میری جان کا جنم اور اصطبل میں بچوں کو جنم دیتی عورتیں

تحریر:عفت نویدہم نے تو کف و دامن میں خاک سمیٹ کر لاڑکانہ کی ان گلیوں میں قدم بھی رکھ دیا تھا جہاں ہما را بچپن بیتا، لیکن واٹس ایپ میں فیملی گروپ کی جانب سے جب کسی نے میرے منجھلے بیٹے کو ہیپی برتھ ڈے کا ایک میسیج بھیجا تو یاد آیا کہ آج تو اس کی سالگرہ ہے ۔ 14 اپریل 1993 ء جب اس کا جنم ہوا اور مجھے نئی زندگی ملی۔ یادوں کی نگری میں ہلچل مچی ہے ۔ ان دنوں احمد ایک ایڈور ٹائزنگ کمپنی میں کریٹیو ڈائریکٹر تھے ۔ ان کی مدّتِ ملازمت کو دوماہ ہی ہوئے تھے ۔ فکری اور کچھ مالی مسائل کی وجہ سے اعصابی تناؤ کا شکار تھے ، کسی بھی دن وہ نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھ سکتے تھے یا انہیں نکالا جا سکتا تھا،لیکن ا نہیں اس کیفیت میں بھی احساس تھا کہ بہت سے پیسوں کی کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ اس لیے جیسے تیسے جارہے تھے مگر وہاں کیسے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے نہیں معلوم۔
ہم کراچی کے ایک غریبانہ علاقے میں ایک کمرے کے مکان میں رہ رہے تھے ۔ ہمارے مالک مکان کی بیٹی کی دو ماہ قبل ہی زچگی ہوئی تھی۔ وہ لوگ دائیوں سے یہ کام گھر پر کروا لیا کرتے تھے ۔ میرے زیورات اور جمع پونجی پہلے بیٹے کی پیدائش اور بعد کے آنے والے خرچوں میں ختم ہو چکی تھی۔ چھ ماہ پہلے ہی کینسر کی بیماری کے سبب والد کا انتقال ہوا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی، کہ کسی کو ہمارے مالی حالات کا علم ہو، لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی ٹوہ لینے کی غرض سے آہی جا تا تھا۔ ایک روز میری پھپھو گھر آئیں چاروں طرف نظریں دوڑائیں اور بولیں : اتنی پڑھی لکھی ہو کر کیسے رہتی ہو۔ پھپو اتنی پڑھی لکھی ہوں اس لیے ایسے رہتی ہوں۔ ہم نے جواب دیا۔
اپنے مالی حالات کی وجہ سے میں نے اپنے بچے کو اس محلے کی دیگر خواتین کی طرح گھر میں ہی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ رات کو جب طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی تو احمد باجی کو بلا لائے ۔ باجی کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ہم نے کسی ہاسپٹل میں اپنا نام ہی نہیں لکھوایا تھا۔ ہم نے انہیں بتا یا کہ دائی کا انتظام ہو گیا ہے ۔ خوف زدہ ہو گئیں۔
ہم نے کہا کچھ نہیں ہوتا اس علاقے میں دائیوں کے ہاتھوں بچے پیدا ہونا عام سی بات ہے ۔ باجی نے کہا امی نے پیسے بھجوائے تھے ۔ تم کیا سمجھتی ہو تمہارے حالات کا ہمیں علم نہیں۔ ہم نے کہا یہ پیسے بعد میں بھی کام آئیں گے، لیکن دل میں یہ خیال ضرور آیا کہ اگر یہ بات پہلے گوش گزار کر دی جاتی تو شاید اپنی جان کو ہم خطرے میں نہ ڈالتے ۔
خیر مغرب کے وقت صاحب زادے اس دنیا میں تشریف لے آئے ۔ آٹھ سو روپے لے کردائی رخصت ہوئی۔ باجی کی رات گئے آنکھ لگ گئی۔ ہمیں باتھ روم جانا تھا۔ احمد بھی سو رہے تھے ۔ اٹھ کر کسی طرح قدم بڑھائے ، آہتہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے کہ پیروں تلے زمین ہی غائب ہو گئی۔
آنکھ کھلی توایمبو لنس شور مچاتی جارہی تھی۔ دائیں جانب باجی بیٹھی تھیں، آنکھیں کھلی دیکھیں تو انہوں نے اپنی آنکھیں نکال لیں۔ ہمیشہ اپنی من مانی کرتی ہو۔ ہم پٹ سے فوراً بے ہوش ہو گئے ۔ ایمبولنس ایک ہاسپٹل سے دوسرے ہاسپٹل جا رہی تھی۔ لیکن اس خراب کیس کو لینے کے لیے کوئی نجی ہاسپٹل تیار نہیں تھا۔ جناح پہنچے تو اسٹریچر پر ڈال کر ہمیں زچہ بچہ وارڈ میں پہنچا دیا گیا۔ نیند میں خلل کی وجہ سے کئی نرسیں چنگھاڑ رہی تھیں۔ اب تک کافی مقدار میں خون بہنے کی وجہ سے ، ہم دوبارہ سچ مچ بے ہوش ہو چکے تھے ۔
کچھ عجیب طرح کی آوازیں کانوں سے ٹکرا رہی تھیں آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ نومولود بچوں کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں ادھر ادھر گردن گھمائی۔ کوئی اصطبل تھا شاید بھیڑ، بکریوں، گا ئے بھینسوں کی طرح عورتیں ڈکرا رہی تھیں۔
قیا مت کا منظر دیکھنے کے لیے مرنے ضرورت نہیں بس یہاں بچہ پیدا ہوتے دیکھ لیجیے ۔ خواتین کو برہنگی کا ہوش تھا، نہ کوئی شرم لحاظ، چیخ وپکار جاری تھی۔ ہر عورت اپنا مٹکہ خالی کر کے درد سے نجا ت پانا چا ہتی تھی۔ خون آلود تازہ تازہ بچے ، بعض خواتین کی زچگی میں ان ہی کے ساتھ آئی ہوئی خواتین مدد کر رہی تھیں۔ آنول نال کاٹنے کے لیے شاید قینچیاں بھی کم تھیں، کہیں زور لگاؤ کی تاکید کی جا رہی تھی، اور کہیں بچہ خود ہی کوئی مدد نہ ملنے پر باہر آگیا تھا۔ اس وارڈ میں تقریباً تیس عورتیں ہوں گیں۔ لیڈی ڈاکٹرز چار یا پانچ اور اتنی ہی نرسیں۔
نرس کے چیخنے اور ڈانٹنے ڈپٹنے کی وجہ سے عزرائیل ہسپتال کے دروازے سے ہی زندگی کا مزا چکھنے کی رعائت دے کر الٹے قدموں لوٹ گئے ۔
میرا تو خیال ہے ، وہاں سے وہ روز ایسے ہی خالی ہاتھ غریبوں کو بچہ پیدا کرنے کے جرم میں زندگی کی سزا دے کر خالی ہاتھ لوٹتے ہوں گے ۔ ہائے رے غریب، اس کامل ایمان کے ساتھ بچہ پیدا کرتے ہیں کہ وہ اپنا رزق ساتھ لایا ہے ۔ جب کہ آنے والا اپنے دوسرے بہن بھائیوں کے حصے کا کھا اور ماں کا خون پی کر قدموں قدموں چلنا شروع کرتا ہے ، اور گھر کی مٹی کھا کر اپنے پیٹ کے کیڑوں کی بھی بھوک کا انتظام کرتا ہے ۔ باپ پینتیس کی عمر میں پچاس اور پچاس کی عمر میں پچانوے کا ہو کر اپنے سب سے بڑے بچے کو رزق کی ذمے داری سونپ کر طبعی موت مر جا تا ہے ۔ گویا دنیا میں آنے کا مقصد اپنا پیٹ بھرنے اور عورت کا پیٹ بڑھانے کے سوا کچھ نہیں۔
ہوش میں آتے ہی ہمیں کچھ خالی پن کا احساس ہوا۔ رشی کا خیال آیا۔ ڈیڑھ سال کا رشی باہر باپ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر ساری تکلیف ختم ہو گئی۔ رشی کو گلے لگایا تب خالی پن کی کیفیت مزید بڑھ گئی۔ دماغ قابو میں نہیں تھا۔ احمد سے پوچھا۔ مجھے کیا ہوا تھا۔
رامش۔ احمد مسکرا کر بولے ۔
رامش ہاں ہم دونوں نے اپنے دوسرے بچے کا یہ ہی نام طے کیا تھا۔ میں بے چین ہو گئی۔ کہاں ہے رامش؟
فکر مت کرو وہ خالہ کے پاس ہے ۔ ہم اپنی مالکہ مکان کو خالہ کہتے تھے ۔ باجی ابھی ابھی اس کے پاس گئی ہیں۔
کیسا ہے رامش
وہ بالکل ٹھیک ہے ۔ بہت خوب صورت اور پیارا ہے ۔
رامش میری جان۔ جنم دن مبا رک ہو، تمہیں بھی اور مجھے بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں