مانسہرہ کا انوکھا قبرستان

تحریر۔۔۔سائرہ فاروقمانسہرہ صرف سڑک کے ذریعے باقی دنیا سے منسلک ہے ۔شہر کے باہر ایک ویگن اڈا ہے جہاں سے ٹرانسپورٹ دستیاب ہوتی ہے ۔باہر سے آنے والے بھی اسی جگہ اترتے ہیں۔اپنے گاؤں جانے کے لیے مجھے اسی بس سٹینڈ پر آنا پڑتا ہے ۔قریب کے علاقوں میں یہاں سے سو زوکی وین چلتی ہے ۔ 
مختلف قصبوں میں جانے والی گاڑیاں مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں۔اس اڈے سے متصل ایک قبرستان ہے جو اس بس اور ویگن سٹینڈ کے لیے ‘ویٹنگ روم’ کا کام کرتا ہے بلکہ یوں کہیے کہ لیڈیز ویٹنگ روم کا۔عورتیں اور بچے یہاں گاڑی کی روانگی تک بیٹھتے ہیں۔جیسے ہی گاڑی کا وقت ہوتا ہے مرد یہاں آکر انہیں چلنے کا اشارہ کرتے ہیں اور مسافر روانہ ہو جاتے ہیں۔ 
مرد اپنی عورتوں کے ساتھ کم بیٹھتے ہیں۔وہ انہیں چھوڑ کر بازار میں گھومتے رہتے ہیں۔ مرد اپنی عورتوں کے ساتھ کم بیٹھتے ہیں۔وہ انہیں چھوڑ کر بازار میں گھومتے رہتے ہیں۔ 
قبرستان میں مسافروں کی مستقل اور مسلسل آمد نے شہر خموشاں کے ‘کلچر’ کو بہت حد تک بدل دیا ہے ۔قبرستان میں بہت سے کردار نظر آتے ہیں جیسے پکوڑوں کی تھال سر پر اٹھائے خضاب زدہ خشخشی داڑھی والے بابا جی۔ وہ اپنی منحنی سی آواز میں صدا لگاتے گھومتے ہیں۔اس تھال میں آلو کے پکوڑے اور ساتھ میں سٹیل کی مخروطی صراحی نما برتن میں کھٹی میٹھی چٹنی ہوتی ہے ۔دوسری جانب مکئی کے دانے پلاسٹک کی تھیلی میں بھن رہے ہیں۔اس سے ملیے ۔ نام تو ان کا معلوم نہیں مگر مضبوط قد کاٹھ اور سنولائے ہوئے چہرے پر عجیب سی بے نیازی والی یہ عورت کتنی مشاقی سے چوڑیاں پہنا رہی ہے ۔اس کی نظریں چوڑیوں پر جمی رہتیں اور ہاتھ کام میں مگن۔اِرد گرد کیا ہو رہا ہے اسے کوئی پروا نہیں ہوتی تھی۔یہ چکنا، سانولا اور لاتعلق چہرہ میرے لیے بے پناہ کشش کا باعث 
تھا۔کبھی کبھی میں دیکھتی کہ خواتین اس سے راز و نیاز کر رہی ہیں ۔۔۔ اندرونی پیچیدہ بیماری، بچوں کا ضائع ہو جانا، ساس نند سے لڑائی کے قصے ، گھریلو پریشانیوں حل ۔۔۔ چوڑیوں والی مائی کی بدولت یہ قبرستان پسی ہوئی مظلوم خواتین کا ہائیڈ پارک بنا ہوا تھا جہاں وہ اپنے دل کے پھپھولے آزادی کے ساتھ اور اس یقین کے ساتھ پھوڑتیں کہ انھیں کوئی سن رہا ہے ، جو صرف سن نہیں رہا بلکہ ان کے مسائل کا حل بھی پورے اعتماد کے ساتھ بتا رہا ہے ۔ 
قبرستان سے متصل بازار میں سوئی سے لے کر چارپائی تک دستیاب ہے ۔قبرستان سے متصل بازار میں سوئی سے لے کر چارپائی تک دستیاب ہے ۔ 
بانجھ خواتین اور بار بار اسقاط حمل سے بے حال خواتین کو چند پیسوں کے عوض نسخے اور تعویذ دے کر وہ انھیں اطمینان کی پڑیا تھما دیتی،جنھیں پورے یقین کے ساتھ دوپٹے سے باندھ لیا جاتا اور پھر یہ گانٹھ اپنی ہتھیلی میں بند کر لی جاتی کہ گم نہ ہو جائے ۔گویا یہ قبرستان مایوس عورتوں کے لیے مطب کے فرائض بھی انجام دیتا۔اب کی بار جب میرا جانا ہوا تو معلوم ہوا وہ چوڑیوں والی مائی مر گئی۔دنیا سے نہ ہارنے والی دل کے ہاتھوں مار کھا گئی۔ 
گاہکوں کی ہمہ وقت موجودگی کی وجہ سے وینڈرز نے یہاں مستقل ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔گاہکوں کی ہمہ وقت موجودگی کی وجہ سے وینڈرز نے یہاں مستقل ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔ 
اب کی بار تمام مناظر میں سے ایک منظر کم تھا وہ منظر جو ایک عورت نے اپنے بلند حوصلے سے بنایا تھا۔ میرے دل کے تار کھچ گئے اور آنکھیں بھیگنے لگیں مگر یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ چوڑیوں والی مائی کے گھر کی دیگر عورتوں نے گداگری چھوڑ کر اس پیشے کو اپنا لیا ہے اور وہیں بیٹھ کر محنت مشقت کررہی ہیں۔گویا منظر وہی ہے مگر اک تصویر کی کمی ہے ۔اس مرتبہ کچھ چیزوں کے اضافی سٹال بھی دیکھیے ، اب چوڑیوں کے ساتھ منیاری کا سامان بھی بک رہا ہے اور خواتین کا رش پہلے سے زیادہ ہے ۔قبرستان کی بغل میں سے گزرتی سڑک پر کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں ہیں۔وہاں سے تکوں اور کبابوں کی اٹھنے والی باسں اس پورے قبرستان میں بھٹکتی ہے ۔خواتین انتظار کی کوفت سے بچنے کے لیے نیچے سڑک پر موجود دکانوں سے سودا سلف خریدنے میں مشغول ہو جاتی ہیں یا پھر بھوک مٹانے کے لیے کباب خرید لاتی ہیں اور پھر کسی قبر کی اوٹ میں بیٹھ کر جونہی اخبار میں لپٹے نان کباب کھولتی ہیں تو بھینی بھینی اشتہا انگیز خوشبو وہاں موجود اوروں کے نتھنوں سے ٹکراتی ہے اور ان کی بھی بھوک اور چمک اٹھتی ہے ۔گویا یہ قبرستان ایک ‘کھابے ’ کا کام بھی کرتا ہے ۔
’فاسٹ فوڈ’ کی یہ دکانیں قبرستان کی انتظار گاہ میں بیٹھے مسافروں کے کام و دہن کا سامان کرتی ہیں۔ ‘ 
پتا نہیں لوگ کیسے منظر میں سے غائب ہو جاتے ہیں حالانکہ اپنی جگہ پر موجود برگد کا بوڑھا درخت، جس کی موٹی جڑیں اور پھیلی ہوئی شاخیں بہت سے مناظر کی گواہ ہیں۔وہ گواہ ہیں یہاں روزی روٹی کے وسیلہ سے آنے والے عزم کی، محنت سے ٹوٹے اور تھکے ہوئے بدن کی، پوٹلی میں بندھے ان پیسوں کی جنہیں بار بار گنا جاتا ہے اور یہ گنتی ہر بار کسی ناتمام خواہش کی چاہ میں چہرے پر تفکر کی اک اور لکیر کا اضافہ کر جاتی ہے مگر یہ کبھی بھرتی ہی نہیں۔یہاں ان گنت کچی قبروں پر سیاہ پتھر کتبوں کی طرح لگے ہیں جن پر کوئی نام، کوئی نشان نہیں کہ یہ کس کی قبر ہے اور کب بنی تھی؟ اس بارے وہ پتھر چپ ہیں گویا یہاں کی اکثر قبریں اپنے مکین سے متعلق کوئی راز افشا کرنے سے قاصر ہیں، تاہم اکا دکا ماربل والی قبریں بھی ہیں جن پر مکین کا نام وغیرہ لکھا ہے ۔نجانے یہ قبرستان کب سے ہے ؟ موسموں کو شکست دیتے کتبے ، قبروں کے اوپر جُھکے درخت اور ان سے گزرتی دھوپ کی کرنیں عجیب زاویے بناتی ہیں۔ ان درختوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ قبرستان ہزاروں سال سے ہے ۔یہاں آنے والے اپنی علاقائی ثقافتیں بھی ساتھ لاتے ہیں۔ جو خواتین ان دیہات سے نکل کر شہروں میں جا بسی ہیں ان کے پہناوے تو ماڈرن ہوگئے مگر چہرے اور لب ولہجے کی سادگی وہی ہے ۔۔۔ بغیر کسی تغیر کے ، بغیر کسی بناوٹ کے ۔ 
وہ جب واپس آتی ہیں تو ان کا باپ کئی گھنٹے پہلے ہی یہاں آکر ان کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے ۔نوبیاہتائیں بابل کی جھلک دیکھتے ہی بے قرار ہو جاتی ہیں اور ان کی آنکھیں نمناک ہونے لگتی ہیں جنھیں وہ کمال مہارت سے وہ اپنی چنی سے پونچھ لیتی ہیں’با پ کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ بیٹی سسرال میں خوش نہیں‘۔سوزوکی وینز قریب کے قصبوں اور دیہات میں مسافروں کو لاتی لے جاتی ہیں۔ 
باپ بیٹٰی اور داماد کے پہنچنے پر خوشدلی سے ’ہر کدے آو’کہتا ہے ۔ اپنائیت سے داماد کو گلے سے لگاتا ہے اور بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہے جو باپ کا لمس محسوس کرتے ہی مکمل بابل کی ہو جاتی ہے ، اپنے خاوند سے بے نیاز ۔۔۔ گھر کی بکری کی خیریت سے لے کر پڑوسن کی گائے تک کے سارے حالات جاننے کی متمنی۔باپ اس کے لہجے سے ہی اس کی خوشی بھانپ کر مطمئن اور پرسکون ہوجاتا ہے ۔ بیٹی اور داماد کی مہمان نوازی کے لیے اس کے ہاتھ مٹھائی، فروٹ اور کھانے پینے کی ان تمام چیزوں کے شاپر ہوتے ہیں جو گاؤں میں آسانی سے دستیاب نہیں ہوتیں۔ خوشیوں سے لدا پھندا یہ قافلہ گاؤں کے کچے آشیانے کی طرف عازم سفر ہوتا ہے ۔اپنی جوانی پردیس کو سونپنے والی ‘لڑکیاں’ جب بڑھاپے سے بھرے چہرے کے ساتھ یہاں پہنچتی ہیں تو وہ کسی تروتازہ دوشیزہ جیسی مسکرا رہی ہوتی ہیں۔قبرستان کے اس کینوس پر اور کچھ شرمیلے مناظر بھی اپنی چھب دکھلاتے ہیں۔نئی نویلی دلہن کا علم کالے برقعے سے نکلے سفید دودھیا ہاتھوں پر حنا کے خوبصورت ڈیزائنوں اور پیروں کے تلووں پر لگی گہری حنا اور اس برقعے کے اندر کھنکتی مچلتی کانچ کی چوڑیاں سے ہوتا ہے ۔ 
جب وہ اپنے سفید قمیص شلوار میں ملبوس ساتھی کے اٹھ کر جانے پر کسی ہرنی کی طرح سہمی سہمی سی ادھر ادھر دیکھنے لگتی ہے تو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ ’چڑیا‘ نئی نئی بابل کے چنبے سے اڑ کر شہروں کی طرف گئی ہے۔ 
ہزارے کے علاقے کا یہ انوکھا قبرستان ہر مسافر کو، بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب و مسلک کی تمیز کیے بغیر جگہ دیتا ہے ۔وہ کسی سے ذات پات یا زبان نہیں پوچھتا بلکہ یہ سب کو پناہ دیتا ہے ۔اس علاقے کے فوجی افسر، ڈاکٹر انجینئر، پی ایچ ڈی سکالرز سے لے کر سرکاری سکول کے ہیڈ ماسٹر تک سب ہی اس قبرستان کی گزرگاہ کے مسافر بنے ہیں کیونکہ یہ سب کو راستہ دیتا ہے ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں