی طورپردوروزتک اسے پاکستانی حدود سے باہرلے جانے کے لیے کھڑارہاتھا۔اب جبکہ حکومت پاکستان نے معاملے پرخصوصی توجہ مبذول کرلی ہے توامیدکرنی چاہیے کہ پاکستانی قوانین کوموم کی ناک اورایک پاکستانی نوجوان کی زندگی کومحض ایک پھول سمجھ کر بیدردی سے مسلنے والے امریکی سفارتکارکوملک سے فرارہونے کاموقع دیاجائے گانہ ہی وائٹ ہاؤس یاپینٹاگون سے آنے والے کسی ٹیلی فون پرحکومت پاکستان ڈھیرہو گی۔واحد مسلم ایٹمی قوت اوردنیاکاگیارہواں بڑاملک ہونے کے ناطے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کو کوئی کمزوری نہیں دکھانی چاہیے بلکہ کرنل جوزف کوتمام قانونی مراحل سے گزارنے کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے تاکہ ایک آزاد،خودمختار باورباوقار ملک کے طورپرپاکستان اپنی ساکھ بحال کرسکے۔ 
صاف پانی منصوبے پرسپریم کورٹ کی برہمی 
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے گزشتہ روز تعطیل کے باوجود لاہور رجسٹری میں مفادعامہ کے متعلق متعدد معاملات پرلئے گئے ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران پنجاب میں صاف پانی کمپنی کیس پرچیف سیکرٹری کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ مسترد کردی اورقراردیاکہ 400کروڑ روپیہ خرچ کرنے کے باوجود شہریوں کوپینے کاصاف پانی میّسرنہ آنا افسوسناک 
ہے۔ انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ سرکاری اشتہارات پر بھاری رقوم خرچ کردی گئیں مگرمنصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا۔سابق سی ای اووسیم اجمل نے عدالت کوآگاہ کیاکہ پنجاب حکومت کے حکم پرصاف پانی کمپنی سے مقامی ماہرین کوہٹاکربیرون ملک کے ایکسپرٹس رکھے گئے ہیں ۔چیف جسٹس نے بھاری تنخواہوں پررکھے گئے غیرملکی ماہرین کوسرکاری فنڈز کاضیاع قراردیتے ہوئے کہا کہ قوم کاپیسہ ضائع نہیں ہونے دیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ کیوں نہ یہ معاملہ نیب کے حوالے کردیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔چیف جسٹس نے قائداعظم سولرپلانٹ چولستان میں اب تک ہونے والے اخراجات اوربجلی کی پیداوار کے بارے میں بھی شدیدردعمل ظاہرکرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اورایڈووکیٹ جنرل کو14اپریل تک پاورکمپنیوں کی کارکردگی اوراخراجات کی رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔جہاں تک سپریم کورٹ کے ازخود نوٹسز کاتعلق ہے تواسے چند سیاستدانوں ،حکمرانوں یامخصوص افراد کے سوابہت بڑی اکثریت نہ صرف سراہتی بلکہ خزانے سے جاری ہونے والی رقوم کے درست اور بہترین استعمال کو یقینی بنانے کے مترادف سمجھتی ہے ،لیکن بیوروکریٹ ،مفادپرست اورچڑھتے سورج کے پجاری اپنی کمیشنوں ،کک بیکس اورمالی خوشحالی کی بنیادسمجھ کربڑے بڑے ٹھیکے غیرذمہ داروں کو دینے کی عادی ہوچکی ہے۔صاف پانی کی ضرورت وافادیت پرتوجہ دی جاتی تویہ منصوبہ بہت دیرپہلے مکمل ہوچکاہوتا۔صاف پانی کی فراہمی کاپروگرام سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے زمانے میں غیرملکی امدادسے شروع ہواتھا۔قوم کوآج تک شوکت عزیز کی وہ ٹیلی ویژن تقریر یادہوگی جس میں انہوں نے2008ء تک ملک کی ہریونین کونسل کی سطح پرواٹرفلٹریشن پلانٹ لگانے کی خوشخبری دی تھی مگرایسانہ ہوسکااوراس مقصد کے لیے پاکستان کو دی جانے والی امداد چندبیوروکریٹس ،ٹھیکیداروں اورسیاستدانوں کی جیب میں چلی گئی۔آصف زرداری2008ء سے2013ء تک ملک کے حکمران رہے مگرقوم کو صاف پانی نہ مل سکا اوراب گزشتہ پانچ برس سے حکمران مسلم لیگ (ن) گلی گلی،محلے محلے واٹرفلٹریشن پلانٹ لگانے کے نعرے لگا رہی ہے مگر حقیقت میں ابھی تک آدھے کے قریب علاقوں میں غریب یاکم وسائل والے شہریوں کوصاف پانی نہیں مل سکا جبکہ موجودہ فلٹریشن پلانٹس میں سے بھی آدھے کے قریب پرائیویٹ لوگوں نے اپنی جیب سے رقم خرچ کرکے لگوائے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف پوری جدوجہد کرکے صاف پانی کے لیے ہریونین کونسل کی سطح پریہ کام شروع کروائیں وگرنہ بہت ساری مالی بے ضابطگیاں منظرعام پر آنے کے ساتھ ان کا عرصہ اقتداربھی ختم ہوجائے گا۔ 
پی آئی اے کے طیاروں سے قومی پرچم غائب 
قومی ائیرلائن کے طیاروں کی دم پربنائے گئے قومی پرچم کواتارکر اس کی جگہ جانوروں او رپرندوں کی تصویریں لگانے کاسلسلہ شرو ع کردیاگیا ہے۔پی آئی اے انتظامیہ نے انتہائی غوروغوض کے بعد یہ فیصلہ کیاہوگاجس کی کوئی نہ کوئی توجہہ،ضرورت اورافادیت ضرور ہوگی۔آئی اے ٹی اے(I.A.T.A)کے پاس رجسٹرڈ دنیابھرکی سرکاری نیم سرکاری، نجی ائیرلائنز اپناخصوصی لوگو منظورکرواتی ہیں جودیگر فضائی کمپنیوں کے پائلٹس،اسسٹنٹ پائلٹس،فضائی میزبانوں اورگراؤنڈعملے تک کے علم ومشاہدے میں آتے ہیں اوروہ اس کمپنی کے جہازوں یاائرپورٹس پران کے انفارمیشن سینٹرز کودیکھتے ہی بے ساختہ اس ملک کانام زبان پرلے آتے ہیں ۔1953ء میں قائم ہونے والی پی آئی اے نہ صرف دنیابھر میں ایک مخصوص پہچان اوراہمیت رکھتی ہے بلکہ اقوام عالم میں اپنے ملک کی شہرت ومقبولیت کی بنیاد بھی بنتی ہے۔ایک وقت تھاجب پاکستان کی قومی ائرلائن کودنیابھر میں پابندی وقت،صفائی ستھرائی،ائرہوسٹسز کے باوقارلباس،سٹیواڈز اوردیگرکریو(CREW) کے باعث انتہائی معتبر مقام حاصل تھامگردیگراداروں کی طرح یہاں بھی خلاف میرٹ بھرتیوں ، سفارشوں اورنااہل لوگوں کی تقرریوں کے ساتھ اس فضائی سروس کو سمگلنگ جیسے مکروہ دھندے کے لیے بھی استعمال کیاجانے لگا۔آج سے25برس پہلے تک پی آئی اے دنیا کی واحدقومی ائرلائن تھی جوچاربراعظموں تک براہ راست پروازیں چلانے کی اجازت رکھتی تھی۔جاپان،ملائشیا،سنگاپور کے لیے پرل روٹ جبکہ چین ،جنوبی کوریا،ویت نام کے لیے سلک روٹ کے نام پرفلائٹس چلاتی تھی۔لندن ائرپورٹ کے علاوہ فرینکفرٹ ،پیرس اورزیورخ تک اس کی پروازیں پابندی وقت ،معیاری سروس اوراعلیٰ اخلاق کے حامل عملے پرمشتمل ہوتی تھی بعدازاں پی آئی اے نے واشنگٹن ،نیویارک تک اپنی سروسز کا سلسلہ بڑھایا جبکہ ریاض ،سعودی عرب، اردن،شام،مصر،لیبیاتک اورپھرسپین کے علاوہ اندرون ملک’’ باکمال لوگ ،لاجواب سروس ‘‘کے نام سے پروازیں بڑھائیں مگراس قومی ائرلائن کوچمٹی ہوئی جونکوں نے آخراسے خسارے میں جانے والی سروسز کی فہرست میں شامل کرڈالا۔آج پی ئی اے 32طیاروں کے ساتھ دنیا کی سب کم اعتماد والی کمپنیوں میں سے ایک اورپابندی وقت سے دورہوچکی ہے۔ماضی میں اسے کئی مرتبہ فروخت یانجی شعبہ کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندیاں ہوتی رہی ہیں۔آج کل اسے پرائیویٹائز کرنے کے لیے وزیرنجکاری دانیال عزیز اوروزیراعظم شاہدخاقان عباسی انتہائی سرگرم ہیں ۔دوروزقبل ہی سپریم کورٹ نے صورتحال کانوٹس بھی لے لیا ہے ۔ایسے لگتاہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے دورمیں پی آئی اے کوفروخت کرنے کے لیے اس کی دم سے قومی پرچم اتارنے کے بارے میں اجازت دیدی گئی ہوگی جس پراب عمل کیاجارہاہے جوکروڑوں پاکستانیوں کوقابل قبول نہیں ۔امیدہے قومی اسمبلی اورسینٹ اراکین 10اپریل کوشروع ہونے والے اجلاس میں اس معاملے اورخاص طورپرقومی پرچم ہٹانے جیسے معاملے کو تحریک التواء کے ذریعے زیربحث لانے کے ساتھ قومی شناخت کوپھرسے بحال کروادیں گے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں