شام کے خلاف امریکی کہانیاں

تحریر:محمدفیصلشام نے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں یا نہیں البتہ امریکا اس کے حق میں جو ثبوت لایا ہے انہیں دیکھ کر اوسط سے کمتر درجے کی ذہانت کا آدمی بھی اپنی ہنسی ضبط نہیں کر سکتا۔وائٹ ہاؤس نے ایک روز قبل رپورٹ جاری کی ہے جس میں شامی فوج کی جانب سے دارالحکومت دمشق کے قریبی علاقے دوما میں کلورین اور سرن گیس سے حملے کے ثبوت دیے گئے ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اس رپورٹ کے مندرجات من و عن پیش کیے جا رہے ہیں:شام میں کیمیائی حملے کے امریکی ثبوت امریکا کا پراعتماد اندازہ ہے کہ شامی حکومت نے 7 اپریل 2018ء کو دمشق کے مشرقی مضافاتی علاقے دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جس کے نتیجے میں درجنوں مردوخواتین اور بچے ہلاک اور مزید سیکڑوں بری طرح زخمی ہو گئے ۔یہ نتیجہ مختلف میڈیا ذرائع سے اس حملے کے بارے میں سامنے آنے والے بیانات کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے جن میں حملے کے بعد متاثرین میں سامنے آنے والی علامات، حملے کی جگہ پر دو بیرل بموں کی ویڈیو اور تصاویر نیز حملے سے پہلے شامی فوجی افسروں میں روابط کی نشاندہی کرتی قابل اعتبار معلومات شامل ہیں۔ان نمایاں معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے دوما پر بمباری میں کلورین گیس استعمال کی جبکہ بعض اضافی معلومات سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ حکومت نے اس حملے میں اعصابی مادہ سرن بھی استعمال کیا۔ہماری معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اطلاعات سے مطابقت رکھتی ہیں۔یہ کیمیائی ہتھیار حزب اختلاف کے زیرقبضہ اس گنجان علاقے میں کئی ہفتوں سے جاری حملے کے دوران استعمال کیے گئے ۔اس حملے میں ہزاروں معصوم شہری ہلاک و زخمی ہوئے ۔سات اپریل کو سوشل میڈیا کے صارفین، غیرسرکاری تنظیموں اور دوسرے آزاد ذرائع سے دوما میں کیمیائی اسلحے سے بمباری کی اطلاع دی گئی۔ویڈیوز اور تصاویر میں اس علاقے میں کم از کم دو کلورین بیرل بموں کی باقیات دکھائی دیتی ہیں جن کے خدوخال ماضی کے حملوں میں استعمال کردہ کلورین بیرل بموں سے ملتے جلتے ہیں۔مزید براں دوما سے سامنے آنے والے والی واضح اور قابل اعتبار تصاویر اور ویڈیو میں متاثرین کا دم گھٹتے صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے جن کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے جبکہ ان کے جسموں پر زخموں کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا۔اسی روز دوما پر بہت سے سرکاری ہیلی کاپٹر پرواز کرتے دیکھے گئے اور عینی شاہدین کی اطلاع کے مطابق خاص طور پر ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر بھی نظر آیا جو قریبی علاقے دومائر میں ہوائی پٹی سے اڑا اور حملے کے دوران دوما کی فضا میں چکر لگاتا رہا۔بہت سے عینی شاہدین تصدیق کرتے ہیں کہ ان ہیلی کاپٹروں سے بیرل بم گرائے گئے ۔دوما میں گرائے گئے بیرل بموں کی تصاویر اسد حکومت کی جانب سے قبل ازیں استعمال کیے گئے ایسے بموں سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ بیرل بم ممکنہ طور پر کیمیائی حملوں میں استعمال کیے گئے ۔قابل اعتماد اطلاعات سے بھی یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ شامی فوجی حکام نے سات اپریل کو دوما پر بظاہر کلورین گیس کے حملے کی بابت ایک دوسرے سے رابطے کیے تھے ۔بیرل بموں سے ان حملوں کے بعد دوما میں موجود ڈاکٹروں اور امدادی تنظیموں نے کلورین گیس کی تیز بو کی اطلاع دی اور بتایا کہ متاثرین میں ظاہر ہونے والی علامات سرن گیس کے اثرات سے ملتی جلتی ہیں۔میڈیا، غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور دیگر آزاد ذرائع کی اطلاعات میں بیان کردہ علامات میں آنکھوں کی پتلیوں کا سکڑنا، کپکپاہٹ اور مرکزی اعصابی نظام میں خلل شامل ہیں۔یہ علامات بشمول درجنوں اموات اور سیکڑوں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکومت نے 7 اپریل کے حملے میں سرن گیس بھی استعمال کی تھی۔اسد اس انداز میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچے ۔زیر زمین پناہ گاہوں میں چھپے خاندان اس کا خاص نشانہ ہیں۔اس کی مثال ہم نے دوما میں دیکھی تھی۔یہ آبادی پہلے ہی ہتھیار ڈالنے اور وہاں سے نکلنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے 
۔گزشتہ برس کے اواخر میں کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (اوپی سی ڈبلیو) اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تحقیقاتی طریق کار (جے آئی ایم) نے یہ تعین کیا تھا کہ اپریل 2017ء میں خان شیخون پر سرن گیس سے حملے کا ذمہ دار شام ہی ہے ۔یہ تعین خان شیخون میں حملے کے بعد وہاں سے اکھٹے کیے گئے نمونوں کی شامی حکومت کے پاس موجود کیمیائی ذخیرے سے مطابقت کے نتیجے میں کیا گیا۔اس سے یہ واضح ہو گیا کہ شام نے یہ ذخیرے تباہ کرنے اور اپنے کیمیائی پروگرام کو ختم کرنے کے وعدے کے باوجود برقرار رکھے تھے ۔دوما میں حالیہ حملہ شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے انداز کا تسلسل ہے ۔خان شیخون میں شامی حکومت کے کیمیائی حملے سے چند ہفتوں بعد ہی اس نے 29 اپریل سے 6 مئی 2017ء کے درمیان اپوزیشن فورسز پر تین مرتبہ بیرل بم گرائے جب حکومتی افواج نے خان شیخون کے قریب ال لطامینہ میں حملہ کیا تھا جہاں اس نے اپریل 2017ء میں سرن گیس استعمال کی تھی۔امریکا کے پاس اس وقت شامی حکومت کا ہدف بننے والے علاقوں میں سرکاری ہیلی کاپٹروں کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں۔اس سلسلے میں ایک نہ پھٹنے والے کلورین بیرل بم کی تصاویر بھی ہیں جو اس اسلحے سے مطابقت رکھتی ہیں جسے شامی حکومت نے گزشتہ کیمیائی حملوں میں استعمال کیا تھا۔علاوہ ازیں کیمیائی مادے پھیلنے کی ویڈیو بھی موجود ہے ۔ایسے تازہ ترین حملے میں استعمال ہونے والے بیرل بموں کی تصاویر شامی حکومت کے بنائے کلورین بیرل بموں سے ملتی جلتی ہیں جو اس پوری جنگ میں استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔جہاں لوگوں نے نشاندہی کی ہے اسی علاقے میں کیمیائی حملوں کے وقت حکومتی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے ۔لوگوں کی جانب سے ان حملوں کی بنائی گئی کم از کم ایک ویڈیو میں اس علاقے میں ہیلی کاپٹر پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان واقعات کے متاثرین نے خاص طور پر کلورین گیس کے استعمال اور حملے کے بعد پھیلنے والی اس کی مخصوص بو کا تذکرہ کیا ہے ۔ 
اس کے علاوہ متاثرین کی جسمانی علامات کلورین کے اثرات سے مطابقت رکھتی ہیں جن میں سانس کی تکلیف بھی شامل ہے ۔اپوزیشن کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں ایسا بم پھٹتے دکھایا گیا ہے جس سے پیلے اور سبز شعلے نکل رہے ہیں جو کہ کلورین سے مشابہت رکھتے ہیں۔ایک مغربی این جی او نے ایسے مریضوں کا علاج کرایا جن کے جسم پر متعدد ایسے اثرات تھے جو کیمیائی حملوں کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔ان میں آنکھوں کی سکڑی ہوئی پتلیاں، کھانسی، قے اور سانس لینے میں دقت شامل ہے ۔لوگوں کی جانب سے جاری کردہ بعض ویڈیوز میں اسے’اعصابی گیس‘ یا ’اورنج فاسفیٹ‘کہا گیا اور یہ بات چڑھی ہوئی پتلیوں کی بابت متاثرین کے بیانات سے مطابقت رکھتی ہے ۔سوشل میڈیا اور صحافیوں کی جانب سے جاری کردہ متاثرین کی تعداد مختلف تھی جن میں 19 ہلاکتیں اور 37 زخمی شامل تھے ۔بیان کردہ علامات روایتی ہتھیاروں کا نتیجہ نہیں ہو سکتیں کیونکہ متاثرین کے جسم پر ایسے زخم دکھائی نہیں دیتے جو روایتی ہتھیاروں کے نتیجے میں آتے ہیں۔مثال کے طور پر ہمیں متاثرین کے بری طرح جلنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ یہ جلن سفید فاسفورس سے حملے کے نتیجے میں ہوتی ہے ۔سوشل میڈیا نے اطلاع دی کہ حکومتی فورسز نے ہینڈ گرینیڈوں سے حملہ کیا جن میں زہریلی گیس بھری تھی اور ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حملے میں سرن گیس استعمال ہوئی۔اپریل 2017ء کے اواخر میں فرانس نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ خان شیخون میں جس سرن گیس کی نشاندہی ہوئی تھی وہ اپریل 2013ء میں شامی حکومت کی جانب سے استعمال ہونے والے سرن بھرے گرینیڈز سے ملتی جلتی ہے ۔22 جنوری 2018 ء کو شامی حکومت نے کلورین گیس سے بھرے کم از کم دو راکٹ دوما پر برسائے جس سے چھوٹے پیمانے پربنائے گئے متعدد اقسام کے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے پر اس کی آمادگی و اہلیت کو ظاہر ہوتی ہے ۔سوشل میڈیا اور صحافیوں کی جانب سے مہیا کی جانے والی بہت سی معلومات نہ صرف اس واقعے کی تحریری تفصیل پر مبنی ہیں بلکہ ان میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں جس سے ہمارا یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ ناصرف کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے بلکہ انہیں شامی حکومت نے ہی استعمال کیا۔سوشل میڈیا کے ذریعے یہ سامنے آیا کہ اس حملے میں دسیوں لوگ نشانہ بنے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں میں دم گھٹنے کی علامات دیکھی گئیں جو کہ کلورین گیس کے اثرات سے مطابقت رکھتی ہیں۔ حملے کے بعد طبی امداد لیتے متعدد بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا کے ایسے اکاؤنٹس پر پوسٹ کی گئیں۔ 
اس حملے میں استعمال ہونے والے بموں کے ٹکڑوں کی تصاویر کلورین بھرے انہی راکٹوں سے ملتی جلتی ہیں جنہیں شامی حکومت نے 2017ء کے اوائل میں دمشق میں استعمال کیا تھا۔بائیس جنوری کے حملے کی بابت بہت سے لوگوں کے بیانات میں یہ کہا گیا کہ متاثرین نے کلورین کی بو محسوس کی جو کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی علامت ہے جس کا مشاہدہ شامی حکومت کی جانب سے کلورین گیس کے گزشتہ حملوں میں بھی کیا جا چکا ہے ۔ تو یہ ہے وہ معرکتہ آلارا ء ’رپورٹ‘جو سوشل میڈیا کی جانب سے دیے گئے ’ثبوتوں‘کی مدد سے تیار کی گئی ہے اور جس کی بنیاد پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شام پر بمباری کر دی ہے ۔ ا 
س رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی ثبوتوں کی بنیاد سوشل میڈیا پر آنے والی چند تصاویر اور وڈیوز، باغیوں کے علاقے میں مقامی لوگوں کے بیانات اور خودساختہ دعوؤں اور چند اندازوں پر ہے ۔یہ تصاویر، ویڈیوز اور بیانات غیرمصدقہ ہیں جنہیں یکطرفہ طور پر کیمیائی حملے کے ‘ثبوت’ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔ دوما میں کیمیائی حملہ ہوا یا نہیں تاہم امریکی ثبوتوں کو دیکھ کر روس کا یہ دعویٰ درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ ‘حملہ’ باقاعدہ طور سے ‘سٹیج’ کیا گیا تھا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں