نئے صوبے بنانے کی تحریک ۔۔۔سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ

چندروزقبل جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے چھ جبکہ پنجاب اسمبلی کے دوارکان نے اپنی پارٹی سے علیحدگی اوراسمبلی رکنیت چھوڑنے کے ساتھ ہی ’’صوبہ پنجاب محاذ‘‘ کے نام سے جس نئی جدوجہد کااعلان کیاتھا،وہ حکمران جماعت سمیت تمام سیاسی پارٹیوں ،سیاستدانوں ،معیشت دانوں ،بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں سمیت عام آدمی کے لیے بھی غوروفکر کامقام بن کرسامنے آیا۔سابق نگران وزیراعظم سرداربلخ شیرمزاری کے دائیں بائیں بیٹھ کر پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے ارکان قومی اسمبلی راناقاسم نون اورخسروبختیار نے نئے صوبے کی ضرورت،افادیت واہمیت کے بارے میں جوحقائق بیان کئے ،وہ نئے تھے نہ بے وزن،مگرمسلم لیگ(ن)چھوڑنے کے لیے جس وقت کاانتخاب کیاگیا،وہ حیران کن ضرورتھاقیام پاکستان کے وقت ساڑھے تین کروڑانسانوں والا مغربی پاکستان چارصوبوں یعنی پنجاب ،سندھ،سرحداوربلوچستان پرمشتمل تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ آبادی بڑھتی اورنئے نئے مسائل سراٹھاتے رہے جنہیں حل کرنے کے لیے ڈویژنوں کاقیام اورانتظامی امور میں بہتری لائی جاتی رہی لیکن عوامی خواہشات پربہت کم توجہ دی گئی۔اس بات پرکوئی اختلاف نہیں کہ پنجاب اپنی آبادی،شرح خواندگی،انتظامی اہمیت اورمعاشی ومعاشرتی صورتحال کے لحاظ سے دیگرتما م صوبوں سے بہترپوزیشن میں تھاانگریز دورمیں بھی نئی دہلی کے بعدلاہوراہم انتظامی ہیڈکوارٹر سمجھاجاتارہا۔جالندھر،امرتسراورگرداس پور بھی اس کی عملداری میں شامل تھے ۔ اپنی علاقائی اہمیت اورانتظامی تقسیم کے تحت14اگست1947ء کودوتہائی پنجاب مسلم آبادی کی اکثریت کے باعث پاکستان کاحصہ بن گیا۔نواب مشتاق گورمانی اورسردار حیات ٹوانہ جیسے سیاستدانوں نے لاہور پرہی توجہ مرکوز کئے رکھی جبکہ ممتازدولتانہ جیسے طالع آزمابھی رحیم یارخان اورصادق آبادتک پھیلے پنجاب کی عوامی ضروریات پوری کرنے پر توجہ نہ دے سکے ۔قریب واقع ریاست بہاولپور کے مالی ،انتظامی ،معاشرتی حالات اس وقت بھی بہت بہتر تھے اوریہاں حکمران عباسی خاندان انتظامی سہولتوں کی فراہمی پرخصوصی توجہ دیتے رہے۔پرنس صلاح الدین عباسی اورنواب صادق عباسی انصاف پرخصوصی توجہ دیتے تھے جس کے باعث ملحقہ علاقوں کے لیے ریاست بہاولپور آئیڈیل صورتحال کے طورپر دیکھی جاتی تھی۔آزادریاست کے طورپرخاتمے اورمغربی پاکستان کاحصہ بننے کے باوجود برسوں تک بہاولپور پنجاب کی سیاست میں اہم کرداراداکرتارہا جبکہ ڈیرہ غازیخاں ،بھکر،ملتان،رحیم یارخان میں غربت،پسماندگی ،شرح تعلیم اورحصول علم کے مواقع میں کمی کے ساتھ انتظامی امورمیں بھی انتہائی کم نمائندگی کے باعث محرومیوں کاشکار رہے۔1970ء میں پہلی دفعہ ون مین ون ووٹ کی بنیادپر عوامی نمائندگی ملنے کے بعدملتان کے نواب صادق حسین قریشی اوربہاولپور کے نواب صلاح الدین عباسی نہ صرف پنجاب بلکہ قومی اسمبلیوں میں موجود اورذوالفقارعلی بھٹوکے اقتدار میں شامل رہے مگر یہاں کی پسماندگی ومحرومیوں کے خاتمے کے لیے اٹھنے والی آوازپر کبھی توجہ نہ دی گئی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ’’پنجاب کامقدمہ‘‘لڑنے والے حنیف رامے جیسے دانشوربھی جنوبی پنجاب کی آوازبلند نہ کرسکے۔جنرل ضیاء الحق ،محترمہ بے نظیربھٹو،نوازشریف اورجنرل پرویز مشرف کے ادوارحکومت میں بھی خطے کی صورتحال بہتربنانے پرکوئی توجہ نہ دی گئی۔2008ء میں برسراقتدار آنیو الے آصف زرداری اوریوسف رضاگیلانی اپنے ابتدائی دورمیں جنوبی پنجاب کے متعلق خامو ش رہے مگر2012ء کے آخر میں جب عوام کوکچھ ڈلیور نہ کرنے کے باعث پیپلزپارٹی پنجاب میں مزید کمزورہوئی توجنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کاایشو سامنے لے آئی۔ا س زمانے میں صدرزرداری کے خصوصی مشیر فرحت اللہ بابر کی کاوشوں سے قومی اسمبلی میں صوبہ جنوبی پنجاب کے لیے نہ صرف قرارداد منظور کی گئی بلکہ اسے عملی شکل دینے کے تمام انتظامی وقانونی پہلو بھی دستاویزی شکل میں سامنے آگئے مگرپنجاب اسمبلی سے قرارداد کی منظور ی آئینی ضرورت تھی جومیاں شہبازشریف کی وزارت اعلیٰ کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔371رکنی پنجاب اسمبلی میں 110ممبران کے باوجودپیپلزپارٹی قراردادمنظورنہ کرواسکی کیونکہ نئے صوبے کے قیام کے لیے دوتہائی اکثریت کی ضرورت تھی۔مسلم لیگ(ن)200سے زائدارکان رکھنے کے باوجود جنوبی پنجاب کونیاانتظامی یونٹ بنانے سے گریزاں رہی۔اس محرومی کاازالہ جنوبی پنجاب میں آبادی کے لحاظ سے صوبائی فنڈز کااستعمال بھی بڑھادیاجاتاتوشایدنئے صوبے کی آواز پوری قوت سے سامنے نہ آتی ۔گزشتہ روز لاہورمیں میاں شہبازشریف نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سعود مجید،عرفان ڈرہا،ریاض پیرزادہ،جعفرلغاری،اسلم بودلہ ،ثقلین بخاری اورحفیظ الرحمن دریشک جیسے افراد کے ساتھ ملاقات میں جنوبی پنجاب کی صورتحال پرتبادلہ خیال ضرورکیامگر ان کاانداز گفتگو نئے صوبے کے لیے فراخدلانہ رضامندی کی بجائے محض ترقیاتی بجٹ کا 36فیصد جنوبی پنجاب پرخرچ کرنے کے دعوے تک محدودرہا۔جنوبی پنجاب کے جغرافیائی محل وقوع پر گہری نظرڈالی توملتان میں میٹروبس کے علاوہ یہاں نئے تعلیمی اداروں کے قیام،غربت وبے روزگاری کے خاتمے اوربنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے شایدعوامی وزیراعلیٰ وہ کچھ نہ کرسکے جوہونا
چاہیے تھا۔صرف لاہور میں 42ارب کی میٹروبس اور1600ارب کی اورنج لائن ٹرین چلانے ،سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال،کالج،یونیورسٹیاں بنانے والی مسلم لیگی حکومت بہاولنگر،لودھراں ،چشتیاں ،صادق آباد جیسے علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراوانی نہ کرسکی ۔چولستان،بہاولپوراوررحیم یارخاں میں دبئی کے حکمرانوں کے سرمائے سے ایک دواچھے ہسپتال یاتعلیمی ادارے توبن گئے مگرمحترم شہبازشریف وہاں صرف دانش سکول اورمراکز صحت ہی بناتے رہے حالانکہ پیپلزپارٹی کے نعرے کوبے اثر بنانے کے لیے انہیں جنوبی پنجاب پرخصوصی توجہ دینی چاہیے تھی۔سابق وزیراعظم نوازشریف نے بھی گزشتہ روزمسلم لیگ (ن) چھوڑنے والے آٹھ ارکان اسمبلی کی جائز شکایات کے ازالے کی بجائے’’پارٹی چھوڑنے والے کبھی ہمارے تھے ہی نہیں‘‘کہہ کر نئے صوبے کی تحریک میں نئی جان پیداکردی۔یہ کہناکہ کچھ لوگوں کے دلوں میں اچانک عوام کی محبت جاگنے کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ ہے ،شایددرست نہیں۔سنجیدگی کے ساتھ دیکھاجائے توآبادی،وسائل اورضروریات بڑھنے کے ساتھ نئے صوبے بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ اعلان آزادی کے وقت19 صوبوں والے بھارت میں آج29جبکہ افغانستان میں 15کی بجائے34صوبے بن چکے ہیں۔پیپلزپارٹی کی طرح تحر یک انصاف نے بھی جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے مطالبے کی حمایت کرکے دراصل آئندہ الیکشن کے لیے علاقے کے الیکٹ ایبلز کواپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے حالانکہ 21کروڑ کے پاکستان میں صرف پنجاب کی آبادی گیارہ کروڑ ہے جبکہ سندھ،بلوچستان اورخیبرپختونخواہ سمیت شمالی علاقوں کو ملاکرآبادی 9کروڑبنتی ہے۔ملتان تاکراچی اورملتان تابلوچستان نئی موٹرویز ،قومی شاہراہوں اوردیگرتعمیراتی پراجیکٹس کاحوالہ دینے والی مسلم لیگی حکومت کوسمجھناچاہیے یہ کہ منصوبے سی پیک کے باعث ہیں جن کے پیچھے چین کی 12ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے ۔محترم بلخ شیرمزاری کو نئے صوبے کی حمایت کرنے کی بجائے پہلے یہ دیکھناچاہیے کہ اس علاقے سے46ارکان قومی اسمبلی میں سے کتنے جنوبی پنجاب کاقیام چاہتے ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ پنجاب اسمبلی سے الگ صوبے کی قرارداد کی منظوری کے لیے کیاان کے پاس کافی عوامی حمایت بھی ہے یانہیں۔میاں شہبازشریف سے پہلے خودمیاں نوازشریف ،غلام حیدروائیں،منظوروٹو اورپھولنگر سے تعلق رکھنے والاسیاسی خاندان بھی پنجاب کے حکمران رہ چکے ہیں اگرجنوبی پنجاب کونیاصوبہ بنانے کی تحریک شروع ہوئی توہزارہ کوصوبہ بنانے کی آواز بھی بلند ہوگی اورآج کل اختلافات کی زد میں آنے والی ایم کیوایم بھی کل کوکراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بات کرے گی۔وقت آگیاہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں سرجوڑکر بیٹھیں اورصورتحال کا کوئی متفقہ حل نکالیں وگرنہ منظورپشتن کی طرح کوئی اورطالع آزما سامنے آسکتاہے۔
کسانوں کو گنے کی ادائیگی کے لیے سپریم کورٹ کے احکامات
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے شوگرملز مالکان کی جانب سے کاشتکاروں سے خریدے گئے گنے کی عدم ادائیگی کانوٹس لیتے ہوئے 10یو م کے اندرادائیگی اوراس کے تصدیقی سرٹیفکیٹ عدالت میں جمع کروانے کے احکامات کے ساتھ ہی مقدمے کی سماعت کے لیے24اپریل کی تاریخ مقرر کردی۔کسانوں کی طرف سے عدالت عظمیٰ کوبھجوائی گئی درخواستوں کاازخودنوٹس لیتے ہوئے پنجاب اورسندھ سمیت ملک بھر کی تمام شوگرملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کوحکم دیاگیاہے کہ کاشتکاروں سے خریدے گئے گنے کی قیمتوں کی ادائیگی کاتصدیقی سرٹیفکیٹ عدالت میں جمع کروایاجائے ۔جہاں تک محترم چیف جسٹس کے نوٹس لینے کاتعلق ہے تواسے پاکستان کے معروضی حالات میں بڑی تبدیلی اورظلم وناانصافی کے خاتمے کی جانب ایک مثبت قدم قراردیاجائے گا۔ملک بھر میں موجود 88کے قریب شوگرملز میں سے زیادہ ترمالکان کاتعلق مسلم لیگ(ن)اورپیپلزپارٹی کے مرکزی راہنماؤں سمیت بااثرافراد سے ہے۔حکمران شریف خاندان کے علاوہ آصف زرداری کی ملکیت یاحصہ داری میں چلنے والی شوگرملز نومبر میں کرشنگ سیزن شرو ع کرنے میں بھی دانستہ تاخیر کرتی ہیں کیونکہ اس وقت تک تیارگنے کی فصل کا وزن دن بدن کم ہوتاجاتاہے جبکہ چھ مہینے فصل کی کاشت برداشت اورشوگرملز تک گناپہنچانے تک ان کی تمام جمع پونجی خرچ ہوچکی ہوتی ہے ۔گنے کی سرکاری قیمت180 روپے من مقررہونے کے باوجود شوگر ملز اس قیمت پرفصل نہیں خریدتیں بلکہ110سے130روپے فی من تک قیمت دیتی ہیں۔شوگرملز کے سامنے گنے سے لدی ٹریکٹر ٹرالیاں کئی کئی دن کھڑی رہتی ہیں جس سے گنے کاوزن کم جبکہ ٹریکٹرٹرالی کاخرچہ ان کی جیب پرپڑتاہے ۔خریداری کے وقت ملز کے کنڈے بھی ہزارکلوگرام کو800کلوگرام بتاتے ہیں جبکہ نقدادائیگی کی بجائے کسانوں کوتین تین چارچار ماہ کی تاریخ والے چیک دیئے جاتے ہیں جس کاواضح مطلب ہے کہ گنے سے تیارشدہ چینی مارکیٹ میں فروخت اورسٹاکسٹوں اورڈیلرز سے ایڈوانس رقوم لے کر شوگرملز مالکان اپنا منافع رکھ کرادائیگیاں کرتے ہیں جبکہ گنے کابیج،کھاد اوردیگراخراجات کاشتکارپہلے ہی کرچکے ہوتے ہیں۔وقت آگیاہے کہ شوگرملز مالکان اپنا رویہ بدلیں اورکاروباری طورطریقے اپنائیں وگرنہ تنگ آیاہواکسان احتجاجاََ گنے کی کاشت بندبھی کرسکتاہے وہ توا س کی جگہ کوئی اورفصل اُگالے گا مگرشوگرملز مالکان کی چیخیں نکل جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں