قندوز: تصویر کا دوسرا رخ؟۔

تحریر:عروج احمد
گزشتہ تین دنوں سے موضوعِ بحث بنے واقعات میں ایک ہاٹ ٹاپک افغانستان کے صوبے قندوز میں مدرسے پر کیا گیا فضائی حملہ اور اس سے ہونے والی شہادتیں و ہلاکتیں ہیں۔
جس پہلی ‘سرخی’ نے مجھے اس خبر کی طرف متوجہ کیا وہ ایک ماں کے احساسات کو بیاں کرتی ایک تحریر تھی۔ قطعہ نظر اس سے کہ کس نے یہ حملہ کیا اور کیوں کیا، ان الفاظ کو پڑھ کر میرے ذہن کی سکرین پر سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کا سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور ابھرا۔ بچے ۔ کتابیں۔ تعلیم۔ خون۔ لاشیں۔ ماؤں کا کرب۔ میں چونکہ واقعات کو ‘دریا کو کوزے میں بند’ کر کے پیش کرنے کے ہنر پر طبع آزمائی کر رہی ہوں اس لیے میں نے ان احساسات کو مندرجہ ذیل الفاظ میں مقید کر دیا۔
’’پچاس لفظوں کی کہانی ہار
بشیر اور بلال نے ہار خرید کر ماں کو دیے اور کہا کہ کل مدرسے میں ہماری دستار بندی ہے ۔ وہاں سے واپسی پر ہمیں یہ ہار پہنائیے گا۔
جہاز آئے ، مدرسے پر بمباری کی اور چلے گئے ۔
دروازے پر ماں ہار ہاتھوں میں تھامے ان کا انتظار کرتی رہ گئی۔‘‘
اس پر ہماری نو آموز لکھاریوں کی تنظیم (ینگ ویمن رائٹرز فورم، اسلام آباد چیپٹر) کی ایک فعال رکن جو کہ افغانستان سے تعلق رکھتی ہیں، نے میری اس کاوش کو سراہا اور ساتھ ہی ساتھ میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ ‘قندوز’ کو افغانستان میں ‘کندوز’ لکھا جاتا ہے ۔
خیر۔۔۔وہ سارا دن سوشل میڈیا پہ اس مدرسے کے بچوں کی تصاویر لگائی جاتی رہیں اور بھانت بھانت کے الفاظ میں ان کے بھیجے جانے کا افسوس کیا جاتا رہا۔ شاید ہی کوئی صاحبِ دل ہو جس نے ان ننھی کلیوں کے مسلے جانے پر افسوس نہ کیا ہو۔
اگلے دن ہماری افغانستان والی رکن تصویر کا دوسرا رخ لیے حاضر ہوئیں۔ اور تصویر کا دوسرا رخ بھی کچھ کم پریشان کن نہیں۔
وہ لکھتی ہیں:
کندوز، کمسن طالبان اور بقا کی جنگ
میرے وطن کے کمسن بچے
تیرے مرگ پہ میں بھی نوحہ کناں ہوں
اپنے تمام تر درد کے ساتھ
آہ و فغاں ہوں
تمھاری خون سے لت پت بکھری ہوئی دستاروں کو۔ ۔ ۔
میں نے اس شب آ کر چپکے سے سمیٹا۔ ۔
تیری اسناد کو چوما۔ ۔ ۔
ننھی قبروں پہ جا کے خدا سے کہا
مر گئے سارے کے سارے
میری آنکھوں کے تارے ۔ ۔ ۔
انجان ‘ نادان’ حافظِ قرآن۔ ۔ ۔
بہت کوسا ان بے دردوں کو!
مذہب کی آڑ میں تمھیں ورغلا کے یہاں تک لے آئے ۔ ۔ ۔
جہاں زندگی ہے !
بے بندگی ‘ شرمندگی ‘ درندگی
لہراتے ہیں سفید پھریرے پہ سیاہ موت کے سائے ۔ ۔
میں نادم ہوں ان کے چنگل سے تم کو چھڑا نہ سکی۔ ۔ ۔
تمھیں مدرسے میں جھونک دیا ‘ مکتب کا رستہ دکھا نہ سکی۔ ۔ ۔
مگر میرے کمسن
تیری ماں کی آہوں میں ‘ میں نے اپنی آہیں سُنیں!
تیرے مرقد سے جو پلٹی تو
گریہ گریہ ‘ سسکتی رہی کروٹ کروٹ۔ ۔
تم نہ مرتے تو شہر کابل میں ہوتے دھماکے کئی۔ ۔ ۔
میں نے تخیل میں سب کو ہراساں دیکھا۔ ۔
بین کرتی ہوئی ماؤں کے سینے کی سرخی۔
بیواؤں کی آنکھوں میں جینے کی سرخی۔
باریش پِدر کا ضبط ‘
مسکینوں کے اشک پینے کی سُرخی۔
خون سے لت پت سڑکیں ‘ لبِ دریا بکھرے لاشے
بہار کے تعاقب میں خون ریز مہینے کی سرخی۔ ۔ ۔
روزگار پہ نکلے ہوئے بے پر پرندوں کو تڑپتے دیکھا
دستہ دستہ نوجوانوں کی ہر جا بکھری ہوئی خواب گیں آنکھیں۔ ۔
میں نے دیکھی تخیل میں نوچی ہوئی دخترِ نازک جاں کی رنگین آنکھیں۔ ۔ ۔
میں نے اپنے بچوں کو مجھ سے لپٹ کر روتے دیکھا۔
میں نے دیکھا ‘ امن کو کفن میں مردہ۔ ۔
کتنی دلخراش تھی تہہ در تہہ یہ خبر
اپنے ہاتھوں سے کھودی میں نے اپنی قبر۔
اور تم کو تیری یادوں سمیت دفن کیا اس میں!
یہ سانحہ بھی دلِ ناتواں کو سہنا پڑا۔
خدا غارت کرے تیرے پشت پناہ ان درندوں کو۔
جن کی خاطر مجھے کہنا پڑا۔ ۔
تم نہ مرتے تو میں مرتی۔
تیری وجہ سے ‘ تیری طرح۔
بے گناہ ‘ بے وجہ باخدا
خون سے لتھڑے لاشے اٹھاتے سبھی
بہار پھر سے خزان اوڑھ لیتی۔
جب ہی!
تم کو مرنا پڑا۔ ۔ ۔ ۔
از ثروت نجیب
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہر سال بہار شروع ہوتے ہی ایک کھیپ تیار ہوتی ہے طالبان کی، جو جہاد کے نام پہ ایسے کمسن معصوم بچوں کو خودکش جیکٹ پہنا کر شہروں میں حملے کرواتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم لوگوں نے دکھ کے ساتھ یہ اطمینان بھی کیا کہ شاید اس بار آپریشن بہار کے نام سے شہر میں مزید بم دھماکے نہ ہوں۔
یہ آپریشن ویسے ہی تھا جیسے سوات میں طالبان کے خلاف پاک آرمی نے کیا تھا کیونکہ یہ لوگ صلح کے لیے کسی طور راضی نہیں ہو رہے ۔ جب صلح کی بات آتی ہے تب کابل دھماکوں سے گونج اٹھتا ہے ۔ بچے مدرسے کے تھے اور طالبان تھے لیکن نشانہ ان کو ہار پہنانے والے تھے ۔ ہمارے بچے کیا بچے نہیں جو بے گناہ کابل کی سڑکوں پہ خون آلود ہوتے ہیں۔ لوگوں کو خوش ہونا چاہیے جو کہتے تھے کہ دہشت گرد افغانستان سے آتے ہیں۔ اب اگر ان کے خلاف آپرشن شروع ہیں تو اس اقدام کو سراہنا چاہیے ۔ یہاں جانے کتنی ماؤں نے شکر کیا کہ طالبان مر گئے ، نہیں تو ان کے بچے مر جاتے ۔ یہ بقاء کی جنگ ہے ۔ ’
اور میں یہ سوچ رہی ہوں کہ زندگی کتنی ظالم چیز ہے ۔ اسی زندگی کی بقاء کی خاطر کسی اور کو فنا کرنا پڑتا ہے ۔ دونوں فریقین اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اور بچے بڑوں کی اس جنگ کا ایندھن ہیں۔ قندوز کی اس تصویر کے دونوں رخ۔ خون، آنسو اور کرب لیے ہوئے ہیں۔
اور تصویر کے ان دونوں رخوں سے میری طرح دور بیٹھے لوگ اسی کشمکش میں رہیں گے کہ کس قتل پر افسوس کا اظہار حق بجانب ہو گا۔
(عروج احمد۔ ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر سے بحیثیت میڈیا ہیڈ وابستہ ہیں۔ کرکٹ، کمپیوٹر، سیاست، فوٹوگرافی اور سیاحت سے شغف ہے ۔ کتابوں سے رشتہ بہت پرانا ہے ۔ لکھنا شوق ہے اور فلیش فکشن میں طبع آزمائی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ گاہے بہ گاہے بلاگ بھی لکھتی رہتی ہیں۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں