ورزش کےدماغی فوائد اگلی نسل میں بھی منتقل ہوتےہیں

برلن:ایک دلچسپ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ورزش ایک جانب تو ہمارے لیے بہت سے فوائد رکھتی ہے لیکن دوسری جانب ورزش کے فوائد اگلی نسل میں بھی منتقل ہوتے ہیں۔چوہوں پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے بچوں کے ڈی این اے کو تبدیل نہ کرتے ہوئے بھی ورزش کے فوائد ان میں منتقل ہوئے اور بہتری کی وجہ بنے تاہم انسانوں پر ایسے ہی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ باقاعدہ ورزش 50 سال کی عمر کے بعد بھی دماغ کو تازہ اور بہتر حالت میں رکھتی ہے ۔

مزید پڑھیں :چین نے چاند پر پھول کھلانے کا منصوبہ بنا لیا ہے

جوانی اور ادھیڑ عمری میں دماغی معمے حل کرنے اور ذہنی مقابلوں میں حصہ لینے سے ڈیمینشیا اور دیگر دمای امراض کو ٹالا جاسکتا ہے ۔جرمن سینٹر فار نیورو ڈی جنریٹیوو ڈیزیز (ڈی زید این ای) کے ماہرین نے چوہوں کو ایک متحرک میدان میں رکھا جہاں انہوں نے خوب ورزش کی تو اس کے فوائد ان کے بچوں تک بھی منتقل ہوئے ۔ ماہرین نے دریافت کیا کہ ورزش کرنے والے چوہوں کے بچوں نے سیکھنے اور اکتساب کے عمل میں بھی دیگر کے مقابلے میں بہترین کارکردگی دکھائی۔چوہوں کے بچوں کے دماغی خلیات کے باہمی روابط بھی مضبوط دیکھے گئے جسے طب کی زبان میں ‘سائنیپٹک پلاسٹیسٹی’ کہتے ہیں۔ یہ عمل جس دماغی حصے میں ہوتا ہے اسے ہپوکیمپس کہتے ہیں جو سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کا اہم مرکز بھی ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
ورزش کےدماغی فوائد اگلی نسل میں بھی منتقل ہوتےہیں
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں