زوال آئے تو پورے کمال سے آئے

تحریر:محمدخان دائود
جب اقبال لالہ مشال خان کو دکھی دل اور کانپتے ہاتھوں سے مردان کی سنگلاخ دھرتی میں دفن کر رہا تھا تو وہ تب بھی اسے خراج تحسین پیش کر رہا تھا اور اب جب مشال مٹی میں مل کر مٹی ہو چکا، اس کی قبر پر کوئی سرخ پھول نہیں کھلا جس کے لیے ایاز نے کہا تھا:موت اسان جے کھان پوئے قبر تہ کھلندا سرخ گلاب(بعد از موت قبر پہ میری کھلے گا سرخ گلاب)۔تو ایک سال بعد بھی اقبال لالہ مشال کو سلیوٹ کر رہا ہے ۔وہ مشال جو ولی خان یونیورسٹی کا شاگرد تھا اور ہجوم کے ہاتھوں تشدد میں ہلاک ہوگیا۔مشال کو پیٹا گیا، مارا گیا، اس کے سینے میں گولی اتاری گئی اور پھر پرانے کپڑے کی طرح جلا دیا گیا۔جب یونیورسٹی سے ہسپتال، ہسپتال سے گھر اور گھر سے قبر تک کا سفر تمام کر کے مشال کا جسدِ خاکی قبر میں اتارا گیا اور قبر کو سرخ پھولوں سے ڈھک دیا گیا تو اقبال لالہ ایک بے بس والد کے سلام کے اور کیا کر سکتا تھا۔اس نے اپنی بے بسی اپنے سیلوٹ میں ظاہر کی اور مشال خان کو بتایا ’میں کچھ نہیں کر سکتا‘۔وہ بوڑھا شاعر کر بھی کیا سکتا تھا، سوائے اس کے کہ وہ کوئی کویتا لکھے ، اسے پڑھے اور روئے ؟اقبال لالہ نے مشال کے یوں چلے جانے پر کویتائیں لکھیں اور وہ کویتائیں بہت سا سفر کر کے وہاں بھی پہنچیں جہاں مشال کا درد محسوس کیا گیا اور لوگوں کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔پر اقبال لالہ کویتائیں لکھتا رہ گیا اور مشال مٹی اور یاد بن کر رہ گیا۔مشال دو قبروں کا اضافہ کر گیا ایک قبر مردان کی سنگلاخ دھرتی پر اور ایک قبر ماں کے دل میں!مردان کے قبرستان والی قبر پر پڑے پھول سوکھ جائیں گے ، گیلی مٹی کو دھوپ سخت کر دے گی، جلتی اگر بتیاں بجھ جائیں گی اور قبر پر لگا کتبہ 
اور اس کے حروف مٹ بھی جائیں گے ۔پر ماں کے سینے میں موجود قبر کا کیا ہوگا؟ اس قبر کی مٹی کیسے سوکھے گی؟وہ قبر تو اس وقت تک گیلی رہے گی جب تک وہ ماں زندہ ہے ۔ماں روتی رہے گی اور من میں موجود قبر گیلی رہے گی۔من کی قبر پر کوئی بھی اگر بتی نہیں جلا پائے گا پھر بھی وہ قبر معطر رہے گی۔ کیوں؟من پر موجود قبر پر کوئی سرخ پھول نہیں رکھے گا پر وہ ماں دل کی آنکھوں سے ہر وقت اس قبر پر نگاہ رکھے گی ایسے جیسے کسی صوفی کی نگاہ اپنے یار پر ہوتی ہے ۔ 
ماں آنکھیں کھولے گی تو اشک بہیں گے اور اگر آنکھیں بند کرے گی تو وہاں جا پہنچے گی جہاں مشال اس دنیا کے لیے مثلِ سرمد بنا تھایار تھامیں تھااور مثلِ تماشہ تھامشال خان کو باچا خان کی دھرتی کے لوگوں نے مثلِ تماشہ کیا اور ہوتے دیکھا۔وہ مکتب جو ماں کا روپ ہوتی ہے جو جینا سکھاتی ہے ، وہی مکتب مشال کے لیے صورِ اسرافیل بن گئی۔وہ مکتب مشال کے لیے دامن یار ، مثلِ ماں، جائے پناہ یا اعزاز نہ بن سکی بلکہ عذاب بن گئی۔ہوتا تو یہ کہ ولی خان یونیورسٹی مشال خان کو ڈگری جاری کرتی۔مشال خان اپنے سفید ہاتھوں میں ڈگری لیتا اور اپنے گلابی سینے پر میڈل سجاتا اور گھر جا کر اپنی بیبو کو دکھاتا۔پر ولی خان یونیورسٹی میں ایسا نہیں ہو۔اس کے سفید ہاتھوں پر ڈنڈوں کی بارش کی گئی اور اس کے گلابی سینے پر ٹھڈے مارے گئے ۔جب اس کی جلی کٹی لاش ماں کے سامنے لائی گئی تو ماں نے بعد میں میڈیا کو بتایا ’مشال کی سب ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘۔ہاں مشال خان کی سب ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔مشال کے زخمی ہاتھ اقبال لالہ نے بھی اپنے ہاتھ میں اٹھا کر دیکھے تھے ۔جب مشال پرتشدد کے بارے میں کوئی میڈیا پرسن بوڑھے شاعر سے سوال کرتا ہے تو وہ کوئی جواب نہیں دیتا، بس اس کی بوڑھی آنکھوں سے گونگے اور گرم آنسو بہنے لگتے ہیں۔یہ گونگے آنسو ہی جواب ہوتے ہیں کہ مشال پر کیسا بھیانک تشدد ہوا تھا؟پر سرمد جیسے گلابی مشال خان کا قصور کیا تھا ؟مشال کا قصور یہ تھا کہ ’بات کرو کہ پہچانے جاؤ‘۔وہ بات کرتا تھا ہر اس موضوع پر جس پر وہ سمجھتا تھا کہ بات کی جائے یا بات ہونی چاہیے ۔ 
اس پر مشال بولتا تھا اور یہی بولنا مشال کا جرم بن گیا اور اسے مجرموں کے ہجوم کے حوالے کردیا گیا۔مشال کی بھیانک موت کو ایک سال بیت گیا لیکن بہت سے قاتل آزاد ہیں۔قاتل ایک دو نہیں درجنوں ہیں لیکن وہ پکڑے جاتے ہیں اور پھر گواہوں کی عدم دستیابی، اور ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر رہا کر دیے جاتے ہیں۔جب وہ جیل سے آتے ہیں تو ان کا استقبال ایسے کیا جاتا ہے کہ وہ غازی ہوں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ ہر مشال کا یہی حال کریں گے ۔ان کا استقبال وہ جماعتیں کر تی ہیں جو ہمیں مذہبی اخلاق کا سبق دیتی ہیں۔وہ غازی اور جماعتیں یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مشال زندہ نہیں رہا پر اس کا باپ، ماں اور بہنیں تو زندہ ہیں۔پر وہ شدت پسند جماعتیں کیا جانیں کہ ماں کا دل کیسا ہوتا ہے ۔ 
وہ تو بس یہ جانتی ہیں کہ ان کے غازی گھروں کو لوٹے ہیں۔ایسے میں اقبال لالہ کیا کرے جو انصاف کے لیے اپنی سی کوشش تو کر رہا ہے کہ ان سازشیوں کو جنہوں نے مشال کو مجرموں کے ہجوم کے حوالے کیا، انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ پر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ 
اس ملک کے قانون میں بہت سے نقص ہیں جس کا فائدہ ہمیشہ مجرم کو ہوتا ہے ۔انصاف نہیں ہو رہا پر اقبال لالہ مشال کے درد کو نہیں بھولا بلکہ وہ اس درد کو سوا کرنے کے لیے مشال پر کویتائیں لکھ رہا ہے اور مردان سے بہت دور سندھ میں لطیف، اقبال لالہ کی بے بسی دیکھ کر خدا سے کہہ رہا ہے :جانب تو جیڈو، آھین شان شعور سینمون تے کر منھنجا پرین، توھہ تسی تیڈواے کامل کم کیڈو، جئین نوایم نگاھ سین(اے خدا تو جتنا بڑا ہے ،جتنی شان اور شعور رکھتا ہے ۔ مجھ پر بھی اتنی ہی نظر کرم کر۔ 
میں جس مشکل میں گرفتار ہوں اس کی تیری نظر میں بھلا کیا حیثیت ہے ۔ میرے مالک مجھ پر نگاہ کرم فرما)۔پر آخر مشال کا قصور کیا تھا؟ایسا لگتا ہے پورے زمانے کو زوال آگیا ہے اور جب سب کی زبانیں گُنگ ہوں تو وہ بوڑھا شاعر اپنے بہادر بیٹے مشال کو سیلوٹ نہیں کرے تو کیا کرے ؟جب ہر طرف زوال ہی زوال ہے تو آئیے دعا کریں کہ زوال آئے تو پورے کمال سے آئے ۔آمین!

اپنا تبصرہ بھیجیں