نوازشریف کی سیاست سے دائمی نا اہلی کافیصلہ

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے آرٹیکل62 (1)(F)کے تحت 14فروری 2018ء کومحفوظ فیصلہ گزشتہ روز سنادیاجس کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف اورتحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کوتاحیات سیاست کے لیے نااہل قرار دے دیاگیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں قائم اس بنچ میں جسٹس عظمت سعیدشیخ،جسٹس عمرعطاء بندیال ،جسٹس اعجاز الاحسن اورجسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے ۔فیصلہ متفقہ ہے تاہم جسٹس شیخ عظمت سعید نے آٹھ صفحات پرمشتمل اضافی نوٹ تحریر کیاہے۔میاں نوازشریف اورجہانگیرترین نے اپنی عدالتی نااہلیوں کی مدت کے تعین یانااہلیوں کوختم کرنے کے لیے نظرثانی کی اپیلیں کررکھی تھیں ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 13اپریل کوسنایاجانے والاعدالتی فیصلہ نہ صرف نئی ہلچل پیداکردے گا بلکہ گزشتہ 70برس سے سیاسی میدان میں آنے والے سیاستدانوں ،ارکان پارلیمنٹ ،سیاسی جماعتوں کے قائدین سمیت آئندہ کی سیاست میں کرداراداکرنے کے خواہشمندوں کے لیے ایک بڑا بیرئیر ہوگا۔پاکستانی آئین کا آرٹیکل17 جہاں بنیادی انسانی حقوق ،تنظیم سازی اورسیاسی میدان میں سرگرم کرداراداکرنے کی اجازت دیتاہے ،وہیں ا س کے آرٹیکل 62اور63کے لیے ایک واضح ضابطہ کاربھی وضع کرتاہے ۔صاد ق اورامین ہوناہررکن پارلیمنٹ یاصوبائی اسمبلی کے لیے ہی نہیں ،بیوروکریسی اسٹیبلشمنٹ اورسول سرونٹس کے لیے لازمی شرط سمجھی جاتی ہے مگربدقسمتی سے گزشتہ25/30برس سے اعلیٰ وارفع قواعدوضوابط کی پابندی کرنے کی بجائے محض کاغذی کارروائی یاقانونی تقاضہ پوراکرنے کوہی کافی سمجھاجانے لگاہے۔2001ء میں جنرل پرویز مشرف نے لوکل گورنمنٹ اور2002ء میں جنرل الیکشن کروائے توامیدواروں کے لیے تعلیمی قابلیت کی ایک حدمقرر کی ۔یہ شق بہتری کے لیے تھی یاسیاسی مخالفین کوروکنے کی کوشش ،بہرصورت معروضی حالات میں غیرمناسب بھی نہیں تھی مگرپاکستان کابچہ بچہ جانتاہے کہ2002ء اور2008ء کے انتخابات میں قومی وصوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں نے گریجویٹ ہونے کی جوسندیں پیش کیں،ان کی حقیقت کیاتھی۔ایساہی حال انکم ٹیکس،سیلزٹیکس کے گوشوارے پیش کرنے والوں کاہے۔ہمارامعاشرہ اخلاقی انحطاط کے کس درجے پرپہنچ چکاہے،اس کاایک ہلکاسا اشارہ ہمیں اپنی روزمرہ کی ٹریفک سرگرمیوں میں نظرآسکتا ہے ۔سڑکوں ،شاہراہوں اور گلیوں ،محلوں میں چلنے والی جنگ چی،رکشہ ،موٹرسائیکل ،ویگن ،کارکے بیشترڈرائیورز کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتا جبکہ موٹرویز پرڈرائیونگ کرنے والے سیفٹی بیلٹس استعمال نہیں کرتے ۔سرکاری محکموں ،اداروں حتیٰ کہ بنکوں تک میں جائیں توقواعدوضوابط کی مکمل پاسداری وتکمیل کی بجائے محض خانہ پری پر اکتفا کیاجارہاہے۔ایک جمہوری واسلامی ملک ہونے کے باعث قانون کااحترام جس قدرپاکستان میں ہوناچاہیے تھا،اسے تومثالی بن کردنیا کے سامنے آناچاہیے تھامگرعملی طو رپر ہواس کے برعکس رہاہے ۔میاں نوازشریف اس ملک کی سیاست میں مرکزی کرداراداکررہے ہیں ۔صرف آج ہی نہیں بلکہ گزشتہ32/33برس سے وہ کبھی وزیراعلیٰ توکبھی وزیراعظم کے طورپر فرائض سرانجام دیتے رہے ۔قانون کی منشااپنی جگہ ،لیکن اخلاقیات اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں ۔عدالتیں آئینی ادارہ اورملک کے انتہائی تجربہ کار وباصلاحیت قانون دانوں پرمشتمل ہوتی ہیں جہاں مقدمات کافیصلہ دلائل وبرہان سے کیاجاتاہے آرٹیکل 62ون ایف کو جنرل ضیاء الحق کے دورحکومت میں آئین کا اس لیے حصہ بنایاگیاتھاتاکہ دیانتدار،سچے ،قابل اعتبار اورباصلاحیت عوامی نمائندے سامنے آسکیں ۔گزشتہ روز کے فیصلے میں ججز نے نہ صرف آئینی ترمیم کاتجزیہ کیابلکہ قرآنی آیات کابھی حوالہ دیا۔ارکان پارلیمنٹ کے لیے پہلے سے موجودکوڈآف کنڈکٹ بھی ہوتاہے۔متفقہ فیصلے سے یہ بات بھی کھل کرسامنے آتی ہے کہ ججز کی اکثریت نے آرٹیکل 62(1)(F)کواس کی گہرائی تک جاکرسمجھنے کی کوشش کی ہے۔ایک بڑی پارٹی ہونے کے ناطے مسلم لیگی کارکنوں کوبھی تاحیات نااہلی کے پیچھے کوئی’’عنصر‘‘بھی محسوس ہوسکتاہے مگرسنجیدگی وغیرجانبداری کے اندازمیں دیکھاجائے تواس فیصلے سے شاید آنے والی پارلیمنٹ کے ارکان کے لیے زیادہ غو روفکر کاکوئی سامان بھی موجود ہوگا۔سابق وزیراعظم نے حسب عادت عدالتی فیصلے کوانتقامی کارروائی قراردے کر کارکنوں کواپنی کال کاانتظارکرنے کاکہہ دیا جبکہ محترمہ مریم نواز نے مستقل نااہلی کوموجودہ ججز کے اپنے عہدوں سے اترنے تک قراردے کردراصل یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ہماراقانون محض موم کی ناک ہے جسے کسی بھی وقت دوسری طرف مروڑا جاسکتاہے۔آج کی سیاست میں سرگرم کرداراداکرنے والی مریم نوازصاحبہ کل کو ملک کی وزیراعظم بھی بن سکتی ہیں لیکن اگر ان کے ذہن میں قانون کے احترام کی بجائے اسے اپنے حق میں کئے جانے کا تصور موجود ہے تواسے افسوسناک رویہ ہی قراردیاجاسکتاہے ۔عدالتی فیصلے اپنی جگہ اورآئین کی تشریح بھی بجا،مگرپارلیمنٹ کی طاقت واہمیت کوکوئی نظرانداز نہیں کرسکتا۔آنے والی پارلیمنٹ آرٹیکل 62ون ایف میں تبدیلی یااسے مکمل طورپر ختم بھی کرسکتی ہے ۔تازہ ترین عدالتی فیصلے سے صرف نوازشریف ہی نہیں تحریک وانصاف کے جہانگیرترین بھی متاثر ہوئے ہیں ۔بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ سابق صدرپرویز 
مشرف سمیت درجنوں مزیدافراد جن میں شیخ رشید ،سمیع اللہ بلوچ،چوہدری عطاالرحمن،مولوی حنیف ،سردارفتح علی خان ،سینیٹر محمدعلی رند،اللہ ڈینوخان ،ثمینہ خاورحیات ،سردارفتح علی عمرانی ،عبدالغفورلہری،محمدخان جتوئی ،نذیراحمدجٹ ،سمیع اللہ جتوئی اورشمعون بادشاہ قیصرانی شامل ہیں تاحیات نااہل ہوسکتے ہیں ۔قانون صرف افرادکے لیے نہیں بلکہ اجتماعی اثرات مرتب کرتاہے ۔حکمران مسلم لیگ (ن)اگرآئندہ الیکشن میں پھرکامیاب ہوکرپارلیمنٹ میں آجاتی ہے تونیب سمیت متعدد اداروں کے قوانین تبدیل اورآئینی ترامیم کرسکتی ہے۔ محض عدالتوں پرتنقیداچھارویہ نہیں۔ 
سرکاری بھرتیوں اورترقیاتی منصوبوں پرپابندی 
نئے انتخابات کے قریب آتے ہی الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی متحرک ہوگیاہے اوراس نے تمام سرکاری محکموں میں نئی بھرتیوں پرپابندی کے ساتھ یکم اپریل کے بعد منظورہونے والی ترقیاتی سکیموں پرعملدرآمد بھی روکنے کی ہدایت جاری کردی۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی طرف سے31مئی تک اقتدار میں رہنے کی بات کرکے الیکشن2018ء کی جزیات طے کرنے کااشارہ دے دیا۔موجودہ قومی اسمبلی کے ارکان نے کیونکہ یکم جون2013ء کوحلف اٹھایااورمنتخب ایوان کا افتتاحی اجلاس بھی اسی روزطلب کیاگیاتھا،اس لحاظ سے 31مئی2018ء اس کی ڈیڈلائن ہے ۔ماضی کے انتخابی عمل پرنظردوڑائی جائے تو2002,2008,2013ء کے انتخابات میں الیکشن سے پہلے ہونے والی تقریریوں ،تبادلوں اوربھرتیوں کے باعث انتخابی دنگل میں اترنے والی سیاسی جماعتوں اورامیدواروں کی طرف سے نئی بھرتیوں یاتقرریوں کوپری پول رگنگ یعنی نتائج اپنے حق میں بدلنے کے الزامات لگائے جاتے رہے لیکن اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کی طرف سے اقتدارچھوڑنے سے ایک روزپہلے تک ترقیاتی سکیموں کے لیے قومی خزانے سے اربوں روپے کے اجراء او رمختلف محکموں کونچلی سطح پر سڑکیں ،گلیاں ،نالیاں بنانے کے ٹیلی فونک اورتحریری احکامات سے پیپلزپارٹی کی سیاسی ساکھ کوزبردست نقصان پہنچا۔یہی نہیں بلکہ ایسے ہی احکامات جاری کرنے پر وہ آج کل اپنے خلاف انکوائریاں بھگت رہے ہیں ا وراحتساب عدالتوں کاسامنا کرناپڑرہاہے۔بدقسمتی سے موجودہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی پربھی اپنے ارکان قومی اسمبلی کوترقیاتی سکیموں کے لیے94ارب روپے تک کی رقم سرکاری خزانے سے جاری کرنے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں ایک دوسرے پرانتخابی دھاندلیوں ،اقرباپروری اوراپنے امیدواروں کوجتانے کے لیے کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈزجاری کرنے کے الزامات لگانے کے ساتھ خودبھی ایسی غیراخلاقی،غیرقانونی وغیرآئینی سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتی ہیں جوپری پول رکنگ یااقتدارکے لیے ان کی بے چینی کوظاہرکرتی ہیں جس کاعملی مظاہرہ آج کل مختلف سیاسی پنچھیوں کاکسی جماعت کو چھوڑکردوسری میں شامل ہونا،انتخابی اخراجات سے کہیں زیادہ اخراجات اورفرضی نام سامنے لاکر اپنی انتخابی مہم کاابھی سے آغاز شامل ہے۔الیکشن کمیشن نے گزشتہ سال جواخلاقی ضابطہ مرتب کیاتھا،وہ بجائے خودانتہائی مضحکہ خیز،غیرحقیقت پسندانہ اورمحض کاغذی قسم کاہے دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ کیانئی حلقہ بندیاں چندمخصوص افرادیاقوتوں کے اشارے پرکی گئی ہیں یانئی مردم شماری کے نتیجے میں طے کی گئیں ؟اپنے علاقوں میں ابھی سے بڑی بڑی فیلیکسز لگاکراورسیاسی ڈیرے آبادکرنے والے افراد کی نگرانی شرو ع کی جائے گی یانہیں؟قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے40لاکھ جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے لیے25لاکھ روپے اخراجات کی حداحمقانہ یاغیرفطری توہوسکتی ہے،حقیقی ضرورت ہرگز نہیں۔گزشتہ عام انتخابات میں ہرقومی حلقہ ساڑھے تین تاچارلاکھ جبکہ صوبائی حلقہ ڈیڑھ سے دولاکھ ووٹروں پرمشتمل تھا جواب نئی مردم شماری اورحلقہ بندیوں کے باعث بڑھ کر سات سے آٹھ لاکھ اورتین سے چارلاکھ ووٹروں کا ہوچکاہے۔مہنگائی ،معیارزندگی اورایک دوسرے سے بڑھ کر اخراجات کرنے کارحجان بڑھنے کے باعث قومی اسمبلی کاکوئی امیدوار پانچ کروڑسے کم خرچ کرکے جیت نہیں سکے گا جبکہ صوبائی اسمبلی کے ووٹروں تک رسائی اورٹرانسپورٹ ودیگراخراجات ملاکررقم بھی چارکروڑ سے اوپرہی جائے گی۔آج کل امیدوارووٹروں کے ضمیرخریدنے یامجبوریوں سے فائدہ اُٹھانے کے بھی ماہر ہوگئے ہیں۔گزشتہ عام انتخابات میں 10ووٹ دینے والے کونئی موٹرسائیکل جبکہ غریب وکم وسائل والے افراد کوبچیوں کی شادی،کسی بیمار کے علاج یا نئے کاروبار کے لیے25سے50ہزارروپے تک فراہم کیاگیاجوآئندہ الیکشن میں بھی جاری رہے گا ۔موبائل فون سیٹ،ایل سی ڈیز،پنکھے وغیرہ بھی تقسیم کئے جاتے ہیں 1988ء کے الیکشن میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے امیدوارتوآئے ،گھی ،چینی،پتی ،صابن جیسی اشیاء پرمشتمل چھوٹے بڑے گفٹ پیکٹ بناکرغریب بستیوں میں تقسیم کروائے تھے نتیجے میں وہ کامیاب ہوگیاتھا۔ایسی حرکتیں اورافعال اگرچہ الیکشن جیتنے میں اہم کرداربھی اداکرتے ہیں مگروہ غیرقانونی وغیراخلاقی ہیں۔بدلتے وقت کے تقاضوں کے ساتھ انسدادی اقدامات کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے ۔وقت آگیاہے کہ چیف الیکشن کمشنرجسٹس (ر)سردار رضاانتخابی سرگرمیاں شرو ع ہونے سے پہلے کوئی نیااورموثر ضابطہ اخلاق بناکر سیاسی جماعتوں سے باقاعدہ اسے منظوراورسختی سے عملدرآمد کالائحہ عمل مرتب کرلیں وگرنہ پری پول رگنگ روکناناممکن نہیں تومحال ضرورہوجائے گی۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں