کیا امریکی سفارت کار کو ٹریفک حادثے پر سزا دینا ممکن ہے ؟

تحریر:عدنان خان کاکڑسات اپریل 2018 ء کو امریکی سفارت خانے کے ڈیفینس اتاشی کرنل جوزف ایمانویل ہال نے اسلام آباد کی مارگلہ روڈ پر اشارہ توڑا اور ایک موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ موٹر سائیکل پر دو افراد سوار تھے جن میں سے ایک کا موقع پر ہی انتقال ہو گیا اور دوسرا زخمی ہوا۔ اس سارے واقعے کی ویڈیو موجود ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کرنل جوزف کی گاڑی نے سرخ بتی کی خلاف کرتے ہوئے ٹکر ماری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس واضح ثبوت کی موجودگی میں بھی کیا کرنل جوزف کو پاکستانی عدالت کے ذریعے سزا دینا ممکن ہے ؟ 
کسی ملک میں تعینات سفارت کاروں کو تحفظ دینے کی خاطر دنیا کے بیشتر ممالک نے 1961 میں ویانا کنوینشن برائے سفارتی تعلقات نامی معاہدے پر دستخط کیے ۔ اس معاہدے کی شق نمبر 31 کا جز ایک یہ کہتا ہے کہ ایک سفارت کار کو میزبان ملک کے کریمنل، سول اور انتظامی قوانین کے خلاف تحفظ حاصل ہے اور ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے ۔ اس شق کا جز چار یہ کہتا ہے کہ سفارت کاروں کو میزبان ملک کے قانون سے تحفظ تو حاصل ہے لیکن اپنے ملک کے قوانین سے ان کو تحفظ حاصل نہیں ہے ۔ 
Vienna Convention on Diplomatic Relations 1961 
Article 311.A diplomatic agent shall enjoy immunity from the criminal jurisdiction of the receiving State. 
He shall also enjoy immunity from its civil and administrative jurisdiction,4.The immunity of a diplomatic agent from the jurisdiction of the receiving State does not exempt him from the jurisdiction of the sending State. 
جز چار کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کسی امریکی اہلکار نے پاکستان میں جرم کیا ہے تو اس جرم پر اس پر امریکہ میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے ۔ خاص طور پر امریکہ میں تو اس معاملے کی عدالتی نظیر بھی موجود ہے ۔ عموماً کسی ملک کے قانون کا دائرہ کار اس کی اپنی سرزمین تک ہی محدود ہوتا ہے،یعنی دبئی یا امریکہ یا فرانس یا سعودی عرب میں کسی جرم کے مرتکب شخص پر لاہور میں پاکستانی قوانین کے تحت مقدمہ چلانا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ ممالک پاکستانی قوانین کے تحت نہیں آتے ہیں۔ ہاں امریکہ سپر پاور ہونے کی وجہ سے ایک بدمعاشی کرنے پر قادر ہے ۔ اس نے قانون بنایا ہے کہ اگر دنیا میں کہیں بھی اس کے کسی شہری یا مفادات کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے تو وہ ایسا کرنے والے دہشت گرد پر امریکہ میں مقدمہ چلا سکتا ہے ۔ سفارت کار اگر سفارتی استثنا کا مطالبہ کر دیں تو وہ قتلِ عمد کر کے بھی سزا سے بچ سکتے ہیں۔ ان پر مقدمہ صرف ایک صورت میں چلایا جا سکتا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ ان کا اپنا ملک ان کا سفارتی استثنا ختم کر دے ۔ استثنا موجود ہو تو میزبان ملک زیادہ سے زیادہ اس سفارت کار کو ملک بدر کر سکتا ہے خواہ اس نے کتنا ہی بڑا جرم کیوں نہ کیا ہو۔ 
اب سوال یہ ہے کہ کیا صرف پاکستان پر ہی لازم ہے کہ وہ امریکی سفارت کار پر مقدمہ نہ چلائے ؟ امریکہ کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر سفارتی استثنا کی تفصیل موجود ہے ۔ اس میں پہلی لائن میں ہی لکھا ہوا ہے کہ امریکہ میں تعینات غیر ملکی سفارت کاروں کو نہ تو حراست میں لیا جا سکتا ہے ، نہ عام قوانین کا ان کو سامنا کرنا پڑے گا، ان کو گواہ کے طور پر طلب نہیں کیا جا سکتا ہے ، ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے ، اور یہی تحفظ ان کے خاندان کے افراد کو حاصل ہے ۔ اس امریکی سہولت سے ایک نامی پاکستانی سفارت کار بھی استفادہ کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ ویانا کنوینشن کے تحت یہ سفارتی استثنا صرف ملک میں تعینات رجسٹرڈ سفارت کاروں کو حاصل ہوتا ہے ، اور دوسرے ملک کے وزیر یا دیگر حکومتی اہلکار اسے استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ 
سفارت کاروں کی قانون شکنی کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ سنہ 1977 میں امریکی سفارت کار نے آسٹریلیا میں ایک حکومتی اہلکار کو ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک کر دیا تھا۔ اس سفارت کار کو مقدمہ چلائے بغیر ملک بدر کر دیا گیا۔سنہ 1975 میں ایک یورپی 
ملک میں ایک پاکستانی سفیر کے سوٹ کیس سے ہیروئن برآمد ہوئی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سفارتی استثنا ختم کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سفارت کار کو واپس بلا لیا۔سنہ 2003 میں امریکی دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارت کار کا سفارتی استثنا ختم کرنے کی درخواست کی کیونکہ اس نے اپنی گرل فرینڈ اور اس کے ڈرائیور پر حملہ کیا تھا۔ پاکستانی حکومت نے سفارتی استثنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ (بحوالہ نیویارک ٹائمز اور اردشیر کاؤس جی) 
جنوری 1997 میں جارجیا کے ڈپلیومیٹ جارجی ماخاردزے نے واشنگٹن میں ایک ایسا حادثہ کیا جس نے اپنی لپیٹ میں پانچ گاڑیوں کو لے لیا۔ اس میں ایک سولہ برس کی لڑکی کی موت ہو گئی۔ جارجی نے سفارتی استثنا کی پناہ لی۔ اس پر امریکہ بھر میں شدید عوامی احتجاج ہوا۔ زیادہ احتجاج اس وجہ سے ہوا کہ پہلے بھی دو مرتبہ جارجی کو تیز رفتاری اور نشے میں ڈرائیونگ کی وجہ سے پکڑا گیا تھا اور وہ سفارتی استثنا کی وجہ سے بچ گیا۔ امریکہ میں عوامی احتجاج کو دیکھتے ہوئے جارجیا نے اپنے سفارت کار کا سفارتی استثنا ختم کر دیا اور اس کے بعد اسے سات برس کی سزا ہوئی۔ 
سنہ 1998 میں امریکی سفارت کار ڈگلس کینٹ نے روسی شہر ولاڈی واسٹک میں ایک ٹریفک حادثہ کیا جس کی وجہ سے ایک روسی شہری الیگزینڈر کاشن معذور ہو گیا۔ بغلوں سے نیچے اس ہاتھ مفلوج ہو گئے تھے ۔ گواہوں نے بیان دیا کہ سفارت کار نشے میں تھا اور حادثے کے بعد ہنستا ہوا چلا گیا۔ روس اس امریکی سفارت کار پر سفارتی استثنا کی وجہ سے مقدمہ نہیں چلا پایا کیونکہ امریکہ نے سفارتی استثنا ختم کر دینے کی روسی درخواست مسترد کر دی تھی۔ الیگزینڈر نے ذاتی طور پر امریکہ میں ڈگلس کینٹ پر ہرجانے کے لئے سول مقدمہ کر دیا مگر امریکی فیڈرل کورٹ آف اپیل نے یہ کہہ کر مقدمہ خارج کر دیا کہ ڈگلس کینٹ کو سفارتی استثنا حاصل تھا اور اس پر امریکہ میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے ۔ اسی مقدمے کی بنیاد پر یہ بھی واضح ہو جانا چاہیے کہ سفارتی استثنا کی وجہ سے حالیہ حادثے کے ذمہ دار کرنل جوزف ایمانویل ہال پر بھی امریکہ میں مقدمہ چلایا جانا ممکن نہیں ہے ۔ 
سنہ 2001 میں کینیڈا کے شہر اوٹاوہ میں روسی سفارت کار آندرے کنیازیف نے نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک عورت کو ٹکر مار کر مار ڈالا۔ آندرے نے سفارتی استثنا کی پناہ لیتے ہوئے موقعے پر پہنچنے والے پولیس والوں کو نشے کا ٹیسٹ دینے سے انکار کر دیا۔ روس نے کینیڈا کی حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سفارتی استثنا ختم کرنے سے انکار کر دیا لیکن رضاکارانہ طور پر یہ کمٹ کیا کہ وہ آندرے پر روس میں مقدمہ چلائے گا۔ آندرے کو ملک بدر کر دیا گیا۔ ماسکو میں اس پر مقدمہ چلایا گیا اور چار برس کی سزا دی گئی۔ 
سفارت کاروں کے ایسے بے شمار واقعات ہیں۔ برطانوی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1999 سے لے کر 2004 تک غیر ملکی سفارت کاروں نے 122 سنگین جرائم کیے ۔ 
موجودہ واقعے سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ یاد کر لیتے ہیں۔ 14 فروری 2013 کے دن مارگلہ روڈ پر ہی ایک امریکی سفارت کار نے دو موٹر سائیکل سواروں کو ٹکر ماری۔ یہ پارلیمنٹ لاجز میں ملازم تھے ۔ مزمل شاہ کی موت ہو گئی اور شوزیب رضا زخمی ہوئے ۔ امریکی سفارت کار پر سفارتی استثنا کی وجہ سے مقدمہ نہیں چلایا جا سکا۔ مزمل شاہ کی فیملی نے ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد سید پور کی نمایاں شخصیت راجہ صفدر سے رابطہ کیا جنہوں نے امریکی سفارت خانے سے بات کی۔ 
دو ماہ بعد امریکی سفارت خانے نے مزمل شاہ کے لواحقین کو سولہ لاکھ روپے ادا کر دیے ۔اب پانچ سال بعد دوبارہ وہی ہوا ہے ۔ وہی مارگلہ روڈ ہے ، سفارت کار بھی امریکی ہے ، ٹکر بھی ایک موٹر سائیکل کو ماری گئی ہے جس پر دو افراد سوار تھے جن میں سے ایک کی موت ہو گئی ہے ۔ سفارتی استثنا بھی موجود ہے ۔ سب کردار، حالات اور واقعات وہی ہیں۔ انجام بھی وہی ہو گا۔ ہمارے جذبات چاہے جو بھی کہیں مگر قانون کچھ اور کہتا ہے ۔ سفارت کاروں کو کچھ نہیں ہوتا خواہ وہ پاکستانی ہوں یا امریکی۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں