امریکہ شام پردوبارہ حملہ کرسکتاہے

دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں حالیہ مبینہ کیمیائی حملے کے رد عمل میں امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ہفتے کی صبح شام پر حملہ کردیا۔ اس کارروائی میں امریکا کو فرانس اور برطانیہ کی حمایت بھی حاصل ہے ۔امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شام پر ایک سو سے زائد کروز میزائل داغے ہیں اور روسی اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشترکو شامی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ یہ خبر روسی وزارت دفاع کی جانب سے چودہ اپریل کی صبح جاری کی گئی ہے ۔ روسی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق امریکا، برطانیہ اور فرانس نے ہوا سے زمین پر ہدف کو نشانہ بنانے والے ایک سو سے زائد میزائل داغے ، جن میں شام کے فوجی اور سویلین اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ میزائلوں کو فضا ہی میں ناکارہ بنانے کے عمل میں روسی دفاعی نظام کا کوئی کردار نہیں تھا اور یہ کام شامی فوج کے دفاعی نظام نے کیا۔ روسی فوج کے مطابق یہ میزائل بحیرہ احمر میں تعینات امریکی عسکری بیڑے اور ال طنف ہوائی اڈے کے قریب سے امریکی جنگی طیاروں نے داغے ۔یہ فضائی حملے شام میں دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں حالیہ مبینہ کیمیائی حملے کے رد عمل میں کیے گئے ہیں۔ اس حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے ۔ امر یکا اور اس کے اتحادیوں کا الزام ہے کہ اس حملے میں صدر بشار الاسد کی حامی افواج ملوث ہیں ،تاہم شامی حکومت اور روس اسے مسترد کرتا ہے ۔ماسکو حکومت نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگای اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے ۔ روسی ایوان بالا میں بین الاقوامی امور سے متعلق کمیٹی کے سربراہ کونسٹنٹین کوساچیف کے بقول یہ حملہ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے (OPCW) کے کام میں امکاناً رکاوٹ ڈالنے کے لیے کیا گیا تھا، جس نے ابھی حال ہی میں غوطہ میں اپنا کام شروع کیا تھا۔اس حملے کے ایک روزگزرنے کے بعد اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیر نِکی ہیلی نے کہا کہ انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز رہے ، ورنہ سمجھ لے کہ امریکی فورسز دوبارہ کارروائی کے لیے ’تیار‘ہیں جبکہ شام میں امریکا، برطانیہ اور فرانس کے فضائی حملوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی مذمتی قرارداد بھی مسترد کر دی گئی ہے ۔ سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نِکی ہیلی نے کہا کہ شامی حکومت نے اگر دوبارہ عام شہریوں کے خلاف زہریلی گیس کا استعمال کیا، تو اس کے خلاف دوبارہ کارروائی کی جائے گی۔حکومت کے زیر کنٹرول علاقے خان الاصل میں اعصاب شکن گیس کے حملے میں ایک درجن سے زائد فوجیوں سمیت 26 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ اس حملے کا ذمہ دار کون تھا، اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکا کیونکہ حکومت اور باغی دونوں اس حملے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ۔مغربی طاقتوں نے ہفتے کے روز شامی دارالحکومت دمشق اور حمص میں تین شامی حکومتی تنصیبات پر میزائل حملوں کو خوش آئند قرار دیا ہے ، تاہم کہا جا رہا ہے کہ ان حملوں سے شامی تنازعے میں حکومتی فورسز کی پیش قدمی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔امریکا، فرانس اور برطانیہ نے شامی دارالحکومت دمشق کے ضلعے برضح اور حمص کے قریب واقع دو حکومتی تنصیبات پر مجموعی طور پر 105 میزائل داغے ۔ پینٹاگون کے مطابق ان حملوں میں شامی حکومت کے زیراستعمال کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے تین مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔شامی خانہ جنگی میں مغربی ممالک کی یہ سب سے بڑی عسکری مداخلت ہے، تاہم امریکا، فرانس اور برطانیہ کے مطابق ان حملوں میں فقط شام کی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں کا مقصد اسد حکومت کا خاتمہ یا شامی تنازعے میں مداخلت نہیں تھا۔شامی حکومت اور بشارالاسد کے اتحادی ممالک ایران اور روس نے ان حملوں کی مذمت کی ہے ۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عسکری آپریشن کو ’کامیاب‘قرار دیا ہے ۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ نے کہا، ’’مشن مکمل ہو گیا‘‘۔ادھر روسی وزیرخارجہ سیرگئی لاوروف نے ان حملوں کو ’ناقابل قبول اور غیرقانونی‘قرار دیا ہے ۔ جب کہ شامی حکومت نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حوالے سے ان حملوں کو ‘مغربی ممالک کا جرم اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی’ قرار دیا ہے ۔ مغربی ممالک نے اس حملے کا الزام شامی حکومت پر عائد کرتے ہوئے سخت ردعمل کا عزم ظاہر کیا تھا۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پرفائرنگ
ہفتے کی رات دوراتوارکی صبح سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس ا عجاز الاحسن کی لاہور میں واقع رہائشگاہ پرفائرنگ کے دوواقعات کے باعث اہل خانہ شدیدخوفزدہ جبکہ پورے علاقے میں سراسیمگی پھیل گئی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثاربھی اطلاع ملنے پرجسٹس اعجاز الاحسن کے گھرپہنچ گئے چیف جسٹس نے بعدازاں انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کو طلب کرکے صورتحال کاجائزہ لینے اورملزموں کے گردگھیراتنگ کرکے انہیں شکنجے میں کسنے کاحکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھرپرحملے کے دوران مرکزی دروازے اورکچن کی کھڑکی میں پیوست ہونیو الی گولیوں کے خولوں کے ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں سے جائے واردات اورفرانزک ٹیموں کی مدد سے حقائق کی کھوج تک پہنچاجائے۔ رینجرز حکام بھی جسٹس اعجازالاحسن کے گھرپہنچ گئے اورتفتیشی عمل میں مصروف پولیس کو اپنی خدمات پیش کردیں ۔حملے کی اطلاع ملتے ہی پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف بھی متحرک وسرگرم ہوگئے اورانہوں نے لاہورمیں موجود تمام تفتیشی ٹیموں کوالرٹ کرکے معاملے کی کھوج لگانے کاحکم دے دیا۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے بھی جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پرفائرنگ کی شدیدمذمت اورملزموں کی فوری گرفتاری کاحکم دیا۔جہاں تک اس فائرنگ کاتعلق ہے تومعروضی حالات میں ججز،جرنیل ،بیوروکریٹس،منتخب ارکان اسمبلی اوروزراء سمیت اہم شخصیات پرکسی بھی وقت کوئی بھی حملہ ہوسکتاہے مگر جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پرہونے والی فائرنگ کے لیے جس وقت کاانتخاب کیاگیا وہ لمحہ فکر یہ اورپنجاب کی انتظامیہ کے سکیورٹی انتظامات میں غفلت کی علامت ہیں۔پوری قوم جانتی ہے کہ سپریم کورٹ اورمختلف ہائیکورٹس میں آج کل شریف خاندان سمیت حکمران مسلم لیگ کے قائدین ،وزراء،ارکان پارلیمنٹ اوراہم عہدیداروں کے خلاف مختلف مقدمات زیرسماعت ہیں۔پانامہ سے شروع ہونے والاہنگامہ اب احتساب عدالت اسلام آباد میں آخری مراحل سے گزررہاہے جبکہ وفاق اورچاروں صوبوں کی منتخب سول حکومتیں بھی اپنے فیصلہ کن لمحات گزاررہی ہیں۔گزشتہ روز ہی سپریم کورٹ کی لاہوررجسٹری میں وفاقی وزیرخواجہ سعدرفیق کی طلبی اورپاکستان ریلوے کے آڈٹ کاحکم اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ منتخب حکومتوں کی کارکردگی سے عدالت عظمیٰ مطمئن نہیں پنجاب میں صاف پانی منصوبے ،ہستپالوں اورتعلیمی اداروں کی ناگفتہ بہ صورتحال پرسپریم کورٹ کے ازخودنوٹسز جبکہ سندھ اوربلوچستان حکومتوں کی کارکردگی پراٹھنے والے سوالیہ نشان آنے والے دنوں میں عام انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کے علاوہ بلوچستان کے موجودہ اورسابق وزرائے اعلیٰ کی عوامی مقبولیت میں کمی بھی پیداکرسکتے ہیں ۔پنجاب میں 56پرائیویٹ کمپنیوں میں لگائے جانے والے سی ای اوزکی تنخواہوں ،مراعات اورکارکردگی پر محترم چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے دیگرججز مختلف مقدمات،اپیلوں اوررٹ پٹیشنوں کی سماعت کے دوران جس قسم کے ریمارکس دے رہے ہیں ،وہ حکمرانوں کی کارکردگی کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔مثال کے طورپر چیف جسٹس کایہ سوال کہ چارارب روپے خرچ ہونے کے باوجود ابھی تک پنجاب کے شہریوں کوایک قطرہ صاف پانی کافراہم نہ کیاجاسکا،لمحہ فکریہ نہیں توکم از کم غورطلب ضرورہے۔سابق وزیراعظم نوازشریف ،ان کی صاحبزادی مریم نوازمیڈیااورعام جلسوں میں جس قسم کے بیانئے عام کررہے ہیں ،وہ حکومت اسٹیبلشمنٹ محاذ آرائی کی نشاندہی جبکہ حکمرانوں اورعدلیہ میں کسی حدتک کشیدگی کوظاہرکرتے ہیں وگرنہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی عدالتی فیصلوں کوردی کی ٹوکری میں پھینکے جانے کی بات نہ کرتے ۔ایون فیلڈ ریفرنس میں سے کچھ نکلنے نہ نکلنے، 12اپریل کوسپریم کورٹ کے لارجربنچ کے فیصلے کے بعدمیاں نوازشریف اورجہانگیرترین ہمیشہ کے لیے سیاست سے نااہل ضرورہوچکے ہیں جوالیکٹ ایبلز کے لیے منفی ردعمل چاہے وہ بیان کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو،ظاہرکرنے کاباعث بن سکتے ہیں ۔تحریک انصاف کو بھی آرٹیکل62(1)(F)سے زبردست دھچکا لگاہے ۔وقت آگیا کہ ججز ،وزراء،گورنرز اوراہم حکومتی افراد سمیت عام افراد کے جان ومال کی حفاظت کے لیے وفاقی،اورصوبائی حکومتیں مزیدتوجہ دیں۔جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پرحملہ ججز کووارننگ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ نوازشریف اورجہانگیرترین کے بعد شیخ رشید سمیت 13کے قریب وی آئی پیز کی اپیلو ں کے فیصلے بھی سامنے آنے والے ہیں۔ملک بھر کے وکلاء کی طرف سے عدالت عظمیٰ کے جج پرحملے کوعدلیہ کے خلاف سوچی سمجھی سکیم کے تحت دباؤ ڈالنے جیسے الزامات کی روشنی میں پنجاب حکومت کوپوری سرگرمی سے حملہ آوربے نقاب کرنے ہوں گے تاکہ ججز مرعوب ہوئے بغیرانصاف کے تقاضے جرأ ت کے ساتھ پورے کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں