نگران وزیراعظم اورحکومت تحلیل کرنے پرمشاورت

قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف خورشیدشاہ نے گزشتہ روز پرائم منسٹرہاؤس میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سے ملاقا ت کی جس میں عبوری سیٹ اپ،آئندہ بجٹ ،نئی قانون سازی اورپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیالات کیاگیا۔گزشتہ ماہ بھی دونوں قائدین ملے تھے جس میں رسمی جملوں کے تبادلے کے ساتھ حکومت کی رخصتی،انتخابی حلقوں پراٹھنے والے اعتراضات اورالیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں کے متعلق انڈرسٹینڈنگ پیداکرنے پربات چیت ہوئی تھی۔آئینی پابندی کے مطابق اگرحکومت اپنی مدت سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کامشورہ دے یاپارلیمنٹ میں اکثریت کھوبیٹھے توصدرمملکت 90روز میں نئے انتخابات کروانے کے احکامات جاری کردیتے ہیں۔گزشتہ عام انتخابات 11مئی2013ء کوہوئے جبکہ منتخب قومی اسمبلی کاپہلااجلاس یکم جون کو بلایاگیا۔اس لحاظ سے مسلم لیگ(ن) 31مئی تک اقتدار میں رہنے کااختیاررکھتی ہے۔پاکستان کے معروضی حالات،سیاسی حالات اورحزب اقتدار وحزب اختلاف کے قائدین کے رویے پر نظر ڈالی جائے توجولائی2014ء میں ہی وزیراعظم نوازشریف کے خلاف تحریک انصاف نے علم بغاوت بلند کرکے ان کے استعفےٰ کامطالبہ کردیاتھا۔بعدازاں14 اگست سے 16دسمبر2014ء تک اسلام آباد میں ڈاکٹرطاہرالقادری کے ساتھ مل کرڈی چوک میں دھرنادئیے رکھا۔بدقسمتی سے پاکستان میں 1970ء کے انتخابات سے ہی دھاندلی جیسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔1977ء میں ذوالفقارعلی بھٹونے قبل ازوقت قومی اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کروائے مگر پاکستان قومی اتحاد کے نام پرقائم ہونے والے نوجماعتی اتحاد نے ملک بھر میں دھاندلی کے الزامات لگاکرحکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کااعلان کردیا۔مولانا مفتی محمود اورنوابزادہ ظفراللہ خاں نے جمعیت علمائے پاکستان کے شاہ احمدنورانی اورجماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد کے ساتھ مل کراپنی احتجاجی تحریک کوتحریک نظام مصطفےؐ کانام دے دیا اورشہرشہر،گلی گلی،گاؤں گاؤں دینی مدرسوں کے طلبہ کومشتعل کرکے گرفتاریاں دینی شروع کردیں حالانکہ زمینی حقائق یہی تھے کہ پیپلزپارٹی تمام جماعتوں کے اتحاد کاتن تنہاسیاسی میدان میں بھرپورمقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ملکی تاریخ کو مسلح کرنے والے جوبھی دروغ گوئیاں کرتے رہیں حقیقت یہی ہے کہ یہ جمہوریت کے خلاف بڑی سازش تھی جس میں دینی ومذہبی جماعتوں کواستعمال اورامریکی ڈالرلٹاکر بھرپورعوامی اہمیت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔1977ء میں کون کتنے پانی میں تھااس کی مثال لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی نشست ہے جس پر ذوالفقارعلی بھٹو کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے مولانا جان محمدعباسی کھڑے تھے جنہیں غائب کرواکرپیپلزپارٹی پرپری پول ریگنگ کا الزام لگا دیاگیا حالانکہ لاڑکانہ کی یہ نشست بھٹوخاندان کی وراثتی نشست کہلاتی تھی جس پرذوالفقارعلی بھٹوخود اوربعدازاں ان کی اہلیہ نصرت بھٹو ،بیٹی بے نظیربھٹو اوراب فریال تالپور الیکشن لڑتی اورہمیشہ ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب ہوتی رہی ہیں۔پاکستانی سیاست میں کسی امیدوار پرمخالف جماعت کے کارکنوں کاحملہ ،جسمانی تشدد ،کسی مقدمے میں گرفتاری یااغواء کروانے پرعوامی ہمدردی کاووٹ بھی متاثرہ شخص کو ملتاہے کیونکہ اسے مظلوم اور بے بس سمجھاجاتاہے مگرانتخابی نتائج کے مطابق مولاناجان محمدعباسی کو صرف300کے قریب ووٹ ملے تھے ۔ایساہی حال نوابزادہ نصراللہ کاتھاجواپنے آبائی گاؤں خان گڑھ سے پیپلزپارٹی کی عوامی مقبولیت کے باعث کسی بھی الیکشن میں اپنی ضمانت تک نہ بچاسکے۔نظام مصطفےؐ کی تحریک چلانے والے خوب جانتے تھے کہ پاکستان کواسلامی جمہوریہ اوراس کاسرکاری مذہب اسلام قراردینے والے بھٹومرحوم تھے۔صرف یہی نہیں ،مرزائیوں کواقلیت قرار،ملک کے کلیدی عہدوں پر غیرمسلموں کی تقرری یاانتخاب کوغیرقانونی قراردینے کے ساتھ پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین اسلامی سربراہی کانفرنس کروانے کے بعد مسلم بلاک بنانے کابھی اعزازرکھتے تھے ۔ایساہی الزام تحریک انصاف کے عمران خان نے بھی میاں نوازشریف پرلگاکرالیکشن 2013ء کودھاندلی زدہ قرار اورنئے انتخابات کروانے کامطالبہ کردیا۔زمینی حقائق دیکھے جائیں تو272 جنرل نشستوں اور70مخصوص نشستوں کوملاکر342رکنی قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے پاس صرف31نشستیں تھیں جن میں سے بھی محترمہ مسرت زیب سمیت ان کے چارارکان نے فارورڈ بلاک بناکر عمران خان کی قیادت تسلیم کرنے سے انکار کردیاتھا ۔اگرالیکشن2013ء میں دھاندلی ہوئی تھی توعمران خان پشاور،میانوالی اورراولپنڈی سے کامیاب کیسے ہوگئے ؟اس سے بھی زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ پشاوراورمیانوالی سے ان کی چھوڑی ہوئی دونشستوں پربعدازاں تحریک انصاف ہارکیوں گئی؟لاہور میں سردارایازصادق کے مقابلے میں شکست کھانے والے عمران خان مسلسل یہاں دھاندلی اور42ہزارجعلی ووٹ ہونے کاالزام لگاتے رہے اورانتخابی عذرداری کے ذریعے الیکشن کالعدم قراردلواکر وہاں ضمنی الیکشن کروانے میں کامیاب بھی ہوگئے مگرپولنگ میں پھرایازصادق جیت گئے ۔لاہورکواپناگڑھ قراردینے والے عمران خان17ستمبر2017ء کونوازشریف کی نااہلی سے خالی نشست پراپنی امیدوار کوپھرکامیاب نہ کرواسکے اوربیگم کلثوم نواز بھاری مارجن سے جیت گئیں۔اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ تحریک انصاف کی حمایت میں اضافہ ہواہے مگریہ دراصل پیپلزپارٹی کے منظرسے ہٹ جانے کے باعث اورکچھ نوجوانوں کی طرف سے ان کی حمایت کانتیجہ ہے۔مسلم لیگ(ن) کوکمزوریاعوامی مقبولیت سے محروم سمجھنے والے عمران خان لودھراں کے انتخابی نتائج بھی ذہن میں رکھیں ۔گزشتہ روز اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نے وزیراعظم کو30مئی کواقتدار چھوڑنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح انتخابی سرگرمیوں کے لیے90روزمل سکیں گے مگرشاہدخاقان عباسی کاآخری روزتک حکومت میں رہنے کا فیصلہ زیادہ بہترلگتاہے کیونکہ آج کل الیکشن کروڑوں روپے کاکھیل بن چکاہے۔60روز بھی انتخابی سرگرمیوں کے لیے بہت ہیں۔گہرائی سے دیکھاجائے توگزشتہ اگست سے ہی نوازشریف،عمران خان ،بلاو ل بھٹو،آصف زرداری ،مولانا سراج الحق ،مولانا فضل الرحمن 
اورایم کیوایم کے تینوں دھڑے مسلسل جلسے جلوس کررہے ہیں۔تحریک انصا ف توممبر سازی مہم میں یونین کونسل کی سطح پربھی عوامی رابطے کرنے میں مصروف اورہرالیکٹ ایبل کو خوش آمدید کہہ کر ہرصورت اقتدار تک پہنچنے کی راہ ہموار کررہی ہے جبکہ پانامہ پیپرز کیس میں نااہلی اوراب احتساب عدالت سے سزا یاب ہونے کے امکانات نے مسلم لیگ (ن)کی مقبولیت میں کافی کمی کردی ہے مگرعمران خان کوہواکے گھوڑے پربیٹھنے کی بجائے اپنامنشوراورترجیحات قوم کے سامنے لانی چاہئیں۔نوازشریف اورآصف زرداری سمیت بڑے بڑے سیاسی مخالفین پرکرپشن کے الزامات لگانااورچیز ہے جبکہ میرٹ اورصبروتحمل کی پالیسی الگ بات ہے۔خورشیدشاہ نے وزیراعظم کے بعداگرچہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کرکے ان سے نگران وزیراعظم کے لیے نام تجویز کرنے کاکہا مگرتحریک انصاف ابھی تک خودکسی فیصلے تک نہیں پہنچ سکی ۔سینیٹ میں قائدحزب اختلاف جیسے عہدے پرپیپلزپارٹی سے مشاورت کی بجائے اپنا امیدوارسامنے لانے پراصرار کرنے والی تحریک انصاف کوپارلیمانی سیاست کے انداز اپنانے چاہئیں۔جسٹس(ر)تصدق حسین جیلانی یاان جیسی کسی شخصیت پراتفاق کرلیاجائے توقوم میں پھیلی بے چینی دوراوربیوروکریسی ،عدلیہ اورآرمی کومتوقع سیٹ اپ کے بارے میں اپنی حکمت عملی مرتب کرنے کا بہترموقع ملے گا۔عمران خان ہویاآصف زرداری ،دراصل تیسرے درجے کی احتیاط کررہے ہیں لیکن وہ یادرکھیں2013ء میں بھی فیئراینڈفری الیکشن کے لیے جسٹس(ر)فخرالدین جی ابراہیم کو اتفاق رائے سے چیف الیکشن کمشنر مقررکرنے والے بعدازاں ان کی ذات پر بھی تنقید کرتے رہے۔ایسے لگتاہے نگران وزیراعظم پرسیاستدانوں میں اتفاق 15مئی کوبھی نہیں ہوسکے گااورمعاملہ پارلیمانی کمیٹی سے ہوتاہواچیف الیکشن کمشنر جسٹس سرداررضاتک پہنچے گا کیونکہ بدترین بدگمانیوں میں کبھی بروقت فیصلے نہیں ہوسکتے۔ 
ملکی عدالتوں کے لیے لیگل ریفارمز کا آغاز 
چیف جسٹس محترم ثاقب نثار نے لیگل ریفارمزمرتب کرنے کے لیے بنیادی حقوق کی فراہمی اورمقدمات کی برس ہابرس طوالت کواپنی سوچ کامرکز ومحور بناتے ہوئے کہاکہ موجودہ نظام عدل میں بہت سی خامیاں ہیں جنہیں دورکرنے کے لیے وکلاء برادری کومیراساتھ دیناہوگا۔چیف جسٹس نے موجودہ نظام عدل کو1908ء سے نافذ العمل قراردیتے ہوئے موجودہ حالات کے تقاضوں کے لیے غیرموزوں اوربوسیدہ کالفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی کمی اورآئے روزوکلاء کی ہڑتالوں کے باعث مقدمات برس ہابرس تک منطقی انجام کونہیں پہنچتے۔انہوں نے لیگل ریفارمز کے نفاذ کوقانون سازوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ قراردیتے ہوئے کہاکہ بدقسمتی سے ارکان اسمبلی ایسے مسائل پرپوری توجہ نہیں دے رہے حالانکہ عدالتی سفارشات کوقانونی شکل دینے کے لیے اسمبلیوں سے بل کی شکل میں منظوری ناگزیرہے۔جہاں تک عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کی تعداد،ججوں کی کمی،وکلاء کے عدم تعاون اورسب سے بڑھ کر ارکان پارلیمنٹ کی بے حسی کا معاملہ ہے توچیف جسٹس کے اٹھائے ہوئے نکات کو کروڑوں متاثرین انصاف کے دلوں کی آواز قرارد یاجاسکتاہے ۔ دو برس قبل لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس سیدمنصورعلی شاہ نے ماتحت عدلیہ سے لے کرعدالت عالیہ تک میں مصالحتی کمیشن اور زیرسماعت مقدمات کو مخصوص عرصے کے دوران تکمیل تک پہنچانے کے جواحکامات جاری کئے تھے ،اس کے ’’مثبت نتائج‘‘بھی سامنے آنے لگے تھے ۔عدالتی اہلکاروں کے لیے خصوصی لباس کی منظوری بھی ماتحت عدالتوں کی شناخت بننے لگی ہے ۔ان سے پہلے سابق چیف جسٹس آ ف پاکستان (ر)افتخارمحمدچوہدری نے بھی اپنے دورمیں مقدمات کے فیصلے جلد کروانے کے لیے نیاطریقہ کاروضع کیاتھاجس کے تحت سول ،سینئرسول ججز اورسیشن ججز کو عدالتی کمیشن بناکربیانات ریکارڈ کرنے کاراستہ نکالاتھا اگرچہ اس اقدام سے فراہمی انصاف کے لیے جج کاکردار محدود ہونے کاتاثرپیدا ہوتارہاجسے سینئرججوں اوروکلاء کی طرف سے تنقید کانشانہ بھی بنایاگیا۔انصاف کے اصولوں اورعدالتی کارروائی میں ملزم،مدعی یاگواہوں کے بیانات خودمتعلقہ جج کوہی قلمبند کرنے چاہئیں مگریہ ایک تجربہ تھاجسے بہرصورت پذیرائی نہ مل سکی۔جسٹس ثاقب نثارنے مقدمات کے30/30برس تک زیرسماعت رہنے کاحوالہ دیاحالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس آصف کھوسہ کی عدالت سے ایک 100سالہ پرانے مقدمے کافیصلہ بھی سنایا گیا۔مقدمات کی سماعت میں تاخیروطوالت کابڑا سبب ججز کی کمی ضرور ہے مگراس میں وکلاء کے تاخیری ہتھکنڈے،عدالتی احکامات کی بروقت اطلاع نہ ہونے اورخاص طورپر عدالتی اہلکاروں کی غفلت وغیرذمہ داری بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔2017ء میں ہی مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے دوملزم بھائیوں کی مقدمہ قتل میں اپیل کی سماعت اوروکلاء کے دلائل کے بعد جب سزائے موت پانے والے سگے بھائیوں کی بریت کافیصلہ سامنے آیاتومعلوم ہواکہ دونوں مجرموں کودوسال پہلے ہی تختہ دارپرلٹکایاجاچکاہے۔آج بھی موجودہ عدالتی نظام کے تحت بعض فیصلے اس وقت سنائے جاتے ہیں جب بے گناہ قراردئیے جانے والے اپنے جرم سے زیادہ عرصہ جیلوں میں گزارچکے ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے پولیس آرڈر کوبھی 1886ء سے نافذ قراردے کر اصلاح احوال کی درست نشاندہی کی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ آئندہ سال چھ ماہ تک ماتحت عدالتوں کے ججز کوبھی رضاکارانہ طورپرصبح سے شام تک عدالتوں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کاپابند کرنے کے ساتھ مسلسل دوتاریخوں تک وکیل استغاثہ یاوکیل صفائی کے پیش نہ ہونے پر مقدمات خارج یاداخل دفترکروانے کاراستہ نکالا جائے ۔پنجاب بارکونسل اورپاکستان بارکونسل کوبھی وکلاء کی غیرضروری ہڑتالوں کوختم اورعدالتی کارروائی میں شریک ہونے کے لیے رضاکارانہ طورپرقائل کرنے کاراستہ نکالنا چاہیے وگرنہ محض چیف جسٹس یاسینئر ججوں کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں