ذات برادری اور لسانی سیاست کا مستقبل

تحریر:طاہرمہدیدیکھا جائے تو پاکستان میں ووٹرز کی سماجی ثقافتی شناخت اور ان کے ووٹ دینے کے انداز میں تعلق خاصا دلچسپ ہے ۔سیاسی جماعتیں ووٹرز کو لسانی، قبائلی، ذات برادری اور مذہبی یا فرقہ وارانہ خطوط پر اکٹھا کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اس کے اوپر ان سے معاشی ترقی اور اچھی حکمرانی کے وعدے کیے جاتے ہیں۔بعض سیاسی جماعتوں کے لیے ایسی ‘شناختی سیاست’ انتخابی اعتبار سے بے حد مفید ہوتی ہے ،تاہم یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں کون سا عنصر کسی مخصوص انتخاب یا کسی خاص امیدوار کے معاملے میں زیادہ کارآمد ثابت ہو گا۔جہاں تک حلقہ بندیوں کی حدود کے تعین کا معاملہ ہے تو اس میں شناختی سیاست کے کردار کا جائزہ لینا مزید مشکل کام ہے تاہم اس حوالے سے ایک استثنیٰ ضرور موجود ہے اور وہ ‘ایم کیو ایم’ ہے جو ہمیشہ شہری سندھ میں مہاجر برادری کی ہی نمائندگی کرتی چلی آئی ہے ۔شاید مہاجر شناخت اپنی طرز کی واحد شناخت ہے جو حلقہ بندیوں کے تعین میں کھلم کھلا اپنا اظہار کر سکتی ہے ۔1970 کے عام انتخابات کے لیے بنایا گیا حلقہ بندی کمیشن اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ ‘مہاجرین کو کراچی، حیدرآباد، ملتان، لائل پور (اب فیصل آباد) اور ڈھاکہ میں نمائندگی دی گئی تاکہ وہ اکٹھے رہیں اور جہاں تک ممکن ہو حلقے کی آبادی کی یک رنگی یقینی بنائی جا سکے ‘اس کمیشن نے برادری کی بنیاد پر تفریق کو عمومی طور سے اہم نہیں سمجھا تھا، تاہم گجرات کا معاملہ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ وہاں ایک حلقے کی حدود کا تعین کچھ یوں ہوا کہ اس میں گجر اور راجپوت برادریاں ہی آتی تھیں۔1973 ء کے آئین کی منظوری کے بعد 1974 ء کے حلقہ بندی قانون کے تحت حلقوں کی آبادی کو ‘مقامی’ اور ‘آباد کار’ کے درجوں میں منقسم کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔ کمیشن نے اعتراض کرنے والوں کو بتایا کہ ایسے امتیازات قومی مفاد کے منافی ہیں۔مہاجر برادری کے رہنماؤں نے اس کی مذمت کی۔ چونکہ ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کی مخالف تھی اس لیے جنرل ضیا نے 
اسے خوش کرنے کے لیے من مانے طور سے قومی اسمبلی میں سات نشستوں کا اضافہ کر لیا جن میں سے دو کراچی کے حصے میں آئیں۔ اس وقت قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 200 مقرر کی گئی تھی۔ اگلے فوجی حکمران کے دور میں ہونے والی نئی حلقہ بندیوں تک یہ معاملہ ایسے ہی چلا۔1998 کی مردم شماری تک کراچی کی آبادی میں مہاجروں کی تعداد 50 فیصد سے نیچے جا چکی تھی۔ 2017 ء کی مردم شماری کے نتائج آنے پر ممکنہ طور سے اس میں مزید کمی ہو سکتی ہے ، تاہم اس وقت ایم کیو ایم کے پاس کراچی میں صوبائی اسمبلی کی 42 میں سے 32 نشستیں ہیں اگرچہ یہ جماعت دوسری برادریوں کو اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اگر ایم کیو ایم کے حق میں حلقہ بندیاں نہ کی جاتیں تو ایسا ہونا بہت مشکل تھا۔سپریم کورٹ نے 2010 ء میں ایک آئینی پٹیشن کی سماعت کے موقع پر کہا تھا کہ کراچی میں انتظامی اکائیوں اور انتخابی حلقوں کی حدود کا جس طرح تعین کیا گیا ہے اس سے مختلف برادریوں کے لیے امن و ہم آہنگی سے رہنے کا ماحول ممکن بنانے کے بجائے انہیں علاقائی خطوط پر تقسیم کر دیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ نے حکام سے کہا کہ کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کی جائیں جس پر الیکشن کمیشن نے محدود پیمانے پر کچھ کام بھی کیا مگر بہت سی وجوہات کی بنا پر اسے نئے سرے سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچایا جا سکا۔ حالیہ حلقہ بندی انتخابی میدان میں سرائیکی ‘مظلومیت’ کا خاصی حد تک تدارک کرتی ہے،تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اب وسطی پنجاب میں مظلومیت کا رونا شروع ہو جائے گا؟چونکہ تازہ ترین مردم شماری میں حاصل ہونے والے لسانی 
اعدادوشمار ابھی سامنے نہیں آئے اس لیے کراچی میں موجودہ حلقہ بندی کا تجزیہ کرنا مشکل ہے ۔ اگر کمیشن حلقوں کی تشکیل میں یک رنگی یقینی بنانے کے لیے زبان کو اہمیت نہیں دیتا تو ممکنہ طور پر اگلے انتخابات شہروں میں شناختی سیاست پر دیرپا اثرات مرتب کریں گے ۔ملک کے دیگر حصوں میں شناختی سیاست اس انداز میں نمایاں دکھائی نہیں دیتی۔ غور کریں تو انتخابی نتائج میں اس کا کراچی کی طرح کھلم کھلا اظہار نہیں ہوتا تاہم الیکشن کے دوران سیاسی بحث مباحثے میں یہ اہم کردار ادا کرتی ہے، حلقہ بندیوں کے معاملے میں دیکھا جائے تو صوبہ بھر میں سرائیکیوں کے ساتھ ہر مرتبہ کچھ اچھا نہیں ہوتا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں سرائیکی بولنے والوں کی اکثریت ہے مگر وہاں پشتون نمایاں ہیں۔ 
1988 کی حلقہ بندی میں اس ضلعے کو قومی اسمبلی کی ایک نشست ملی تھی جبکہ آبادی کے اعتبار سے قومی اسمبلی میں اس کی نمائندگی 1.56 بنتی تھی۔ دوسری جانب ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی نمائندگی 3.89 تھی جبکہ انہیں تین نشستیں ملیں۔2002 کی حلقہ بندیوں میں جنوبی پنجاب میں قومی اسمبلی کے حلقوں کا اوسط سائز شمالی و وسطی پنجاب کے حلقوں سے 8.5 فیصد زیادہ تھا۔ اس سے سرائیکیوں میں ‘تخت لاہور’ کے جبر کے احساس نے تقویت پائی،تاہم حلقہ بندیوں کی نئی تجاویز میں اس حوالے سے ایک دلچسپ چیز سامنے آئی ہے ۔اب خیبرپختونخواہ میں مساوی ترین حلقوں میں سے دو ڈیرہ اسماعیل خان میں ہیں جبکہ ملک میں سب سے غیرمساوی حلقہ اس کے پشتون ہمسایے بنوں میں ہے ۔ بنوں ملک میں سب سے بڑا اور ٹانک دوسرا سب سے چھوٹا حلقہ ہے ۔ جنوبی خیبرپختونخوا کے اضلاع کی وسعت میں بے قاعدگی نے اس مرتبہ غیرپختون ڈیرہ اسماعیل خان پر منفی اثر مرتب نہیں کیا۔غیرپختون اکثریتی ہزارہ ڈویژن کے معاملے میں بھی یہی کچھ دیکھا گیا جہاں ہندکو زبان بولنے والوں کے دو اضلاع کے پاس غیرمساوی نشستیں ہیں۔ 
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلقے کے سائز میں نابرابری کی وجہ ضلعوں کا بے قاعدہ سائز ہے اور اس کی بنیاد حلقوں میں نسل اور زبان کی بنیاد پر آنے والی تبدیلی سے نہیں ہے ۔درحقیقت الیکشن کمیشن کی جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں زبان اور نسل صرف بلوچستان میں ہی حلقہ بندیوں کے عنصر کے طور پر دکھائی دیتے ہیں جہاں اسے مخصوص اضلاع کو اکٹھا کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اضلاع کو یوں یکجا کرنے سے حلقوں کے سائز میں بے قاعدگی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے ۔شمالی اور وسطی پنجاب کے اضلاع نے قومی اسمبلی کی 11 نشستیں کھو دی ہیں جن میں سات دوسرے صوبوں کو ملی ہیں جبکہ ایک ان کے اپنے دارالحکومت لاہور کے حصے میں آئی ہے ۔ بقیہ تین نشستیں جنوبی پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفر گڑھ کو مل گئی ہیں۔جنوبی پنجاب کی نشستیں مقابلتاً چھوٹی بھی ہیں۔ گزشتہ حلقہ بندیوں میں پنجاب میں قومی اسمبلی کی 44 نشستیں ایسی تھیں جو صوبائی اوسط سے 5 فیصد یا اس سے کچھ زیادہ چھوٹی تھیں جبکہ ان میں 42 نشستیں وسطی و شمالی پنجاب میں تھیں،تاہم اب ایسی نشستوں کی تعداد 30 ہے جن میں 24 جنوبی پنجاب میں آتی ہیں۔ 
حالیہ حلقہ بندی انتخابی میدان میں سرائیکی ‘مظلومیت’ کا خاصی حد تک تدارک کرتی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اب وسطی پنجاب میں مظلومیت کا رونا شروع ہو جائے گا؟اس کا دارومدار نئے حلقوں میں انتخابی نتائج اور دیگر حقائق کے ساتھ ان کے باہمی تعامل پر ہو گا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں