جنوبی پنجاب کس کا؟

تحریر:محمدعامرحسینیپاکستان مسلم لیگ نواز کے جنوبی پنجاب سے چھ ارکان قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے دو ارکان نے استعفا دے کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے آئندہ الیکشن میں حصّہ لینے کا اعلان کیا ہے ۔جن آٹھ ارکان اسمبلی نے مسلم لیگ نواز سے الگ ہونے کا اعلان کیا ان کا تعلق بہاول پور، بہاولنگر، رحیم یار خان اور راجن پور سے ہے اور یہ بزرگ سیاست دان میر بلخ شیر مزاری کی قیادت میں صوبہ جنوبی پنجاب محاذ بنا کر کھڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کے ساتھ جنوبی پنجاب کے اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی بھی کھڑے ہوں گے ۔جنوبی پنجاب کہلائے جانے والے علاقے میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن، ملتان ڈویژن اور سرگودھا ڈویژن میں شامل اور میانوالی، بھکر اور ساہیوال ڈویژن کے کچھ اضلاع کو شامل کیا جاتا ہے ۔یہ کُل ملا کر قریب قریب قومی اسمبلی کی 50 نشستیں بنتی ہیں۔اگرچہ ساہیوال کے اکثر اضلاع میں جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت میں آواز کم ہی بلند ہوتی ہے ۔مسلم لیگ نواز سے الگ ہونے والے آٹھ ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں بھاری بھرکم اور جیتنے والے گھوڑے خیال کیے جاتے ہیں۔جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی تشکیل کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری ملتان کے چار روزہ دورے پہ تھے اور وہ سرائیکی صوبہ بنانے اور جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو دور کرنے کا اعلان کررہے تھے ۔ان کی تقریروں اور ایک طویل پریس کانفرنس سے یہ اندازہ لگانے میں دشواری نہیں تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی 2018ء کا الیکشن جنوبی پنجاب کے صوبہ کی تشکیل کے نام پہ لڑنا چاہتی ہے اور وہ الگ صوبے کے کارڈ کو کھیلنے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے اعلان نے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی 2018ء کی الیکشن مہم میں صوبہ بناؤ تحریک کا خود کو واحد علمبر دار قرار کیسے دے گی؟پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے ایک اور بڑی پریشانی یہ سامنے آئی ہے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اس بات پہ راضی کرلیا ہے کہ پارٹی الیکشن کمپین شروع ہونے سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنائے جانے کے حق میں بڑے جلسے جلوسوں کا اہتمام کرے ۔پاکستان تحریک انصاف کے لیے جنوبی پنجاب کے اندر اس وقت فضا کافی سازگار نظر آرہی ہے ۔اس کے پاس ملتان ڈویژن، ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور بہاول پور ڈویژن میں بھاری بھرکم امیدواروں کی کمی نہیں ہے ۔ساہیوال اور سرگودھا ڈویژن کے اندر بھی جیتنے کے قابل گھوڑوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ضلع مظفر گڑھ سے پیر باسط بخاری نے مسلم لیگ نواز چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے اور ان کی منزل پاکستان تحریک انصاف ہے ، رکن قومی اسمبلی ملک سلطان ہنجرا بھی نواز لیگ کو داغ مفارقت دے گئے ہیں۔ایسا نظر آتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبہ کارڈ کو پوری توانائی کے ساتھ کھیلے گی۔مسلم لیگ کے پاس طارق بشیر چیمہ کی شکل میں ایک مضبوط سیاسی گروپ بہاول پور ڈویژن میں پہلے سے موجود ہے۔جنوبی پنجاب صوبہ محاذمیں شامل طاہر بشیر چیمہ، طارق بشیر چیمہ کے بھائی ہیں۔منحرف ارکان کے مسلم لیگ ق کے ساتھ یارانے کافی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ منحرف ارکان نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تو 2018ء کے انتخابات کے بعد قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ اتحاد سامنے آسکتا ہے ۔اس وقت مسلم لیگ نواز کی سیاست کافی مشکلات کا شکار ہے ۔مسلم لیگ نواز کے متوالے سمجھے جانے والے ملتان اور بہاول پور کے ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈر بھی جنوبی پنجاب کے صوبہ بنائے جانے کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔دوسری طرف مسلم لیگ نواز پنجاب کی وحدت کو برقرار رکھنے والی ’پنجابی‘ پارٹی کا تاثر بھی کسی صورت گنوانا نہیں چاہتی۔مسلم لیگ نواز کے آٹھ ارکان اسمبلی کا صوبہ جنوبی پنجاب محاذ بنانے کے فیصلے کے بعد چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف نے جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کا ایک اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں مذکورہ بالا آٹھ منحرف ارکان کے علاوہ ملک سلطان ہنجرا، پیرباسط بخاری، ریاض پیرزادہ اور محمد اکبر ہراج سمیت کئی اور ارکان اسمبلی شریک نہیں ہوئے ۔مسلم لیگ نواز کا جنوبی پنجاب کی احساس محرومی کے سوال پہ بیانیہ یہ ہے کہ مکمل ہونے والے پانچ سالوں میں پنجاب اور وفاقی حکومت نے اپنے مبینہ بے تحاشا ترقیاتی کاموں اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے مسائل میں بہت حد تک کمی کردی ہے اور یہ ثابت کردیا ہے کہ پنجاب کو تقسیم کیے بغیر بھی صوبہ لاہورایڈمنسٹریشن کے تحت آسانی سے چلایا جاسکتا ہے ۔مسلم لیگ نواز جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ مطالبے پہ مبنی بیانیہ کو اسٹیبلشمنٹ ایجنڈا قرار دلوانا چاہتی ہے ۔وہ اسے پنجاب میں مسلم لیگ نواز کا مینڈیٹ چھیننے کی سازش قرار دے رہی ہے ۔مسلم لیگ نواز کی قیادت کی یہ بھی کوشش ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ مطالبے کو لسانی فساد کرانے کی سازش قرار دیا جائے اور وہ جنوبی پنجاب کے ان قومی و صوبائی حلقوں میں جہاں پہ بڑی تعداد میں پنجابی آباد کار، مہاجر اور ہریانہ سے ہجرت کرنے والوں کی آبادیاں ہیں کا ووٹ بینک اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے ان میں بے چینی کو پروان چڑھانے کے حق میں ہے ،لیکن کیا مسلم لیگ نواز جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ مطالبے کو متفقہ مطالبہ بننے سے روک پائے گی؟عام خیال یہ ہے کہ تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ مطالبے کی کھل کر حمایت کررہی ہیں اور عام لوگوں میں یہ رائے بھی پختہ ہورہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی نواز لیگ کے پنجاب پہ کنٹرول کو غیر موثر بنانے کے لیے اس مطالبے کی راہ میں رُکاوٹ نہیں بنے گی۔
مسلم لیگ نواز کے ہمدرد حلقوں نے آئی ایس پی آر کے ترجمان کے بیان کو معنی خیز قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پنجاب کی تقسیم کے ایجنڈے کو اسٹیبلشمنٹ میں بھی بہتر اقدام خیال کیا جارہا ہے ۔ فوجی ترجمان نے اپنی گزشتہ پریس کانفرنس میں سرائیکی خطے کی حالت فاٹا سے بھی بدتر قرار دی تھی۔اس وقت جنوبی پنجاب کے اضلاع میں بلا شک و شبہ الگ صوبے کے قیام کی حمایت بہت زیادہ ہے اور وہاں کے لوگ لاہور میں ارتکاز اختیارات کے بہت شاکی ہیں۔میاں برادران کے بارے میں تاثر عام ہے کہ انہوں نے اختیارات کو زیادہ لاہور میں مرکوز کیا ہے اور جنوبی پنجاب کے اعلان کردہ فنڈز بھی لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں لگائے گئے ہیں۔ان حالات میں کیا مسلم لیگ نواز صوبہ مخالف بیانیے کے ساتھ جنوبی پنجاب میں انتخابات میں سابقہ انتخابات جیسی کارکردگی دکھا پائے گی؟ اس سوال کا جواب نفی میں بنتا ہے ۔یہاں ایک اور اہم سوال بھی بنتا ہے کہ اگر مسلم لیگ نواز کے مین سٹریم اور سوشل میڈیا پہ حامی حلقے جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبے کو بھی اپنے مبینہ اینٹی اسٹبلشمنٹ بیانیے کا حصّہ بناتے ہیں تو کیا الیکشن کمپین میں اسے کوئی فائدہ ہوگا؟ 
حال ہی میں پنجاب حکومت کے آشیانہ سکیم اور صاف پانی پروجیکٹ کے حوالے سے جو سکینڈل سامنے آئے ہیں اور پنجاب حکومت کے خلاف تعلیم وصحت کی صورت حال بارے جس طرح کی فضا بن رہی ہے اس نے مسلم لیگ نواز کو کمزور دفاعی پوزیشن میں لاکر کھڑا کر دیا ہے ۔ماضی میں پاکستان کا مین سٹریم میڈیا زیادہ تر مسلم لیگ نواز کے کنٹرول میں رہا ہے ۔الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد صورت حال بدلی ہے تاہم مین سٹریم اردو میڈیا بری طرح سے تقسیم ہے ۔اس وقت اگرکچھ نجی نیوزچینل گروپ مکمل طور پہ نواز لیگ کے بیانیے کو پروان چڑھا رہے ہیں تو دوسری جانب، کچھ نیوز چینل دوسری انتہا پہ کھڑے ہیں۔کچھ میڈیاگروپ بین بین ہیں مگر ان کا غالب بیانیہ بھی مسلم لیگ نواز کے حق میں نہیں ہے ۔انگریزی پریس کا بیانیہ نواز لیگ کے حق میں کسی حد ہمدردانہ ہے ۔جنوبی پنجاب صوبے کے سوال پہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کے معروف اینکر پرسنز، جن میں زیادہ تر پنجابی بولنے والے لاہوری پس منظر کے اینکرز شامل ہیں، کا رویہ اگرچہ معاندانہ ہے ، پھر بھی کئی ایک اس مطالبے کی کھل کر حمایت کررہے ہیں۔سب سے بڑھ کر سنٹرل پنجاب سے تعلق رکھنے والی چودھری برادران جیسی سیاسی قیادت بھی جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کر رہی ہے ۔جنوبی پنجاب صوبہ آنے والے الیکشن میں انتہائی اہم کارڈ بن گیا ہے جو خطے کی انتخابی سیاست میں انتہائی اہم ترین کردار ادا کرنے جارہا ہے ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں