درآمد کیا جانےوالا 30 فیصد دودھ نا قابل استعمال ہے

اسلام آباد: قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ خشک دودھ بھارت سے آ رہا ہے جب کہ بیرون ممالک سے درآمد کیے جانے والا 30 فیصد دودھ ناقابل ہضم ہے ۔
صوبائی محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نے آگاہ کیاکہ گزشتہ 10 سال میں ہماری گوشت کی برآمدات منفی میں ہیں، ہم چھوٹا جانورذبح کرتے ہیں، اگرجانور کو بڑاکر کے ذبح کریں تو فائدہ ہو گا، بلوچستان میں لائیو اسٹاک کے 600 ڈاکٹرز بیروزگار ہیں، ہم سی پیک کے لیے آنے والے چینی باشندوں کو حلال فوڈ مہیا کریں گے ، پنجاب میں زراعت کا مستقبل نہیں، ہم نے کانگو جیسے مسئلے پر 100فیصد قابو پایا ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں : پی آئی اے کی کلراسکیم تبدیل کرنےکا فیصلہ

وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے کہاکہ لائیو اسٹاک زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ، میری تین سال فصل نہیں ہوئی، میں نے اپنا خرچہ جانور بیچ کر پورا کیا، کمیٹی نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو لائیو اسٹاک سے متعلق کانفرنس کرنے کی ہدایت کردی۔گزشتہ روز اجلاس چیئرمین عبدالقہار خان کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں لائیو اسٹاک اور ڈیری ڈیولپمنٹ کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا، سیکریٹری لائیواسٹاک پنجاب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ گزشتہ دس سال میں ہماری گوشت کی برآمدات منفی ہیں۔سیکریٹری لائیو اسٹاک پنجاب نے یو این کام ٹریڈ کی رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں سب سے زیادہ خشک دودھ بھارت سے آ رہا ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
درآمد کیا جانےوالا 30 فیصد دودھ نا قابل استعمال ہے
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں