منظور پشتین ، غداری اور ماں جیسی ریاست

تحریر:ظفراللہ خانمعلوم نہیں نظریاتی ریاست کے کیا خدوخال ہوتے ہیں اور ایسی ریاست کن اصولوں پر چلتی ہے ؟اور یہ بھی کہ براعظم یوٹوپیا کے بعد ایسی ریاست کہاں پائی جاتی ہے ؟ تاہم یہ معلوم ہے کہ ریاست میں جہاں بھی جبر کا راج ہوتا ہے ، شہری کو باربار حب الوطنی نامی ایک ایسے ترازو میں تلنا پڑتا ہے جس کے باٹ انسانی گوشت پوست سے ہمیشہ بھاری رہتے ہیں۔ کیلیفورنیا کی گلیوں میں مارے جانے والے ریڈ انڈینر ہوں، ماسکو کی گلیوں میں Great Terror کا شکار ہونے والے ہوں یا نازی Belzec کیمپ کے گیس چیمبروں میں جلنے والے ہزاروں انسان ، یہ قتل گاہیں ریاست سے وفاداری کے نام پر ہی سجائی گئیں تھیں۔ جس نے ریاستی جبر ماننے سے انکار کیا ، وہ غدار ٹہرے ۔ جوہانسبرگ سازش کیس ہو یا حیدر آباد سازش کیس، غداری کی منڈیر پر کھڑے کئے گئے نیلسن منڈیلا، لونیل فورمین، ہیلن جوزف ہوں یا ولی خان، غوث بخش بزنجو، گل خان نصیر، حبیب جالب ہوں، غداری کا فیتہ ایک ہی ملی نغمہ بجاتا رہا ہے ۔ تم ریاست کے غدار ہو۔تم ملک دشمن ہو۔ حب الوطنی کیا ہے اور اس کے خدوخال کون طے کر تا ہے یہ نغمہ گیت مالا میں موجود نہیں۔ نغمہ پھر سے شروع ہو چکا ہے ۔ سازندے ، گلو کار سے پہلے ہی شدھ، کومل، گندھار بلکہ سرکار سرکار بجا رہے ہیں۔ 
منظور پشتین اور پی ٹی ایم کی تاریخ چند پنوں پر لکھی ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے بیس نوجوانوں کا قافلہ چلا اور اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بیٹھ گیا۔لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ مطالبات کیا تھے ؟ نقیب شہید کے قاتلوں کی گرفتاری ، علاقے میں بچھائے گئے بارودی سرنگوں کا ہٹانا، عام لوگوں کو تنگ نہ کرنا، کرفیو نہ لگانا، وطن کارڈ کا منسوخ ہونا، اور لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنا شامل تھا۔قصہ مختصر مذاکرات ہو گئے ۔ گرفتار ہو جائیں گے ، حل ہو جائیں گے ، اور اس طرح کے چار پانچ اور جائیں گے پر مذاکرات کا اختتام ہوا۔منصب داروں اور ٹیلی افلاطونوں کا خیال تھا کہ منظور پشتین اسلام آباد دھرنے میں حادثاتی طور پر نوجوانوں کا رہنما بنا ہے جو دھرنے میں یونیورسٹیوں کے طلباء کے peer pressure میں آکر بڑے بڑے مطالبے کر رہا ہے ۔ چند دن بعد گرد بیٹھے گی تو منظور بھی غائب ہو جائے گا۔ یہی ان منصب داروں کی اصل غلطی تھی اور یہیں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات میں کتنے سنجیدہ تھے ۔ ژوب، کوئٹہ اور خصوصاََ پشاور کے جلسوں میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر منصب دار پریشان ہو گئے ۔ 
پہلا کام تو یہ کیا گیا کہ اس اجتماع کو میڈیاپر مکمل بلیک آؤٹ کیا گیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ انٹرنیشنل میڈیا نے بھرپور کوریج دی جو منصب داروں کے لئے زیادہ پریشانی کا معاملہ بنا۔ دوسرا کام قافیہ شناسوں کے حوالے کیا گیا۔ نئی سازشی تھیوریز نے جنم لینا شروع کیا ہے ، جس میں سر فہرست وہی ’ وہ الگ باندھ کے رکھا جو مال اچھا ہے ‘سے آغاز کیا۔ یعنی حب الوطنی اور غداری۔ سازشی تھیوریز کے سرخیل ایسے ایسے قلابے ملا رہے ہیں جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے ۔ را، این ڈی ایس ، پختونستان، ڈیورنڈ لائن، لر او بر یو افغان، سی آئی اے اور جانے کس کس ادارے کا منظورپشتین ایجنٹ قرار دیا گیا ہے ۔ یہ کام اس ملک میں پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے تفصیل کا مگر یارا نہیں۔حیدر آباد سازش کیس کی تفصیل دیکھ لیجیے ۔ 
بنیادی سوال یہ ہے کہ جو مطالبات منظور اور اس کے ساتھیوں نے وزیر اعظم پاکستان اور ملک کے عسکری 
اداروں کے ذمہ داروں کے سامنے اسلام آباد دھرنے میں رکھے تھے ، کیا پشاور دھرنے میں اس میں کوئی تبدیلی آئی ہے ؟ اس کا جواب نفی میں ہے ۔اگر ان مطالبات کی بنیاد پر منظور فرور ی میں غدار نہیں تھا تو انہی مطالبات کی بنیاد پر اپریل کے آغاز پر غدار کیسے ہوا؟اس کا جواب بہت سادہ ہے ۔ کوئٹہ جلسے میں شرکاء نے ایک غلط نعرہ بلند کیا وہی غلط نعرہ منظور نے پشاور جلسے میں خود لگایا۔دو سری جانب کابل، کولن، پیرس ، لندن واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے پی ٹی ایم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے مظاہرے اور اشرف غنی ، زلمے خلیل زادکے حمایتی ٹویٹس اور انڈین میڈیا کی جانب سے پشاور دھرنے کی کوریج اور یہ اینگلنگ کہ پاکستانی فوج کے خلاف لاکھوں لوگ سڑکوں پر امڈ آئے ہیں، نے معاملات کو بگاڑ دیا ۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ جب تندور گرم ہو تو ہر راہ چلتا اپنی روٹی لگانے پہنچ جاتا ہے ۔ زلمے خلیل زاد کی ٹویٹ یا ہندوستانی میڈیا کو منظور سے کوئی دلچسپی نہیں، انہیں تو پاکستان کو بدنام کرنے کا موقع چاہیے تھا۔اصولاََتو پاکستانی میڈیا، جس نے بلو ایریا اور فیض آباد چوک سے براہ راست گالیاں نشر کیں، جو عمران خان کے بیڈ روم میں چوکڑی مار کر بیٹھا رہتا ہے ، اگر ان دھرنوں اور ان شکوں کو بلیک آؤٹ نہ کرتا تو شاید باقی لوگوں کی دال نہ گل پاتی مگر ہم بحیثیت قوم یقین رکھتے ہیں کہ ’شمشیر و سناں اول‘۔ 
یہاں نہ صرف چند سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں بلکہ کچھ باتوں کی تفہیم بہت ضروری ہے ۔پہلی بات تو یہ سمجھنے والی ہے کہ پی ٹی ایم کوئی سیاسی تنظیم نہیں ہے جس کا باقاعدہ کوئی سٹرکچر موجود ہو۔ 
یہ چند نوجوانوں کا قافلہ ہے جس کے چند سیدھے مگر گہرے مطالبات ہیں۔ان میں ایسے لوگ شامل ہیں جن کے خاندان کے درجن سے زائد افراد اس جنگ میں مارے گئے ، جن کے عزیز و اقارب غائب ہیں،جن کے بچے اور خواتین بارودی سرنگوں میں اپاہج ہو گئے ، جن کے گھر مسمار ہو گئے ، جن کے کاروبار تباہ ہو گئے ، علاقہ برباد ہو گیا اور مزید یہ کہ وہ چیک پوسٹوں پر ذلت آمیز سلوک کے بار بار شکار ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دس سال میں ان کے پاس زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے لے کر عزت نفس تک سب کچھ لٹ چکا ہے ۔ ایک غیر سیاسی تنظیم سے جس کا کوئی بھی سٹرکچر موجود نہ ہو، کوئی بھی دفتر موجود نہ ہو ، جن کی کوئی سیاسی تربیت نہ ہو، اور جن کا عزت نفس مجروح ہو چکا ہو، جنہوں نے اپنے گھروں میں اپاہج دیکھے ہوں، جنازے دیکھے ہوں، ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ جذباتی نعرے نہیں لگائیں گے بلکہ ایک سیاسی جماعت کی طرح آفیشل پریس ریلیز جاری کیا کریں گے ، یہ کوئی دانشمندانہ توقع نہیں ہے ۔ 
منظور پشتین کے مطالبات کو دیکھا جائے ۔ اگر وہ آئین سے متصادم ہیں تو اعتراض جائز ہے مگر منظورپشتین بارہا اپنے اس موقف کا اعادہ کر چکا ہے کہ وہ پاکستانی آئین کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اپنے مطالبات کا حل چاہتا ہے ۔ توجہ طلب بات یہ بھی ہے کہ منظور پشتین کو اب کثیر تعداد میں پشتون دانشوروں کی بھی اخلاقی حمایت حاصل ہے ۔ ان میں سے شاذ ہی کوئی ایسا شخص ہے جو کسی نئی سرحد بندی کی حمایت کرتا ہو یا آئین پاکستان سے باہر کوئی غیر آئینی اور غیر سیاسی مطالبے کی حمایت کرتا ہو۔ اس صورت میں اہل طاقت سے سوال ہے کہ کیا اس معاملے کا حل یہی ہے کہ الزامات اور جوابی الزامات کا دھندا جاری رکھا جائے یا پھر ان لٹے پٹے اور غم زدہ لوگوں کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے مذاکرات کی ٹیبل پر حل کر نا چاہیے ؟ بجائے یہ کہ ان کے اصل مسائل کے حل کی جانب توجہ دیں ہم نے ’ توڑ نکال اس کا اوئے ڈپٹی والے‘ ڈائیلاگ کو بطور پالیسی اپنا لیا ہے ۔یہ رویہ درست نہیں۔ یہ دیرپا نہیں۔ اس سے مزید نفرت پھیلے گی۔
بہت سے شکوے منظور پشتین سے بھی ہیں۔ تھوڑی دیر کے لئے تصور کیجیے کہ جب کسی شہید فوجی جوان کی ماں یا اس کی بیوہ نے یہ نعرہ سنا ہو گا کہ ‘ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے ’ تو اس کے دل پر کیا گزری ہو گی؟اس کا بیٹا تو وطن کی خاطر دہشت گردوں کے خلاف لڑتا ہوا شہید ہوا تھا۔آپ کا دکھ بھی جائز ہے کہ آپ کے بھائی، آپ کے دوست، آپ کے دلدار ساتھی شہید ہوئے ۔ ان ماں، بہنوں، بیٹوں اور بیٹیوں کا دکھ بھی دیکھ لیجیے ۔ان کے بیٹے ، ان کے بھائی، ان کے والد شہید ہوئے ہیں۔ کیا ان کو دکھ نہیں ہوتا؟ کیاا ن کے سینے میں دل نہیں دھڑکتا؟ کیا ان کو تکلیف نہیں ہوتی؟ کیا وہ اپنے قاتلوں کے ساتھ شامل تھے ؟ 
ابھی کل ہی آپ نے کہا کہ اس جنگ میں فوج کے چھ یا آٹھ ہزار جوان شہید ہوئے ہیں 
۔ آپ کی ہی بتائی گئی تعداد مان لیتے ہیں۔یہ چھ یا آٹھ ہزار جوان کون تھے ؟ کیا یہ ہمارے ہی بھائی نہیں تھے ؟ کیا ان کو ہماری ماں نے جنم نہیں دیا تھا؟ کیا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہیں؟ کیا انہوں نے وطن کی خاطر قربانی نہیں دی؟ 
کیا ان کی مائیں نہیں ہیں؟ جب آپ جلسے میں کہتے ہیں کہ’ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے ‘تو تصور کریں ان ماؤں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی جن کے شہید بیٹے گھر لائے گئے ؟ کیاان کو ایسے ہی کرب سے نہیں گزرنا پڑتا ہو گا جس کرب سے آپ گزرتے ہیں؟
آپ کھل کر اپنے جلسوں میں عسکری اداروں پر تنقید کرتے ہیں۔ کیجیے ، شوق سے کیجیے ۔ آپ اس ملک کے ایک آزاد شہری ہیں، اگرآپ سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی آپ کے ساتھ جبر کا رویہ رکھتا ہے تو آپ کا حق ہے تنقید کرنا۔ آپ کا حق ہے سوال اٹھانا،مگر ایک سوال خود سے بھی پوچھ لیا کریں۔آپ کے علاقے کے جن گھروں سے جنازے نکلے ہیں، جو لوگ اپاہج ہوئے ، جو غائب ہیں،جب آپ ان کے لئے آواز اٹھاتے ہیں اور بدلے میں آپ کو این ڈی ایس اور را کا ایجنٹ کہا جاتا ہے ، جب آپ کو غدار کہا جاتا ہے تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے ؟ یقیناًآپ کو شدید کرب ہوتا ہو گا اور آپ دکھ میں مبتلا ہوتے ہوں گے ۔ کیا ایسا ہی دکھ، ایسا ہی کرب ان جوانوں کو نہیں ہوتا جن کے دلدار ساتھی مورچے میں دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے ؟ کیا آپ کا اور ان کا دکھ سانجھا نہیں ہے ؟ 
گزارش یہ ہے کہ یہ نعرہ بازی کا کھیل نہیں ہے ۔ آپ نعرہ بازی کا میچ کھیلنے نہیں نکلے ہیں۔آپ کی تنظیم ایک سیاسی تنظیم نہیں بلکہ سماجی تحریک ہے ۔ آپ کے کارکنان کی کوئی سیاسی تربیت نہیں۔ ان کو قطعی علم نہیں کہ سیاسی معاملات کیسے حل ہوتے ہیں۔آپ کے مجمع میں ایسے جذباتی نوجوان شامل ہیں جن کو یہ علم نہیں کہ کرنل کے بعد فوج میں کونسا عہدہ ہے یا جیکب آباد بلوچستان میں پڑتا ہے یا سندھ میں۔ جب آپ جذباتی نعرے لگائیں گے تو اس کے بہت سے نقصانات ہوں گے ۔ کل آپ کے مجمع میں چندجذباتی نوجوان کہیں گے کہ ہم لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔ ترسوں ایک گروہ الگ کھڑا ہو جائے گا کہ مذاکرات نہیں کریں گے ۔چند جاہل پہلے ہی آپ کے جلسے میں لسانی نفرت کا اظہار کر چکے ہیں۔ان جاہلوں نے انسانوں کو ہمیشہ پشتون، پنجابی، سندھی یا بلوچ کی نظر سے ہی دیکھا ہے ۔دوسرا نقصان یہ ہو گا کہ آپ جن اداروں سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں یا جن اداروں سے مطالبات رکھتے ہیں ان میں آپ، اپنے لئے ایک بے معنی خلیج کو مزید بڑھاوا دیں گے جس کے اچھے ثمرات نہیں نکلیں گے ۔ دنیا کی ہر تحریک پر نظر ڈالیں، مسائل کا حل مذاکرات کی ٹیبل ہی رہی ہے ۔ تیسرا نقصان یہ ہو گا کہ جو لوگ آپ کے خلاف اس وقت پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں ، وہ آپ کے چند نوجوانوں کے ریاست مخالف نعرے لگانے سے یہ پروپیگنڈا مزید تیز کریں گے کہ در اصل آپ ملک توڑنے کی سازش میں مصروف ہیں۔ 
آپ احباب کویہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس ملک کی ہر سیاسی جماعت، اس ملک کا ہر ادارہ، اس ملک کا ہر شہری ہمارا اپنا ہے ۔ اس ملک کے کسی ادارے یا سیاسی جماعت یا شہری سے بذات کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے ۔ اس ملک کے کسی شہری کو دوسرے شہری پر رنگ، نسل، زبان، یا عقیدے کی بنیاد پر امتیاز حاصل نہیں ہے ۔ 
کوئی بھی شہری دوسرے شہری کو کم یا زیادہ حب الوطن قرار دینے کا حق نہیں رکھتا۔آپ احتجاج کیجیے ۔ اپنے حق کے لئے آواز اٹھائیں۔ اپنے دردوں کا حساب مانگیں مگر احترام کے ساتھ، آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ۔ 
اک عرض تمنا منصب داروں سے بھی ہے ۔اگر منظور پشتین کسی مفروضہ این ڈی ایس، را یا کسی اور ایجنسی کے پے رول پر ہے جیسا کہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ، تو ازراہ کرم کیس داخل کیجیے ، ثبوت پیش کیجیے ، سزا دلوا لیجیے ، لیکن اگر منظور ایسے ہی غدار ہے جیسے عبدالولی خان غدار تھا، گل خان نصیر تھا یا حبیب جالب تھا۔ تو ازراہ کرم غداری کے اس مقدمے پر پچاس سال بیت چکے ہیں۔ اس کے مندرجات اب بہت پرانے ہیں اور اس کی عبارت اب ہر شہری کو ازبر ہے 
۔ ریاست ماں ہے ۔ ماں بچوں کی چیخ و پکار پر تڑپتی ہے سوتیلوں کا سا سلوک نہیں کرتی۔ منظور پشتین اور اس کے ساتھی ہمارے بھائی ہیں، یہ ہمارے بچے ہیں۔ ان کے دکھ ہمارے ہیں۔ اس ملک میں نیک محمد سے لے کر فضل اللہ تک ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کے ساتھ مذاکرات کئے گئے ۔ یہ تو چند نوجوان ہیں جن کے ہاتھوں میں بندوق نہیں پوسٹر ہیں۔ ماں جیسی ریاست کے کلیجے میں اتنا حوصلہ تو ہونا چاہیے کہ چند ناپسندیدہ نعروں پر بچوں کو پرایا نہ کرے ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں