نظام و معیار تعلیم

تحریر:مبشرانوارقوموں کی ترقی میں ایک بنیادی جزو نظام و معیار تعلیم بھی ہے کہ تعلیمی ادارے وہ درسگاہیں ہیں،جو نو نہالوں سے نو جوانوں تک کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتی ہیں،انہیں اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہیں،جدید علوم سے بہرہ مند کرتی ہیں،اساتذہ اپنے طالبعلموں کو اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتے ہوئے ان کی ہمہ جہت رہنمائی کرتے ہیں،طالبعلموں کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہیں،ان کے کردار کی نشو و نما اعلی ترین اصولوں اور دین کی تعلیمات کے مطابق کی جاتی ہے،انہیں حقیقی معنوں میں ’’انسانیت‘‘ سکھائی جاتی ہے، حقوق العباد سے متعلق روشناس کرایا جاتا ہے،معاشرے کا کارآمد شہری بننے کی تعلیم دی جاتی ہے مگر یہ سب ان معاشروں میں ہوتا ہے جہاں حکمرانوں کو اپنی عوام حقیقتاً اپنے بچوں جیسی عزیز ہوتی ہے۔ آج مسلم ممالک میں خواندگی کی شرح شرمناک حد تک کم ہے ،اس پر طرہ یہ کہ معیار تعلیم مروجہ عالمی معیار سے کہیں کم ،سونے پہ سہاگہ یہ کہ نصاب تعلیم بھی یکساں نہیں،غیر نصابی سرگرمیوں کی بھرمار،اساتذہ کی اپنے فرائض سے مجرمانہ غفلت و پہلو تہی نے نظام و معیار تعلیم کو تقریباً زمیں بوس کر رکھا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں تو تعلیم کی حالت انتہائی عبرتناک ہو چکی ہے کہ بنیادی انتظامی ڈھانچہ ہی نا پید نظر آتا ہے۔ عیش پرست و مجرمانہ غفلت میں ڈوبے حکمرانوں کی پیروی میں نہ صرف اساتذہ بلکہ متعلقہ محکمہ تعلیم اور اس کے افسران اپنے فرائض کے برعکس پیسہ اکٹھا کرنے کی بھیڑ چال میں بری طرح مشغول ہیں،اس کے حصول میں وہ تمام مروجہ و مسلمہ اصولوں کو بھلا کر تعلیمی درسگاہوں میں فقط حاضری/خانہ پری کی خاطر یا پھر حصول ٹیوشن کی خاطر جاتے ہیں تا کہ اپنی کلاس کے بچوں کو جبراً بعد از سکول پڑھنے پر آمادہ کر کے ذریعہ معاش کو بہتر بنا سکیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کا مقام و مرتبہ ان سے کیا تقاضہ کرتا ہے،یا ان کے پیشے کا تقدس کیا ہے،مطمح نظر فقط وہ معاشی دوڑ ہے کہ کس طرح معاشرتی دوڑمیں اپنا سٹیٹس برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس امر سے کوئی اختلاف نہیں کہ اساتذہ کی حیثیت معاشرے میں وہ نہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ہوتی ہے لیکن اس میں قصوروار اساتذہ خود بھی ہیں کہ گذشتہ پینتیس برس میں ہونے والی 
تقرریوں کا معیار ہی ایسا رہا کہ شعبہ تدریس سے منسلک ہونے والے وہ لوگ تھے جو اعلی سرکاری نوکریوں کے لئے اہلیت و قابلیت نہیں رکھتے تھے مگر وہ سرکاری نوکری کی کشش میں ہر ممکن طریقے سے داخل ہونے میں کوئی عار نہیں سمجھتے تھے لہذا مروجہ طریقوں کو اپناتے ہوئے شعبہ تدریس میں رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اپنے مقام و مرتبے سے بے خبر صرف سرکاری نوکری کا حصول ہی ان کی کامیابی ٹھہرا،اس نوکری کے دیگر لوازمات اور تصورات ان کے نزدیک نہ صرف ثانوی رہے بلکہ انہوں نے اس پر محنت کرنے کی بجائے،اپنی استعداد کو بڑھانے کی بجائے طالبعلموں کو ’’رٹے‘‘ کی معروف اصطلاح کا عادی بنا کر طالبعلموں سے ان کی تحقیقی صلاحیت چھین لی۔ اساتذہ کی اس کھیپ کے اپنے تعلیمی ریکارڈ پر نظر دوڑائیں تو اکثریت کا تعلیمی ریکارڈ کسی بھی قابل ذکر کامیابی سے خالی نظر آئے گا،نہ صرف کامیابی سے خالی ہو گا بلکہ ان کے تعلیمی کیرئیر میں گریڈز بھی نچلے درجے کے ہوں گے،ایسے اساتذہ جب بذات خود تعلیمی تصورات کے حوالے سے واضح نہیں ہوں گے تو طالبعلموں کو کس طرح واضح کرپائیں گے؟نصاب تعلیم وہ دوسرا بنیادی جزو ہے جو نئی نسل کو تعلیم سے بہرہ مند کرتا ہے مگر بد قسمتی سے محکمہ تعلیم میں براجمان انتہائی اعلی افسران یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے سے قاصر ہیں بلکہ حق نمک ادا کرنے میں اس حد تک گر چکے ہیں کہ بارہا سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر وائرل ہوئی ہیں کہ مسلمہ قائدین کی جدوجہد کو پس پشت ڈال کر، شاہی خاندان کی سوانح عمریوں اور ملک میں رائج آمریت کے خلاف ان کی ’’نا کردہ خدمات‘‘ کو حصہ بناکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ کہاں عظیم کردار کے حامل وہ رہنما جنہوں نے اپنے وقت کی مکار ترین قوموں سے اس ملک کو آزادی دلوائی ،ملکی خزانے کو قومی امانت سمجھا اور کہاں یہ بالشتیے جن کے شہزادے سکولوں میں جا کر،کرپشن کے حوالے سے، تاریخی جملے ادا کرتے ہوئے کہیں کہ ’’کرپشن ہوتی ہے‘‘۔ کیا نئی نسل کو یہ نصاب گھٹی میں پڑھایا جانا چاہئے کہ ان ننھے ذہنوں کو اول روز سے ہی کرپشن سے روشناس کروایا جائے؟؟حیرت ہوتی ہے ایسے نابغہ روزگاروں کی ذہنیت پر،دوسری طرف ایسے نجی تعلیمی ادارے ہیں ،جو بیرون ملک اداروں سے وابستہ ہیں اور بلا روک ٹوک عوام کی جیبوں کو بھاری بھرکم فیسوں کے نام پر کاٹ رہیں ہیں اور بعینہ وہی نصاب پڑھا رہے ہیں جو ان ممالک میں پڑھایا جاتا ہے،جن سے یہ وابستہ ہیں۔ بارہا ایسے احتجاج نظر سے گذرے،جن میں والدین چیخ و پکار کرتے نظر آئے کہ ان سکولوں میں نوجوان نسل کو جنسی تعلیم بھی دی جاتی ہے،آزادی کے نام پر لچر قسم کا لٹریچر پڑھایا جاتا ہے،مراد جو آزادی یورپ میں بچوں کو حاصل ہے،اس سے آگاہی دی جاتی ہے،کیا ہم اس آزادی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟؟کیا ہمارا معاشرہ اس کی اجازت دیتا ہے؟کیا ہمارا مذہب اس طرح کی تعلیم کے حق میں ہے؟مگر نہیں ! محکمہ تعلیم بڑے بڑے نام سن کر یا ذاتی جیبیں گرم ہونے پر ایسے معاملات پر خاموش ہو جاتا ہے۔ایسے نجی سکولوں سے متعلق ایک لطیفہ بہت مشہور ہوا ہے کہ ایسے سکولوں میں غیر نصابی سرگرمیوں(فلاں دن اور فلاں دن)کے لئے پیسے لئے جاتے ہیں اور جب والدین تعلیم سے متعلق استفسار کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ وہ آپ گھر پر خود یا بچوں کو ٹیوٹر مہیا کریں،وہ پڑھائے گا۔ 
نظام تعلیم کاتیسرا بڑا مرحلہ امتحان کا ہے کہ سال بعد جب آخری امتحان کا وقت آتا ہے تو اس وقت امتحانی مراکز میں بھی لوٹ مار کا بازار گرم نظر آتا ہے کہ نقل ،جس کا تصور 80کی ابتدائی دہائی میں خال خال نظر آتا تھا ،کے بعد ایک باقاعدہ صنعت کی صورت اختیار کر گیا۔ اس وقت تک اساتذہ امتحانی مراکز پرڈیوٹی دینے کو اضافی انکم کا ذریعہ تو سمجھتے تھے مگرکسی صورت طالبعلموں کو نقل کی اجازت نہ دیتے بلکہ مسلمہ قوانین کے مطابق اگر کوئی نقل کرتا پکڑا جاتا تو اس پر باقاعدہ کیس رجسٹرڈ کرواتے۔ 80کی دہائی کے وسط تک شریف اساتذہ اس سے بتدریج کنارہ کش ہوتے چلے گئے کہ امتحانی مراکز پر نہ صرف طالبعلم ،والدین کہ شہ پر ،بدتمیز ہو چکے تھے بلکہ امتحانی مراکز پر ڈیوٹی دینے والے اساتذہ کو ڈرانا دھمکانااور اسلحے کا استعمال تک عام ہو چکا تھا۔اس پس منظر میں شریف النفس اساتذہ کے لئے امتحانی مراکز کی ڈیوٹی سرانجام دینا ممکن نہ رہااور تھانوں کی مانند امتحانی مراکز بھی بکنا شروع ہو گئے،بااثر اور وسائل رکھنے والے طالبعلم پڑھائی سے بے نیاز ہو گئے کہ فائنل امتحان میں نقل اب کوئی شجر ممنوعہ نہ رہی اور کوئی بھی اس سے مستفید ہو سکتا تھا۔ہاں البتہ! معیار تعلیم دن بدن گرتا چلا گیا اور یہی بااثر اور باوسائل لوگ زندگی کے ہر شعبے میں قابل اور اہل لوگوں کو پیچھے دھکیلتے چلے گئے۔ 
آج اقوام عالم کی پانچ سو نامور تعلیمی درسگاہوں میں مسلمانوں کی ایک بھی درسگاہ شامل نہیں بلکہ الٹا یہاں کے بہترین اداروں سے فارغ التحصیل طلباء کو ،ان درسگاہوں میں داخلے کے لئے ،نئے سرے سے امتحان دینا پڑتا ہے۔ پاکستان میں نت نئے ادارے اور نظام تو ضرور متعارف ہو رہے ہیں مگر کارکردگی کا گراف دن بدن نیچے گرتا جا رہا ہے،عوام کی اکثریت کو تعلیم سے محروم رکھ کر نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کے لئے الگ ادارے بھی قائم کئے گئے ہیں مگر اس کے باوجود گرتا ہوا گراف سنبھل نہیں رہا۔ 
ایسی نو ٹنکیوں سے نہ تو نظام تعلیم بہتر ہو سکتا اور نہ ہی معیار تعلیم کہ جب تک شعبہ تعلیم حقیقی طور پر ماہرین تعلیم کے حوالے نہیں کیا جاتا،نصاب تعلیم یکساں نہیں ہوتا،امتحانی نظام ٹھیک نہیں ہوتا،آپ لاکھ نئے نظام متعارف کروائیں کارکردگی روبہ زوال ہی رہے گی۔ عمارت اس وقت ٹھیک نہیں ہو سکتی جب تک بنیاد ٹھیک نہ ہو،آج بھی پسماندہ علاقوں میں گھوسٹ سکول موجود ہیں جہاں طلباء کی بجائے با اثر افراد کے مویشی بندھے ہیں۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں