خطبہ جمعہ اور خطبا ء کی ذمہ داری

تحریر:صاحبزادہ امانت رسولکہاجاتا ہے کہ مہاتما گاندھی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ مسلم راہنماؤں کو اپنی آواز پہنچانے کے لیے کسی اجتماع کو منعقد کر نے کی ضرورت نہیں ہوتی،انہیں ان کے دین کی طرف سے یہ سہولت میسر ہے کہ دن میں پانچ مر تبہ نماز با جماعت کا اہتمام کیا جا تا ہے ، ہر ہفتے جمعہ کا اجتماع اور سال میں دو عیدوں کا اجتماع منعقد کیا جا تا ہے ۔اس کے علاوہ دیگر اجتماعات بھی منعقد ہوتے ہیں جن میں مسلم راہنما جو پیغام دینا چاہیں، وہ پیغام لو گو ں تک پہنچاتے ہیں۔ 
جمعہ کا اجتماع مسلم معاشروں میں دیگر اجتماعات سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔بنیادی طور پر یہ ذمہ داری حکومتی نمائندو ں کی ہے کہ وہ عوام سے خطاب کر تے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کر تے لیکن پاکستان میں یہ ذمہ داری علمائے کرام ادا کرتے ہیں جو مساجد کی ذاتی انتظامیہ کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں۔ 
بعض مساجد میں مدارس بھی قائم کیے گئے ہیں، اس طرح وہ مسجد کے خطیب و عالم اور مدرسہ کے ناظم کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں ادا کر تے ہیں ۔ہم مساجد میں متعین خطباء کرام کو دوحیثیتوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ جو صرف خطیب ہیں اور جمعہ پڑھاتے ہیں ،ان کا محلے اور علاقے میں کوئی اثر و رسوخ نہیں ہوتا ۔دوسرے وہ خطیب 
حضرات جن کا وہاں ایک مضبوط حلقہ ارادت و عقیدت ہوتا ہے ، بعض او قات وہ اس وجہ سے کئی افراد کی دلآزاری اور تکلیف کا باعث بھی بنتے ہیں، ان میں سے ایک تکلیف تو یہ ہے کہ ایسے خطبا ء کی اکثر مساجد میں نماز جمعہ کبھی اپنے مقررہ وقت پہ نہیں پڑھایاجاتا، مثلاًنماز جمعہ کا وقت 2بجے ہے تو وہاں جماعت 2:30سے پہلے کبھی کھڑی نہیں ہو گی، یہ بھی دیکھنے میں آ یا ہے کہ اِدھر نماز جمعہ ختم ہوئی اور ادھر نماز عصرکا وقت شروع ہو جا تا ہے ۔ 
بظا ہر یہ مسئلہ اہم اور بڑا دکھائی نہیں دیتا لیکن اس تا خیر پہ عوام کا ردِعمل اور شکوہ بہ اندازِ بدتمیزی اس مسئلے کی سنگینی کی طرف اشارہ کر تا ہے ۔اکثر افراد کو یہ کہتے سنا گیاہے کہ ہمارے خطبا ء تقاریر بہت اعلیٰ کر تے ہیں لیکن خود عمل نہیں کر تے ۔یہ کہتے بھی سنا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہمیں ایفائے عہد کی تلقین کر تے ہیں کیا وقت پہ تقریر ختم کر نا اور نماز جمعہ کھڑی کر نا یہ عہد شکنی نہیں ہے ؟یہ حقیقت ہے کہ نماز جمعہ میں شرکت کرنے والے لوگ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق 
رکھتے ہیں، دکاندار، ملازمت پیشہ، ڈاکٹر وغیرہ کوئی ایسے مجبور لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں کسی مریض کو ہسپتال اور کسی طالب علم کو امتحانی سنٹر لے کر جا نا ہو تا ہے ۔ 
عوامی ردِعمل بجا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ آخر ہمارے علماء و خطبا ء ایسا رویہ کیوں اختیار کر تے ہیں؟ اس رویے کے پس منظرمیں کئی وجو ہات ہوتی ہیں جن کا جا ننا ضروری ہے ۔ 
بنیادی وجہ دعوتی سوچ کا فقدان ہے ۔اگر مدارس میں اس تربیت کا اہتمام کیا جائے اور ایسا ماحول مہیا کیا جا ئے جس میں پروان چڑھنے والا طالب علم دین کا داعی اور مبلغ بنے ،اپنے مسلک کا وکیل،مناظر اور خطیب نہ بنے ۔ 
دراصل داعی اور مبلغ اپنے آپ کو سب سے پہلے اخلاقی اوصاف سے متصف کر تا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میرے بو لنے سے زیادہ میرے عمل کا اثر ہے ۔ایک گھنٹے کی تقریر کے بعد میں وقت پہ نماز جمعہ کھڑی نہ کر سکا تو میں نے اپنا کہا ہوا سب کچھ ضائع کر دیا۔داعی و مبلغ بو لتا کم اور عمل زیادہ کر کے دکھاتا ہے ۔ 
دوسری وجہ خطابت و تقریر با قاعدہ ایک فن اور صنعت بن چکی ہے ،جس میں دین کی روح مفقود ہے ۔خطیب اپنا معاوضہ اس طرح طے کر تے ہیں جیسے کسی گلو کار،قوال اور اداکار سے طے کیا جا تا ہے ۔اس لیے جمعہ کے اجتماعات ہوں یا کوئی اور مذہبی اجتماع، کوشش کی جاتی ہے کہ ایسا خطیب ہو جو عوام کو رلا بھی سکے اور ہنسا بھی سکے جس کی گفتگو فروٹ چاٹ “کی طرح ہو جس میں ہر شے حسب ذائقہ موجود ہو۔ 
تیسری وجہ ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت کا ما حول ہے جس میں اپنی اصلا ح کے جذبے سے زیادہ دوسرے کی اصلاح کا جذبہ کار فر ما ہو تا ہے ۔ اپنی غلطیوں اور خطاؤں پہ نظر تب ہو، جب غلطیوں اور خطاؤں کے امکان کا خیال ہو۔ نقائص اور خا میاں طے شدہ ہوتی ہیں اور وہ دوسرے مسلک و فرقہ کے لو گو ں میں ہی ہوتی ہیں۔ 
ایسے ما حول میں کیسے کر دار سازی اور اعلیٰ اخلاقی تربیت کی مثالیں قائم ہوں گی ،یہ چند وجوہات ہیں جن کے باعث خطبا وعلما اس سوچ اور رویے سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کیا وہ خود اس پہ عمل پیرا بھی ہیں یا نہیں ؟عوام سے اعلیٰ اصولوں کی پیروی کا تقاضا کر تے ہیں کیا ہم بھی اس کی پیروی کر تے ہیں یا نہیں؟ 

اپنا تبصرہ بھیجیں