افغان صدر کی یقین دہانیاں اورعملی اقدامات

15اپریل کوپاکستانی سرحد سے ملحقہ افغان صوبے خوست سے وہاں باڑلگانے کی تیاریوں میں مصروف پاک فوج کے اہلکاروں پراندھادھند فائرنگ کردی گئی جس کی زد میں آکر دوجوان شہید جبکہ پانچ زخمی ہوگئے۔ صورتحال سامنے آتے ہی فرنٹئیر کانسٹیبلری کی قیاد ت نے جوابی حملے کے انتظامات کئے مگرسرحد پار موجود سویلین آبادی کونقصان سے بچانے کے لیے ا نتہائی تحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے مصلحت آمیز خاموشی اختیارکی گئی البتہ پاک افغان بارڈرپر گشت کانظام مزیدسخت کردیاگیااورباڑلگانے اوراس کی حفاظت پر مامورسرحدی محافظوں کومزیدچوکس کردیاگیا۔افغان علاقے سے ہونے والے حملے کے بارے میں عسکری سطح پررابطے بھی جاری ہیں جبکہ پاک فوج کے ہیڈکوارٹر میں 1124کلومیٹرطویل سرحد کوہرصورت محفوظ بنانے کاعمل جاری رکھنے پراتفاق کیاگیا۔جہاں تک اس نئی افغان جارحیت کا تعلق ہے تواس کے پیچھے موجود محرکات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔افغانستان پرسوویت یونین کی یلغار اوربعدازاں2001ء میں امریکی اتحادیوں کی آ مد کے علاوہ گزشتہ 15/16برس کے دوران مختلف دہشتگرد تنظیموں کی سرحد سے آرپار آنے جانے کی سہولت، سمگلروں ،ہیروئن مافیااوربھارتی خفیہ ایجنسی راکی سرگرمیوں کے باعث یہ علاقہ خصوصی کشش کاباعث بنا ہواہے۔جلال آباد سے چمن تک پاکستان کے ساتھ افغانستان کے پانچ صوبے لگتے ہیں ان میں قندھار ،پکتیکا،پکتیا اورخوست میں افغان طالبان کے علاوہ پاکستان سے فرارہونے والے دہشتگردگروپوں کے ٹھکانے بھی ہیں۔ 2003ء میں اسامہ بن لادن کی القاعدہ اورملاّعمر کی طالبان کے سرکردہ لیڈر،منصوبہ سازحتیٰ کہ کمانڈر پاک افغان بارڈر کراس کرکے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش ہونے لگے۔ان کے قیام وطعام میں مقامی قبائلیوں نے مذہب،مہما ن نوازی کی روایات،امریکہ دشمنی اورجہاد جیسے امورکومدنظررکھا۔مئی 2011ء میں ایبٹ آباد کے ایک کمپلیکس میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے ۔2014ء میں پاک فوج نے آرمی پبلک سکول پشاور پرشرمناک دہشتگردی کے بعد آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کافیصلہ کیا۔حقائق بتاتے ہیں کہ سکول پرحملہ کرنیوالے سرحد پارکرکے افغانستان سے آئے تھے اوران کوآخری دم تک ہدایات بھی افغان علاقے سے ہی دی جاتی رہیں۔پاکستان کے اندرگزشتہ 12/13برسوں کے دوران طالبان کے سات بڑے اورمصروف دہشتگردگروپوں سمیت63کے قریب کمانڈواورگروپ معرض وجود میں آ چکے تھے جن میں ملّافضل اللہ ،سجناگروپ،احسان اللہ احسان گروپ،حقانی نیٹ ورک جیسے لوگ نمایاں تھے ۔ملّااختر منصورجیسے دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی طالبان گروپوں میں قیادت کی کشمکش بھی اہم کرداراداکرتی رہی۔یہ وہ مسلح گروپ ہیں جوجہاد کے نام پراپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ تجارتی سمگلر،منشیات کے سمگلر اورخاص طورپر بھارتی،امریکی ،اسرائیلی اورافغان خفیہ ایجنسیوں کے افراد اپنی سرگرمیوں کے لیے پاک افغان سرحدپرجگہ جگہ موجوددروّں،خفیہ مقامات اورخاص طورپر طورخم تا چمن قانون راستوں کی بجائے چوردروازوں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے ۔چین سے سمگل شدہ کپڑا،مشینری،الیکٹرونکس ،کھلونے اوردیگرکمرشل سامان لانے لے جانے والے گروپوں کے لیے بھی پاک افغان باڑایک بڑی رکاوٹ اورپریشان کن صورتحال بن چکی ہے۔جنرل قمرجاویدباجوہ نے مشکل حالات کے باوجود باڑلگانے کاجراتمندانہ فیصلہ کیا جس پرتیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔گزشتہ ایک برس کے دوران افغانستان کے اندرموجود طالبان جن کے پاکستانی طالبان سے رابطے ہیں ،اب آنے جانے سے قاصر ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ باڑلگانے میں مصروف پاک فوج کے دستوں پراکثراوقات حملے کرکے اس کام کو روکناچاہتے ہیں ۔اب تک 900کلومیٹر کے قریب سرحدپرنہ صرف باڑلگائی جاچکی ہے بلکہ جگہ جگہ مضبوط قلعے اورسرحدی چوکیاں بھی قائم ہوچکی ہیں جوآنے والے وقتوں میں سرحد پارسے آنے والے سمگلنگ کے سامان،منشیات ،دہشتگردوں اورجاسوسوں کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی۔افغان صدراشرف غنی بدقسمتی سے اڑھائی برسوں سے بھارت کے اتحادی کاکردارادا کرتے رہے ہیں مگرطالبان کے ساتھ مذاکرات اورانہیں افغان اقتدار میں شامل کرنے کے امریکی فیصلے کے بعد کابل کوپاکستان کے ساتھ مفاہمت ،مذاکرات او رتعاون کی ضرورت پیش آئی جس کی روشنی میں صدراشرف غنی اورچیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کے ساتھ دوستی کاہاتھ بڑھایا۔گزشتہ ماہ افغانستان کے اندرہونے والی عالمی ڈونر کانفرنس کے دوران افغان صدرنے واضح طورپر پاکستان مذاکرات اوردوستی کی بات کی جس کے جواب میں پاکستانی آرمی چیف جنرل باجوہ ،وزیرخارجہ خواجہ آصف اورچندروزقبل وزیراعظم شاہدخاقان عباسی خودافغانستان کے دورے پرگئے۔ افغان صدر کی طرف سے سی پیک میں شمولیت کی نئی خواہش بھی دونوں ملکوں کوقریب لانے کاباعث بن سکتی ہے، لیکن بھارت نے پاک افغان اڑھائی ارب ڈالر سالانہ کی تجارت کوروکنے کے لیے جہاں ایران کی 
چابہاربندرگاہ کے راستے افغانستان کو ضروریات زندگی بڑی فراوانی سے فراہم کرنی شروع کیں،وہیں گندم ،چاول،دالیں ،کپڑا،دوائیں حتیٰ کہ تعمیراتی سامان آدھی قیمت پرفراہم کرناشروع کردیا۔اس اقدام کامقصد پاکستان اورافغانستان میں ہونے والی تجارت کومکمل طورپر ختم اورافغان عوام کوبھارتی مصنوعات کاعادی بناناتھامگر برسوں سے پاکستانی مصنوعات خریدنے اوراستعمال کرنے والے افغان تاجراورعوام کے لیے یہ رویہ قابل قبول نہیں اگرچہ افغان حکمرانوں نے پاکستانی مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے ان پربھاری درآمدی ڈیوٹیاں عائد کردی ہیں جس سے لاکھوں افغان تاجروں کاکاروبار متاثراورمشکلات کا شکار ہوکررہ گیاہے۔گزشتہ روزخوست سے آنے والی گولیاں افغان فورسز کی کارروائی ہویااپنے مفادات متاثرہونے والے گروپوں کی کارروائی،کسی پاکستانی دہشتگرد گروپ کی کارروائی ہویاسمگلروں،ڈرگ مافیایاانڈین خفیہ ایجنسی کی شرارت ،افغان صدر اشرف غنی کونہ صرف صورتحال کاجائزہ لیناچاہیے بلکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے گشت پرماموریاحفاظتی گشت میں مصروف فوجیوں کی سکیورٹی کی ضمانت دینے کے ساتھ پاکستان کی طرف بڑھائے جانے والے دوستی کے ہاتھ کی لاج رکھنی چاہیے وگرنہ افغان سرحد پرباڑلگانے والی پاک فوج ماضی کی طرح جوابی اقدام اورفرار ہوتے سازشیوں کوڈھیر کرناخوب جانتی ہے ۔امیدہے کابل انتظامیہ اپنی صفوں میں چھپی کالی بھیڑوں کو کھیلنے کاموقع نہیں دے گی۔ 
یوٹیلٹی سٹورز پرپونے دوارب کا رمضان پیکیج 
وفاقی حکومت نے آئندہ شروع ہونیو الے ماہ صیام کے دوران ملک بھر میں کم وسائل والے کروڑوں صارفین کوریلیف دینے کے لیے19قسم کی اشیائے خورونوش پرایک ارب 73کروڑروپے کی سبسڈی دینے کافیصلہ کیاہے اورجن اشیاء کوسبسڈائز کیا جائے گاان میں آٹا،ڈبہ بنددودھ،چینی ،چاول ،گھی ،آئل اورکھجورشامل ہیں۔آٹے پرچارروپے کلو کے حساب سے رعایت دی جائے گی اس طرح 10کلوگرام والاتھیلہ 40جبکہ 20کلوگرام والاتھیلہ 80روپے رعایت میں ملے گا۔آئل اینڈگھی پر10تا15روپے کلوگرام سہولت فراہم کی جائے گی۔چاول ثابت اورچاول ٹوٹہ ،چینی اور800گرام والی شربت کی بوتل پر پانچ تادس روپے سبسڈی بھی رمضان پیکیج میں شامل ہے ۔سب سے زیادہ سہولت کھجور پردی جائے گی جو30روپے کلوتک ہوگی۔یوٹیلٹی سٹورز کے تمام سیل پوائنٹس کے علاوہ فرنچائز پربھی یہی سہولت فراہم کرنے کافیصلہ کیاگیاہے۔یوٹیلٹی سٹورز پرفروخت ہونیو الی 500کے قریب دیگراشیاء میں دالیں ،صابن،گرم مصالحے وغیرہ پہلے ہی 5تا10فیصد ڈسکاؤنٹ پرفراہم کیے جاتے ہیں ۔وفاقی حکومت کی طرح پنجاب حکومت بھی روزہ داروں کوسہولت دینے اورماہ مبارک میں ان کے لیے آسانیاں پیداکرنے کے لیے اڑھائی سے تین ارب روپے مختص کرتی ہے۔میاں شہبازشریف نے گزشتہ کئی برسوں سے رمضان بازار لگانے کاجوسلسلہ شروع کررکھاہے اس میں چینی ،آٹااوردیگراشیائے خورونوش شامل ہوتی ہیں۔پاکستان میں اشیائے خورونوش تیارکرنے والے ہزاروں یونٹ قائم اورکاروبارکررہے ہیں۔یورپ میں کرسمس کاتہوارقریب آتے ہی اشیائے خورونوش ہی نہیں،کپڑے ،جوتے،بیکری،ہوٹل حتیٰ کہ ادویات تک10سے50فیصدتک سستی کردی جاتی ہیں مگرپاکستان میں اس مہینے کوخصوصی آمدنی کاذریعہ بنالیاجاتاہے۔مثال کے طورپر گھی اور آئل ملز تھوک اورپرچون ریٹ پراپنے سٹاکسٹوں اورڈیلروں کوجواشیاء فراہم کرتی ہیں ،اس میں ان کامنافع بھی شامل ہوتاہے۔دالیں ،چاول،صابن،شربت وغیرہ بھی منافع رکھ کرکھلی مارکیٹ میں پیش کئے جاتے ہیں ۔اگرمالکان خداخوفی اورخلق خدا کے ساتھ محبت کرتے ہوئے اپنے منافع کو10سے15فیصد کم کردیں تووفاقی اورصوبائی حکومتوں کواربوں روپے سبسڈی کے نام پر خرچ نہ کرنے پڑیں۔ پرچون فروش بھی گیارہ مہینے اپنے لیکن ایک مہینہ عوام کاجیسے فارمولے پرکاربند ہوجائیں تونہ صرف مہنگائی کاجن قابو میں آسکتاہے بلکہ مغربی ممالک کومسلم ممالک پراعتراض اٹھانے کاموقع بھی نہ ملے ۔دراصل ہم اس قدرمنافع خوراورلالچی ہوچکے ہیں کہ خداکی رضااورآخرت کی پرواہ ہمارے دلوں سے نکل چکی ہے۔رمضان المبارک میں آج کل جگہ جگہ مفت سحری وافطاری کروانے کارواج شروع ہوچکاہے۔ملک بھر میں ہزاریاچندلاکھ افراد اگرایساکرسکتے ہیں توفیکٹریوں ،کارخانوں ،دکانوں کے مالکان ایساکیوں نہیں کرتے۔بدقسمتی سے رمضان بازاروں اوریوٹیلٹی سٹورز پرفروخت کے لیے پیش کی جانے والی آدھی سے زائداشیاء سرقہ کرکے اوپن مارکیٹ میں فروخت کردی جاتی ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جگہ جگہ سحریاں ،افطاریاں کروانے اورگارمنٹس تیاروفروخت کرنے والے اسی رقم سے کھلے بازاروں میں کارخانوں ،فیکٹریوں سے خریدلی گئی اشیاء سستے داموں فروخت کرکے نہ صرف اپنی آخرت سنواریں بلکہ غریب وکم وسائل والی مخلوق خداسے بھی دعائیں لیں ۔اس طرح سبسڈی کے نام پرضائع ہونے والے اربوں روپے بھی بچ سکیں گے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں