ماورائے پارلیمنٹ قانون سازی

حکومت کی جانب سے نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا۔گزشتہ روزایوان بالا سے اپوزیشن نے اس معاملے پرواک آؤٹ بھی کیا۔اپوزیشن ارکان کاکہناتھا کہ صدارتی آرڈیننس لاکرپارلیمنٹ کی توہین اوراس کااستحقاق مجروح کیاگیاہے۔اپوزیشن کی جانب سے ایمنسٹی اسکیم کومسترد کرنے اوراحتجاجاََ وا ک آؤٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے خزانہ نے کہاکہ آرڈیننس کے اجراء سے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔گزشتہ روزچیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت جب سینیٹ کااجلاس شروع ہواتوایوان بالا کے سابق چیئرمین رضاربانی نے نکتہ اعتراض پراظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شب صدرمملکت نے ایک ساتھ چارآرڈ ی نینس جاری کئے جس سے لگتاہے کہ پارلیمنٹ کی بلڈنگ کے اطراف میں آرڈیننس فیکٹری لگ گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ حیرت ہے کہ صدرمملکت نے خودقومی اسمبلی اورسینیٹ کے اجلاس طلب کئے ہوئے تھے ،لیکن بارہ گھنٹے قبل رات کے اندھیرے میں آرڈی نینس جاری کردیے گئے ،یہ بات سمجھ سے بالاترہے۔سینٹ کے دیگر معزز ارکان شیری رحمن،رضاہراج،سراج الحق اوردیگران نے بحث میں حصّہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے چندروز قبل ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کااعلان کیااوراعلان سے قبل اکنامک ایڈوائزی کونسل سے مشاورت کی جس کی آئین میں کوئی حیثیت نہیں کیونکہ یہ محض ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے وجود میں آئی ہے جبکہ آرڈیننس کی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی جوکہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ارکان سینیٹ کااعتراض تھاکہ یہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے جس میں انکم ٹیکس ختم کیاگیاہے۔اگرحکومت کے ہاتھ صاف اورنیّت نیک ہے تواس کااطلاق پارلیمنٹ کے ذریعے ہوناچاہیے تھا۔دراصل گزشتہ دنوں وزیراعظم نے جن کی حکومت ایک دومہینوں میں اپنی مدت پوری کرنے والی ہے ،جس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کااعلان کیاہے،اس کے بہت سے حصے ہیں جن میں سے کچھ توبہت ہی قابل اعتراض اورمتنازعہ ہیں جیساکہ ان پاکستانیوں کو ٹیکس کی چھوٹ جن کے اثاثے غیر ممالک میں موجود ہیں یاپھرملک کے اندرظاہر نہ کئے جانے والے اثاثہ جات ۔حکومت کے پانچ سالہ دورِحکومت میں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی معاشی اورٹیکس اصلاحات کی بات کرتے رہے اورملک میں ان ا صلاحات کی اشدضرورت بھی ہے،لیکن موجودہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے مندرجات سے قطعاََ یہ ظاہرنہیں ہوتا کہ حکومت جاتے جاتے بھی ٹیکس اصلاحات کرنے میں سنجیدہ ہے ۔اس معاملے کازیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت نے قانون سازی میں حسبِ سابق شارٹ کٹ لگائی ہے اورپارلیمنٹ کوبائی پاس کرتے ہوئے صدرممنون حسین سے آناََفاناََ آرڈیننس جاری کروائے ہیں۔حکومتی وزراء کایہ استدلال کہ چونکہ حکومت اپنی مدّت پوری کرنے والی ہے اوروقت کم ہونے کی بناپریہ ٹیکس اصلاحات فوری نافذ ہونے کی متقاضی تھیں،اس لیے آرڈی نینسز کاسہارالیاگیا،حکومت کی نیک نیتی پرسے شکوک کے سائے کم نہیں کرتا۔اس ایمنسٹی اسکیم کواپنے انتخابی منشورکاحصہ بناکرنئی حکومت بننے تک التوامیں رکھاجاسکتاتھا۔اگرحکومت اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زیربحث لانے سے اس بنا پر کتراتی تھی کہ اسے سینیٹ سے مسترد ہونے کاڈرتھا تویہ ڈربے بنیادٹھہرے گاکیونکہ اول تواسے ایوان بالا میں پہلے سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہے اوردوسرے وہ ماضی کی طرح اپنے اتحادیوں کوساتھ ملا کربل پاس کرواسکتی تھی۔اب صورتحال یہ ہے کہ نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متنازعہ ہوگئی ہے اورحکومت کی جلدبازی سے یہ تاثر بھی تقویت پکڑرہاہے کہ یہ چندمخصوص لوگوں کونوازنے اورانتخابات سے قبل اپنے خاص ووٹرز کو خوش کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش ہے۔یہ وہ چیزہے جوزبوں حال ملکی معیشت کے لیے کسی طوردرست نہیں ۔اس معاملے میں پارلیمنٹ کوبائی پاس کرناایساخطرناک پہلوہے جوجمہوریت کومستحکم کرنے میں مددگارثابت نہیں ہوسکتاہے۔ 
سارک کانفرنس کوناکام بنانے کی بھارتی کوششیں 
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی پاکستان کودنیا میں تنہاکرنے اوردہشتگرد ریاست قراردینے کے لیے ماضی میں جوگھٹیا ہتھکنڈے استعمال اورسازشی کرداراداکرتارہاہے،اسے دوآتشہ کرنے کے لیے ایک بارپھرسفارتی محاذ پرسر گرم ہوچکاہے۔رواں سال اسلام آباد میں ہونے والی آٹھ ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے سربراہی اجلاس کوسبوتاژ کرنے کے لیے نئی دہلی نئے تانے بانے بُننے لگاہے۔بھارت کے دورے پرآئے ہوئے نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما کے ساتھ ملاقات کے دوران متعصب بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف زہرافشانی کرتے اوراپناخبث باطن ظاہرکرتے ہوئے آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے سارک اجلاس کوخارج ازامکان قراردیتے ہوئے اپنے نیپالی ہم منصب پرزوردیتے ہوئے کہاکہ خطرات سے بھرے ماحول میں شرکت ممکن نہیں ۔نریندرمودی نے نیپال پربھی سارک کانفرنس کابائیکاٹ کرنے پرزوردیا۔بعدازاں بھارتی سیکرٹری ویجاج گوکھل نے بھی ایک میڈیابریفنگ میں صحافیوں کوممکنہ خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت سرحدوں پر بڑھتی کشیدگی کے باعث بھارتی وزیراعظم نریندرمودی سارک کانفرنس کابائیکاٹ کررہے ہیں۔ایسے حالات میں نیپال کوبھی بھارت کاساتھ دینا چاہیے۔جہاں تک بھارتی سوچ اورشرمناک روئیے کاتعلق ہے تواسے اسلام آباد نے ہمیشہ نہ صرف مسترد کیابلکہ پاکستان دشمنی بلکہ جنگی جنون قراردیتے ہوئے حقائق دنیاکے سامنے رکھے۔دوبرس قبل بھی نریندرمودی نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس کوناکام بنانے کے لیے بنگلہ دیش،نیپال،بھوٹان اورافغانستان کواپناہمنوا بناکراجلاس میں شرکت سے انکارکردیاتھا۔سنجیدگی اورگہرائی سے دیکھاجائے توبھارت کے شمال مغرب میں واقع دوچھوٹے ملک یعنی نیپال اوربھوٹان چونکہ انتہائی چھوٹے اورکمزور ہیں،ان کی تجارت اورضروریات زندگی کادارومدار بھی نئی دہلی کے ساتھ دوستی کی فضاقائم رکھنے میں ہے ،اس لیے شاید وہ بھارتی دباؤ میں آجائیں تاہم افغانستان اورسری لنکا کو سارک اجلاس میں شرکت یقینی بنانے میں بہتری سمجھنی چاہیے ۔مالدیپ بھی ایک چھوٹا ساجزیرہ اوربھارتی بحریہ کے حصارمیں ہونے کے باعث مصلحت آمیز سوچ کا حامل ہوجائے لیکن یہ بات طے ہے کہ مذاکرات ،دوستی ،تعاون اوراشتراک ہی وہ روّیہ ہے جس کے باعث اختلافات کوکم اورنفرتوں کومحبتوں میں تبدیل کیاجاسکتا ہے۔بھارت کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ سارک تنظیم ایشیائی ممالک کاایسامعاشی اتحاد ہے جواپنے اپنے علاقوں میں ایک دوسرے کی مصنوعات بڑی تعداد میں حاصل یافروخت کرکے تجارتی ،ثقافتی،پیداواری وبرآمدی شعبوں میں ایک دوسرے کے مزیدقریب آسکتے ہیں۔افغانستان کے صدراشرف غنی پاکستا ن کے خلاف طویل محاذ آرائی کے بعد گزشتہ ہفتے پاکستانی آرمی چیف اوربعدازاں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کے کابل کادورہ اوراپنے ہم منصبوں اوراعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے دوران ماضی کی تلخیاں بھلاکر’’جیواورجینے دو‘‘کی پالیسی اپنانے پراتفاق بھی کرچکے ہیں ۔افغان حکومت اگربھارتی دھونس ،دھاندلی ،دباؤیادھمکی کونظرانداز کرکے سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کااعلان کردے توبھارتی غبارے سے ہوانکل سکتی ہے۔یہ درست ہے کہ پاکستان گزشتہ16برس میں دہشتگردی کے بدترین دورسے گزرتارہاہے مگرآپریشن ضرب عضب اوراب جاری آپریشن ردّالفساد کے باعث صورتحال انتہائی مختلف بلکہ پرسکون ہوچکی ہے جس کی بہترین مثال پی ایس ایل تھری میں شامل ایک درجن کے قریب غیر ملکی کرکٹرز کی پاکستان آمد اوربعدازاں ویسٹ انڈین کرکٹ کایکم یاچاراپریل کراچی میں ٹی ٹونٹی میچ کھیلناہے۔سری لنکا ،مالدیپ بہرصورت سارک اجلاس میں شرکت پرآمادہ ہوں گے ۔نیپال کواپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہیے کیونکہ پاکستان میں اب امن بحال اوردہشتگردی کاعفریت دم توڑچکاہے۔بھارتی وزیراعظم کویاد رکھناچاہیے کہ نفرتیں صرف نفرتوں کوجنم دیتی ہیں بھارت اورپاکستان ہمسائے ہیں او ررہیں گے۔جنگی جنون کبھی مسائل حل نہیں کرسکے گابہترہے نریندرمودی صلح اورمفاہمت کی طرف لوٹ آئیں۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں