مارک زکربرگ کا وائرل پیغام۔ فیس بکی مفتے کا خاتمہ

تحریر:عدنان خان کاکڑاگر آپ دنیا کے ان اہم ترین لوگوں، مثلاً اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، امریکہ، ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف کے صدر، ایلومیناٹی اور فری میسن کے گورننگ بورڈ کے رکن اور نادرا کے شناختی کارڈ ہولڈرز میں سے ایک ہیں تو آپ کو مارک ذکر برگ کا ایک میسیج برائے فوری مدد ملا ہو گا۔ یہ میسیج اس نے اپنے اور آپ کے کسی مشترکہ اور قابل اعتماد فیس بک فرینڈ کے توسط سے بھیجا ہو گا۔ 
اس میسیج میں مارک ذکر برگ نے اپنے اسی بے تکلفانہ انداز میں آپ سے ایک نہایت اہم بات کی ہو گی جو وہ آپ سے بات چیت میں عموماً روا رکھتا ہے ۔ مارک نے آپ کو کہا ہو گا 
ہائے میں مارک ذکر برگ ہوں، فیس بک کا ڈائریکٹر۔ لگتا ہے کہ وہ تمام انتباہ حقیقی تھے ، اور فیس بک استعمال کرنے پر اب پیسہ خرچ ہو گا۔ فیس بک کے سرورز پر اتنا زیادہ لوڈ پڑ گیا ہے کہ وہ نیم مردہ ہو گئے ہیں، اس لئے ہم آپ سے یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے مدد مانگ رہے ہیں۔ اگر آپ یہ مالا اپنی لسٹ میں موجود 18 کو بھیج دیں گے تو آپ کا آئیکون نیلا پڑ جائے گا اور اس کے بعد آپ کے لئے فیس بک مفت ہو گی۔ اگر آپ میری بات پر یقین نہیں کرتے تو کل شام چھے بجے فیس بک بند ہو جائے گی اور اسے کھولنے کے لئے آپ کو پیسے دینے ہوں گے ، قانون یہی ہے ۔ اگلے چوبیس گھنٹے میں فیس بک اپ ڈیٹ ہونے لگے گی۔ اگر آپ یہ اپنے تمام کانٹیکٹس کو نہیں بھیجتے تو آپ کا اپ ڈیٹ کینسل ہو جائے گا اور آپ اپنے فیس بک میسیجز سے چیٹ نہیں کر سکیں گے ۔ 
آپ کو پیسہ دینا ہو گا اگر آپ زیادہ استعمال کرنے والے یوزر نہیں ہیں یا آپ کے کم از کم دس فرینڈ ہیں۔ یہ میسیج ایس ایم ایس کر دیں اور لوگو سرخ ہو جائے گا جس سے یہ ظاہر ہو گا کہ آپ ایک یوزر ہیں۔ 
بھیا پہلی بات یہ کہ آپ کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اس میسیج میں مارک ذکر برگ نے انگریزی کی اس سے بھی بری طرح ٹانگ توڑی ہے جیسی ہم دیسی لوگ توڑتے ہیں۔ اسے دیکھ کر یہ شبہ تک نہیں ہوتا کہ مارک ذکربرگ امریکہ کے پرائمری سکول میں بھی پڑھا ہو، چہ جائیکہ دنیا کی ٹاپ کی یونیورسٹی ہارورڈ میں۔ دوسری بات یہ کہ دنیا کا کون سا قانون ہے جو مفتے پر پابندی لگاتا ہے ؟ اور تیسری بات یہ ہے ہمارے اپنے فُقرے دوستوں کو میسج بھیجنے سے فیس بک کو کون سے اربوں ڈالر مل جانے ہیں جو اس میسیج کی تاثیر اس کے نیم مردہ سرور جی پر اٹھیں گے ۔ 
بلکہ اتنے زیادہ میسیج ہوں گے تو وہ بالکل ہی فوت ہو جائیں گے ۔ 
چوتھی بات یہ ہے کہ 2017 ء میں فیس بک کی آمدنی 40 ارب ڈالر، یعنی 45 کھرب روپے تھی۔ اس میں سے 15 ارب روپے ان کا خالص منافع تھا۔ 
وہ ان میں سے چند ملین ڈالر خرچ کر کے بھی چند نئے سرور خرید سکتے ہیں۔ 
وہ اپنے سرور یا کمپنی چلانے کے لئے دنیا کی غریب ترین قوموں میں سے ایک کے غریب ترین شہریوں کی محتاج نہیں ہے ۔ 
اور پانچویں بات یہ ہے کہ فیس بک نے اپنا کوئی میسیج دینا بھی ہو گا، تو وہ ڈائریکٹ ہر فیس بک یوزر کے ان باکس میں ڈال دے گی۔ 
یا اس کی نیوز فیڈ میں بار بار دکھائے گی۔ اور اپنے آفیشل پیجز پر ڈالے گی۔ وہ آپ کو منتیں کر کے یا دھمکیاں دے کر اپنا میسیج بھیجنے پر مجبور نہیں کریں گے ۔ابن انشا نے ٹھیک ہی فرمایا تھا۔ کامن سینس اتنی بھی کامن نہیں ہوتی۔ 
اور اس پر نیوٹن نے گرہ لگائی تھی کہ صرف دو چیزیں لامحدود ہیں، ایک کائنات اور دوسری انسان کی بدھو بننے کی صلاحیت۔ اور میں پہلی کے بارے میں پریقین نہیں ہوں۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں